سوال
ہمارے پاس بائیس (22) کیرٹ سونا 51.763 تولہ موجود ہے، جو یکم جنوری 1980ء سے ہماری والدہ صاحبہ کی ملکیت میں ہے۔ اس سونے کی زکوٰۃ یکم جنوری 1980ء سے یکم جنوری 2010ء تک معلوم کرنی ہے ۔اس کے علاوہ چوبیس (24) کیرٹ سونا 10 تولہ ہے، جو یکم جنوری 2000ء سے والدہ صاحبہ کی ملکیت میں آیا۔ اس سونے کی زکوٰۃ یکم جنوری 2000ء سے یکم جنوری 2010ء تک معلوم کرنی ہے۔نیز 43,655سنگاپور ڈالر ، جو یکم اگست 2009ء سے ہمارے والد صاحب کی ملکیت میں آیا 4، نومبر 2021 کو والد صاحب انتقال ہو گیا انکی زکوة بھی نہیں ادا کی گئی ۔ان میں سے:12,000 سنگاپور ڈالر مورخہ 6 اکتوبر 2023ء کو استعمال ہو گئے،اور 3,000 سنگاپور ڈالر مورخہ 12 جون 2025ء کو خرچ ہو گئے بقیہ بھی کچھ خرچ ہوگئے ہیں ۔اس وقت ہمارے پاس باقی رقم 28,655 سنگاپور ڈالر ہے۔ اس رقم کی زکوٰۃ معلوم کرنا مطلوب ہے۔
نوٹ:ورثاء:بیوی ،دو بیٹے
سائل:محمد ذیشان بن عبد الستار
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ آپ کی والدہ صاحبہ کے پاس یکم جنوری 1980 سے سونا موجود ہے۔ چونکہ وہ صاحب نصاب ہیں، اس لیے ان پر زکوة ادا کرنا واجب ہے۔ اتنے سالوں کی زکوة انہوں نے ادا نہیں کی، اس لیے یہ تاخیر کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ سب سے پہلے اس بارے میں اللہ جلّ وعلا سے سچے دل سے توبہ و استغفار کریں، اور فوری طور پر جتنی زکوة ان پر لازم ہے، وہ ادا کریں۔اس سونے پر زکوة روپوں کی صورت میں1159344 روپے بنتی ہے۔
بقیہ سنگاپور ڈالر آپ کے والد صاحب کی ملکیت میں تھے اور یہ 4 نومبر 2021 تک ان کے پاس رہے۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت، جتنے سال یہ سنگاپورڈالر ان کے پاس تھے، صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے والد پر ان کی زکوة ادا کرنا واجب تھا، مگر انہوں نے اپنی زندگی میں یہ زکوة ادا نہیں کی۔شرعاً، اگر میّت ایسا مال چھوڑ جائے جس کی زکوة ادا نہ کی گئی ہو اور مرنے والے نے وصیت میں زکوة کی ادائیگی کا ذکر نہ کیا ہو، تو وارثوں پر اس کی زکوة ادا کرنا لازم نہیں ہوتا۔ البتہ اگر ورثاء اپنی رضا و خوشی سے میت کی طرف سے وہ زکوة ادا کرنا چاہیں، تو ادا کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے بدلے میت کی بخشش و مغفرت فرمائے، کیونکہ اللہ جلّ وعَلا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔
والد صاحب کے انتقال کے بعد جو ترکہ بچا، اس میں دونوں بیٹوں اور بیوی کا حصہ شامل تھا۔ اس لحاظ سے 43655 سنگاپور ڈالر میں یہ تینوں ورثاء اپنے شرعی حصے کے مطابق شریک ہیں۔ جب 29 ربیع الاول 1444ھ کو اس رقم پر ایک سال مکمل ہوا، تو ان پر زکوة لازم ہوگئی۔چونکہ وہ صاحب نصاب ہیں اور زکوة ادا نہیں کی گئی، یہ تاخیر کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ اس بارے میں اللہ تعالی سے توبہ و استغفار کریں اور فوری طور پر جتنی زکوة لازم ہے، ادا کریں۔ان ڈالروں پر زکوة کی تفصیل:والد صاحب پر: 11437.68 سنگاپور ڈالر،والدہ صاحبہ پر1291.584،ہر بیٹےپرعلیحدہ علیحدہ1422.67دونوں بیٹوں پر مجموعی زکوة2845.34ڈالربنتی ہے۔
تفصیل مسئلہ :
اولاً:زکوة میں قمری یعنی اسلامی سال کا اعتبار ہوتا ہے شمسی سالوں کا نہیں ۔اگر قمری سال کی بجائے شمسی سال میں تاریخ یاد ہو تواسےقمری سال میں منتقل کریں گے ۔پھر اسی قمری تاریخ سے نصا ب کا سال شروع کریں گے ۔آپ نے شمسی سال میں تاریخ یکم جنوری 1990 کی دی اس کی اسلامی تاریخ 03جمادی الثانی 1410بنتی ہے ۔
نوٹ : اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ہے ۔