سونے پر گزشتہ اکتیس سالوں کی زکوۃ کا حکم
    تاریخ: 18 فروری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 801

    سوال

    یکم جنوری 1995ء سے اب تک ہمارے پاس 98 تولہ سونا (22 کیرٹ) موجود ہے، اور اس کے علاوہ 20 تولہ سونا (24 کیرٹ) بھی یکم جنوری 1990ء سے یکم جنوری 2000ء تک ہمارے پاس رہا۔ ان سب کی زکوٰة ادا نہیں کی گئی۔ براہِ مہربانی بتائیں کہ اس سونے کو رکھنے پر ہم پر کتنی زکوٰة لازم ہے؟والدہ پر جو زکوة لازم ہوئی اسے بھی ادا کرنا چاہتے ہیں ۔

    نوٹ : سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا 98 تولہ اور مزید 20 تولہ سونا بھی سائل کی والدہ کاتھا۔ 30 ذی الحج 1429 ھ کو والدہ کا انتقال ہوا زکوة ادا کرنے کی وصیت بھی نہیں کی ،ان کے ورثاء میں سے صرف دو بیٹے تھے ان کا شوہر اور والدین پہلے انتقال کر گئے تھے والدہ کے پاس انتقال تک یہ سونا رہا لیکن ضرورت سے زائد کوئی رقم نہیں تھی صرف یہی سونا تھا ،باقی دو بیٹو ں کے پاس ضرورت و حاجت سے زائد کچھ رقم رہتی تھی ۔ سائل :عبد الرشید یو،سف : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سونا والدہ کی ملکیت میں تھا اور یہ 29 ذی الحج 1429ھ تک اُن کی ملکیت میں رہا، پھر والدہ کا انتقال ہوگیا۔ جتنے سال سونا اُن کے پاس رہا، صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے والدہ پر اُس کی زکوٰة ادا کرنا لازم تھا، مگر انہوں نے اپنی زندگی میں یہ زکوٰة ادا نہیں کی۔اگر میّت ایسا مال چھوڑ جائے جس کی زکوٰة ادا نہ کی گئی ہو اور مرنے والے نے زکوٰة کی ادائیگی کی وصیت بھی نہ کی ہو، تو شرعاً وارثوں پر اس کی زکوٰة ادا کرنا لازم نہیں ہوتا۔ البتہ اگر ورثاء اپنی رضا و خوشی سے میت کی طرف سے وہ زکوٰة ادا کرنا چاہیں تو ادا کر سکتے ہیں ۔ امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے بدلے میّت کی بخشش و مغفرت فرمائے، کہ اللہ تبارک و تعالیٰ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔

    جب والدہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے جو ترکہ چھوڑا، اُس میں دونوں بیٹوں کا حصہ تھا، لہٰذا 98 تولہ سونے میں سے ہر بیٹے کے حصے میں 49 تولہ سوناآیا۔ جب ہر بیٹا 49 تولہ سونے کا مالک بن گیا ، تو 29 ذی الحج 1430ھ کو اس سونے پر سال گزرنے کی وجہ سے ان پر زکوة لازم ہوگئی لیکن انہوں نے صاحب نصاب ہونے کے با وجود اس سونے کی زکوة ادا نہیں کی لہذا یہ تاخیر کرنا گناہ کبیرہ ہے ، اس بارے اللہ تعالی سے توبہ و استغفار کریں اور اور فوری طور پر جتنی زکوة ان پر لازم ہے وہ ادا کریں ۔اس سونے کی آپ کی والدہ پر روپوں کی صورت میں 270942روپے زکوة بنتی ہے ۔ہر بھائی پر علیحدہ علیحدہ 1619381 روپے زکوۃ بنتی ہے دونوں بیٹوں مجموعی زکوة 3238762 روپے بنتی ہے ۔ والدہ اور آپ دو بھائیوں کی کل مجموعی زکوة روپوں کی صورت میں 3509704روپے زکوة بنتی ہے ۔

    تفصیل مسئلہ :

    اولاً:زکوة میں قمری یعنی اسلامی سال کا اعتبار ہوتا ہے شمسی سالوں کا نہیں ۔اگر قمری سال کی بجائے شمسی سال میں تاریخ یاد ہو تواسےقمری سال میں منتقل کریں گے ۔پھر اسی قمری تاریخ سے نصا ب کا سال شروع کریں گے ۔آپ نے شمسی سال میں تاریخ یکم جنوری 1990 کی دی اس کی اسلامی تاریخ 03جمادی الثانی 1410بنتی ہے ۔

    ثانیاً:سابقہ سالوں کی زکوة نکالنے کاطریقہ یہ ہے کہ جب سے بندہ صاحب نصاب ہو اتب سے سال پورا ہونے تک اس پر زکوة واجب ہوگئی ہے تو اسی دن جو سونے کی قیمت ہو اس کا حساب لگا کے جو قیمت بنتی ہے اس کا چالیسوا ں حصہ زکوة کے لیے نکالاجائے گا۔ یہ ایک سال کی زکوۃ کی ادائیگی ہوجائے گی۔جو ادا کیا اسکو نکال کر باقی جتنا بچے اس میں سے بعد والے سال کی زکوۃ نکالیں ، یہ دو سال کی ادائیگی ہوگئی تیسرے سال کی زکوۃ ادا کرتے وقت پچھلے دوسال کی ادائیگی کے مقدار منہا یعنی کٹوتی کردے اور باقی جو بچے اسکا چالیسواں حصہ زکوۃ ادا کریں اسی ترتیب سے ہرسال کی زکوۃ ادا کرتے رہیں حتیٰ کہ جتنے سالوں کی زکوۃ لاز م ہے وہ سب ادا ہوجائے ۔

    ثالثاً:زکوة نصاب میں فرض ہوتی ہے عفو میں نہیں عفو سے مراد وہ مقدار ہے جو نصاب کے پانچویں حصے سے کم ہو مثلاً ساڑھے سات تولے سونا یہ نصاب ہے اس کا پانچواں حصہ 1.5 تولہ سونا بنتا ہے تو کسی کے پاس 9 تولہ سے کم ہے تو زکوة صرف ساڑھےسات تولہ میں لازم ہوگی اگر 9 تولہ ہے تو 7.5 تولہ سے زائد 1.5 تولہ میں بھی زکوة لا زم ہوگی ۔اور ایک خمس سے دوسرے خمس تک بھی معاف ہے مثال کے طور پر 7.5 تولہ کے دو خمس 3 تولہ بنتے ہیں تو اگر کسی کے پاس 10 تولہ سونا ہے تو پہلے خمس میں تو زکوة ہوگی یعنی 9 تک باقی ایک تولہ میں نہیں کیونکہ خمس سے کم ہے ۔

    نوٹ:اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ۔