جون جولائی کی تنخواہ پر مخصوص پالیسی کا حکم

    june july ki tankhwah par makhsoos policy ka hukum

    تاریخ: 13 جولائی، 2026
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 1614

    سوال

    ہمارا ایک تعلیمی ادارہ (اسکول) ہے جس میں ہر سال جون اور جولائی کی گرمیوں کی تعطیلات ہوتی ہیں۔ ادارہ اپنے تدریسی و انتظامی عملے کی تعطیلات کی تنخواہ کے متعلق ایک مستقل پالیسی مرتب کرنا چاہتا ہے، جو کہ مندرجہ ذیل ہے:

    (۱) جو مدرس یا اسٹاف مئی کے اختتام تک کم از کم چھ ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ ملازمت مکمل کر چکے ہوں، انہیں جون اور جولائی دونوں مہینوں کی تنخواہ دی جائے۔ (۲) جو مدرس یا اسٹاف مئی کے اختتام تک تین ماہ ملازمت مکمل کر چکے ہوں، انہیں تعطیلات کے دوران صرف ایک ماہ (جون یا جولائی) کی تنخواہ دی جائے۔ (۳) جو مدرس یا اسٹاف مئی کے مہینے میں تین ماہ سے کم کا عرصہ ہوا ہے، انہیں صرف مئی کے کام کی تنخواہ دی جائے، جبکہ جون اور جولائی کی تعطیلات کی تنخواہ نہ دی جائے۔

    براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا مذکورہ پالیسی شرعا درست ہے؟کیا ادارہ ابتدا ہی سے تقرری کے وقت ایسی شرط مقرر کر سکتا ہے؟اجارہ اور ملازمت نیز عرف کے شرعی اصولوں کی روشنی میں اس سلسلے میں شریعت کی کیا رہنمائی ہے؟

    سائل:عبد اللہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ پالیسی شرعاً درست ہے۔

    اصولی اعتبار سے مدرسین اجیر خاص ہوتے ہیں اور یہ اجیر تسلیمِ نفس سے مستحقِ اجرت ہوتا ہے۔ پس جس دن غیر حاضر ہوا اس دن کی تنخواہ کا مستحق نہیں ہوگا۔ البتہ تدریس ایسا معاملہ ہے جہاں ہر دن درس طبیعت پر شاق ہے۔ پس ایسے میں عرفاً کچھ چھٹیاں طے پائیں، جن میں ہفتے میں ایک دن اور دینی جامعات میں ماہ ِرمضان المبارک ، جبکہ ہمارے اسکولنگ سسٹم میں جون جولائی کی چھٹیوں کی رعایت دی گئی۔ پس ان ایام میں چھٹیوں کے باوجود مدرسین کو تنخواہ دی جاتی ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق پوچھی گئی پالیسی بھی اسکولوں میں رائج ہے، جہاں 6 ماہ مدّتِ ملازمت والے مدرس کو جون جولائی دونوں، 3 ماہ والے کو ایک ماہ اور 3 ماہ سے کم والے کو جون جولائی کی چھٹیوں کی تنخواہ نہیں دی جاتی۔ لہذا عرف کا اعتبار کرتے ہوئے کوئی ادارہ ایسی پالیسی رکھتا ہے اور نیا مدرس اس پالیسی سے رضامند ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

    یاد رہے کہ چھٹیوں میں عرف کا اعتبار اس وقت ہے جب صراحت موجود نہ ہو،اسی لیے جہاں باقاعدہ شرط نہ ہو اس کیلئے فقہاء نے المعروف كالمشروط کا اصول بیان فرمایا۔ پس اگر کہیں عرف رائج ہو لیکن مؤجر معاہدہ میں خلافِ عرف صراحت کردے، اور اجیر اسے قبول کرے، تو یہ فی نفسہ جائز ہے۔ البتہ اگر اس عرف کی مخالفت میں استحصال لازم آتا ہو تو ایسا معاہدہ بنانا ظلم ضرور ہوگا، جیسا کہ ہمارے ہاں ملازمین کو کم تنخواہ دیے جانے سے استحصال لازم آتا ہے، لیکن چونکہ مجبوری ہوتی ہے، اسے لئے قبول کرلیا جاتا ہے، کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا اچھا۔ صورت مسؤولہ میں مذکورہ پالیسی چونکہ ابتداءً رکھی جارہی ہیں اور اس سے استحصال بھی لازم نہیں آتا، لہذا اس میں کوئی حرج نہیں۔

    دلائل و جزئیات:

    اجارہ میں فریقین پر شرائط کی پابندی لازم ہے، شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں: "( ذكر عن عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - أنه قال حين وضع رجله في الغرز إن الناس قائلون غدا ماذا قال عمر، وإن البيع عن صفقة، أو خيار والمسلمون عند شروطهم)... وفيه دليل وجوب الوفاء بالمشروط إذا كان الشرط صحيحا شرعا". ترجمہ: (حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو فرمایا: لوگ کل یقیناً کہیں گے کہ عمر (رضی اللہ تعالی عنہ) نے کیا کہا، اور (جان لو کہ) بیع سودے سے ہوتی ہے یا اختیارِ شرط سے، اور مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں۔اور اس روایت میں دلیل ہے کہ جب شرط شرعی طور پر صحیح ہو تو مشروط کو پورا کرنا واجب ہے۔ (المبسوط للسرخسی، باب انتقاض الإجارة، 16/2، دار المعرفۃ بیروت)

    اجارہ میں اگر صراحت نہ ہو تو عرف کا اعتبار ہوگا، الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "والأصل أن الإجارة إذا وقعت على عمل فكل ما كان من توابع ذلك العمل ولم يشترط على الأجير في الإجارة فالمرجع فيه إلى العرف. كذا في المحيط". ترجمہ: اور قاعدہ یہ ہے کہ جب اجارہ کسی کام پر واقع ہو، تو جو کچھ بھی اس کام کے لوازمات میں سے ہو ، اگرچہ اجارے میں اجیر پر اس کی شرط نہ لگائی گئی ہو، تو اس میں عرف کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اسی طرح المحیط میں ہے۔ (الفتاوى الهندية ، کتاب الجارۃ، الباب العاشر،4/ 432، دار الفکر)

    چھٹیوں کی اجرت سے متعلق علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں:"قال الفقيه أبو الليث رحمه الله: ومن يأخذ الأجرة من طلبة العلم في يوم لا درس فيه أرجو أن يكون جائزا".ترجمہ:فقیہ ابواللیث رحمہ اللہ نے فرمایا جو چھٹی والے دن کی فیس بچوں سے لیتا ہے میں امید کرتا ہوں کہ یہ جائز ہو ۔ ( المحیط البرھانی ، کتاب الوقف ،الفصل الثامن عشر ،6/190،دارالکتب العلمیۃ بیروت )

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اصل کلی شرعی یہ ہے کہ اجیر خاص پر حاضر رہنا اور اپنے نفس کو کار مقرر کے لئے سپرد کرنا لازم ہے جس دن غیر حاضر ہوگا اگرچہ مرض سے اگرچہ اور کسی ضرورت سے اس دن کے اجر کا مستحق نہیں مگر معمولی قلیل تعطیل جس قدر اس صیغہ میں معروف ومروج ہو عادۃً معاف رکھی گئی ہے اور یہ امر باختلاف حاجت مختلف ہوتا ہے درس تدریس کی حاجت روزانہ نہیں بلکہ طلبہ بلا تعطیل ہمیشہ پڑھے جائیں تو قلب اس محنت کا متحمل نہ ہو لہذا ہفتہ میں ایک دن یعنی جمعہ اور کہیں دو دن منگل جمعہ تعطیل ٹھہری،اور رمضان المبارک میں مطالعہ کرنا سبق پڑھنا یاد کرنا دشوار ہے،وقد قال سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان القلب اذااکرہ عمی یعنی ہمارے آقا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا ہے کہ جبر کی صورت میں دل بینا نہیں رہتا۔لہذا اسی صیغہ میں رمضان مبارک کی چھٹی بھی معمول ہوئی‘‘۔ (فتاوی رضویہ ، 16/208، رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    امام اہلسنت رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:’’تعطیلات معہودہ مثل تعطیل ماه مبارک رمضان و عیدین وغیر ہا کی تنخواہ مدرسین کو بیشک دی جائے گی فان المعهود عرفا كمشروط مطلقا ‘‘۔ (فتاوی رضویہ ، 19/338، رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    الاشباہ والنظائرمیں ہے: "إنما تعتبر العادة إذا اطردت أو غلبت... ومنها البطالة في المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم. والمسألة على وجهين: فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي، وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ في يوم البطالة؛ لأنه يستريح لليوم الثاني. وقيل: لا يأخذ (انتهى) . وفي المنية: القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، واختاره في منظومة ابن وهبان، وقال: إنه الأظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدارس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة يكون للمطالعة والتحرير عند ذي".ترجمہ:(شرعی احکامات میں لوگوں کی) عادت کا اعتبار اس وقت ہے جب وہ غالب آجائے۔اس میں سے مدارس کی تعطیلات جیسے عید کے دنوں اور یوم عاشورہ اور ماہ رمضان کی چھٹیاں درس فقہ میں اس کا حکم فقہاء کے کلام میں صراحت نہیں دیکھا۔مسئلہ کی دو صورتیں ہیں اگر چھٹیاں مشروط ہوں تو مقررہ تنخواہ سے کچھ کٹوتی نہیں ہونی چاہئے ورنہ پھر ان تعطیلات کے حکم کو قاضی کی تعطیلات سے ملحق کر دیا جائے ۔اور قاضی کے لئے بیت المال سے جو وظیفہ ملتا ہے اس کو تعطیلات کے ایام میں لینے کے بارے میں اختلاف ہے پس محیط میں ہے چھٹی کے روز کی تنخواہ لے گا کیونکہ چھٹی آئندہ دن کے لئے راحت حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے بعض نے کہا نہیں لے گا۔ منیہ میں ہے اصح روایت کے مطابق چھٹی کے روز قاضی بیت المال سے اپنی کفایت کا مستحق ہے ،منظومہ ابن وہبان میں اس کو اختیار کیا ہے اور فرمایا یہ اظہر ہے تو مناسب ہے کہ مدارس میں بھی یہی حکم ہو کیونکہ چھٹی کا روز آرام کے لئے ہوتا ہے اور در حقیقت اہل ہمت کے نزدیک مطالعہ اور تحریر کے لئے ہوتا ہے۔(الاشباہ والنظائر،القاعدۃ السادسۃ، المبحث الثانی،1/81، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

    علامہ شامی رحمہ اللہ شرح عقود میں فرماتے ہیں:"والعرف فی الشرع لہ اعتبار... لذا علیہ الحکم قد یدار".ترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے.. . اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔ (شرح عقود رسم المفتی،ص: 212)

    علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"القاعدة السادسة: العادة محكمة... واعلم أن اعتبار العادة والعرف يرجع إليه في الفقه في مسائل كثيرة حتى جعلوا ذلك أصلا".ترجمہ:چھٹی چیز عادت محکمہ ہے جان لیجئے عرف کی طرف کثیر مسائل میں رجوع کیا جاتا ہے یہاں تک کہ علماء نے اسے اصل قرار دیا ہے ۔( الأشباء والنظائر،1/79، دارالکتب العلمیۃ بیروت)۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 محرم الحرام 1448ھ/1 جولائی 2026ء