جمعہ قائم کرنے کے لیے پنجگانہ نماز ضروری نہیں

    Jumuah Qaim Karne Ke Liye Panjgana Namaz Zaroori Nahin

    تاریخ: 27 جولائی، 2026
    مشاہدات: 20
    حوالہ: 1664

    سوال

    ایک مسجد میں جو دیہات کی ایک جامع مسجد ہے اس میں نماز فجر تو باقاعدگی سے جماعت کے ساتھ ہوتی ہے اور اکثر اور بیشتر باقی نمازیں بھی جماعت کے ساتھ کبھی ہوتی ہیں کبھی رہ جاتی ہیں تو آپ یہ بتائیں کہ کیا اس مسجد میں نماز جمعہ ہوگی یا نہیں ہوگی کہ جمعہ تو پہلے ہوتا ہے کہ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس میں جمعہ نہیں ہوگا کیونکہ یہاں کچھ حضرات کہتے ہیں کہ جس مسجد میں پانچ وقت باجماعت نماز نہ ہو اس میں جمعہ نہیں ہوتا اپ اس مسئلے میں تحقیق کر کے ہمیں بتائیں۔ جزاکم اللہ خیرا

    سائل :محمد نعمان خان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جمعہ کی ادئیگی کے لیے چھ شرائط ہیں :(1)مصر یا فنائے مصر (2)سلطان یا نائب سلطان جسے جمہ قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہو(3)ظہر کا وقت (4)خطبہ (5)جماعت یعنی امام کے علاوہ تین مرد(6)اذن عام

    البتہ دیہات میں جمعہ کے حوالے سے اصل مذہب تو فقہاء احناف کا یہ ہے کہ جائز نہیں کیونکہ جمہ کے لیے مصر یا فنائے مصر ہونا شرط ہےجیسا کہ ذکر کیا گیا لیکن فی زمانہ چونکہ لوگوں میں دینی معاملات میں تساہل، سستی اور رغبت کا نہ ہونا بہت ہی زیادہ ہو چکا ہے لہذا اب اگر گاؤں ودیہات کے بارے میں ہم یہ فتوٰی دیں کہ وہاں جمعہ جائز نہیں تو جو لوگ جمعہ میں آکر چند ایک ،دو باتیں دین کے حوالے سے سن لیتےہیں اس سے بھی محروم ہوجائیں گے ، جبکہ امام ابویوسف سے ایک روایتِ نادرہ موجود ہے کہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد، عاقل، بالغ، ایسے تندرست کہ جن پر جمعہ فرض ہو آباد ہوں اور وہاں کی بڑی مسجد میں تمام جمع ہوں تو نہ سماسکیں حتٰی کہ انہیں جمعہ کے لئے جامع مسجد بنانی پڑے وہ صحت جمعہ کے لئے شرط سمجھی جائےگی۔

    ان شرائط کے علاوہ مسجد یا ایسی جگہ کی کوئی شرط نہیں کہ جہاں نمازِ پنجگانہ کی ادائیگی لازم و ضروری ہے۔لہذا صورت مسئلہ میں اگر امام ابو یوسف ر حمۃ اللہ تعالٰی روایت کردہ مصر کی تعریف پائی جاتی ہے تو اس میں مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے جو حضرات یہ باتیں کہہ رہے ہیں کہ جس مسجد میں پانچ وقت نماز نہ ہو اس میں جمعہ جائز نہیں یہ جہالت و کم علمی پر مبنی ہے ۔

    نور الایضاح میں جمعہ کی شرائط کے متعلق علامہ شرنبلالی لکھتے ہیں :’’ ويشترط لصحتها ستة أشياء:١ - المصر أو فناؤه.٢والسلطان أو نائبه.٣ - ووقت الظهر فلا تصح قبله وتبطل بخروجه.٤ - والخطبة: ٥ - والإذن العام.٦ - والجماعة وهم ثلاثة رجال غير الإمام ولو كانوا:١ - عبيدا. ٢ - أو مسافرين. ٣ - أو مرضى.ترجمہ: "نمازِ جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے چھ چیزوں کا پایا جانا شرط ہے:1.مصر یا اس کا فنا مصر2.سلطان یا اس کا نائب ۔3.ظہر کا وقت لہٰذا ظہر کے وقت سے پہلے جمعہ صحیح نہیں ہوتا، اور وقتِ ظہر نکل جانے سے جمعہ باطل ہوجاتا ہے۔4.خطبہ5.اذنِ عام6..جماعت؛ اور جماعت سے مراد امام کے علاوہ کم از کم تین مرد ہیں، اگرچہ وہ:غلام ہوں،یا مسافر ہوں،یا بیمار ہوں۔(نور الایضاح ، باب سجود التلاوة،ص:102، المكتبة العصرية)

    محقق علی الاطلاق علامہ ابن ہمام ہدایہ کی عبارت (فی مصلی المصر) کے تحت رقمطراز ہیں: والحكم غير مقصور على المصلى بل تجوز في جميع أفنية المصر : أي وإن لم يكن في مصلى فيها۔ترجمہ: یہاں حکم مصلے(جہاں پنچ وقتہ نماز ہوتی ہو۔) ہی پر مقصور نہیں ہے بلکہ پورے فنائے شہر میں جمعہ کی ادائیگی جائز ہے اگر چہ اُس جگہ میں کوئی جائے نماز نہ بنی ہو۔(فتح القدير على الهداية ، کتاب الصلاۃ،ج02،ص51 ،دار الفکر، لبنان)

    سلطان اگر اپنے گھر میں جمہ قائم کرے اور دروازہ کھول دے وہاں جمہ قائم کرنا جائز ہے اس بارے 'فتاوی ہندیہ ' میں ہے :’’ وَكَذَلِكَ السُّلْطَانُ إذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بِحَشَمِهِ فِي دَارِهِ فَإِنْ فَتَحَ بَابَ الدَّارِ وَأَذِنَ إذْنًا عَامًّا جَازَتْ صَلَاتُهُ شَهِدَهَا الْعَامَّةُ أَوْ لَمْ يَشْهَدُوهَا، كَذَا فِي الْمُحِيطِ. ترجمہ : اور اسی طرح بادشاہ اگر اپنی حشم کے ساتھ اپنے گھر میں جمعہ قائم کرنا چاہے، تو اگر وہ گھر کا دروازہ کھول دے اور عام اجازت دے دے تو اس کا نماز جمعہ قائم کرنا جائز ہے ، خواہ عام لوگ اس میں شریک ہوں یا نہ ہوں، اسی طرح المحیط میں ہے۔(فتاوی ہندیہ ،الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ج:1،ص:148،دار الفکر)

    سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں فرماتے ہیں: جمعہ کے لئے شہر یا فنائے شہر کے سوا نہ مسجد شرط ہے نہ بنا، مکان میں بھی ہوسکتا ہے میدان میں بھی ہوسکتا ہے اذن عام درکار ہے ۔(فتاوٰی رضویہ، ج 08، ص 444، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ” جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں، مکان میں بھی ہوسکتا ہے جبکہ شرائط جمعہ پائے جائیں اور اذن عام دے دیا جائے، لوگوں کو اطلاع عام ہو کہ یہاں جمعہ ہوگا اور کسی کے آنے کی ممانعت نہ ہو۔(فتاوٰی رضویہ، ج 08، ص 460، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    اصل مذہب یہ کہ دیہات میں جمعہ جائز نہیں اس بارے محررِ مذہبِ حنفی امام محمد بن حسن الشیبانی لکھتے ہیں : قلت أَرَأَيْت الْجُمُعَة هَل تجب على أهل السوَاد وَأهل الْقرٰی قَالَ لَا تجب الْجُمُعَة إِلَّا على أهل الْأَمْصَار والمدائن قلت أَرَأَيْت قوما من أهل السوَاد اجْتَمعُوا فِي مَسْجِدهمْ فَخَطب لَهُم بَعضهم ثمَّ صلى بهم الْجُمُعَة قَالَ لَا تجزيهم صلَاتهم وَعَلَيْهِم أَن يُعِيدُوا الظّهْر۔ترجمہ: (امام محمد فرماتے ہیں کہ )میں نے (امام اعظم سے عرض کی)آپ کی کیا رائے ہے دیہات اور بستی والوں پر جمعہ فرض ہے یانہیں؟ فرمایا جمعہ محض شہر کے لوگوں پر فرض ہے ۔ میں نے عرض کی اگر دیہات کے کچھ لوگ اپنی مسجد میں جمع ہوں اور ان میں سے ایک انہیں خطبہ دے پھر جمعہ کی نماز پڑھائے تو۔۔۔؟فرمایا : انکی نماز انکو کفایت نہ کرے گی اور ان پر ظہر کی نماز کا اعادہ لازم ہے۔(المبسوط للشیبانی، باب صلوۃ الجمعۃ ، جلد 1 ص 345)

    چناچہ عنایہ شرح ہدایہ میں امام ابو یوسف کی نادرالروایت منقول ہے: ''وعنہ ای عن ابی یوسف (انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لا کل من یسکن فی ذلک الموضع من الصبیان والنساء والعبید (فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلک) حتٰی احتاجوا الٰی بناء مسجد آخر للجمعۃ جاز''۔ ترجمہ:اور امام ابو یوسف سے یہ روایت ہے کہ جب وہ جمع ہوں یعنی جن پر جمعہ فرض ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو اس جگہ رہتے ہیں یعنی بچے ، عورتیں ، غلام ۔ اسکی سب سے بڑی مسجد میں تو وہاں سما نہ سکیں حتٰی کہ قیامِ جمعے کے واسطے دوسری مسجد کے محتاج ہوجائیں تو (ایسی جگہ میں جمعہ )جائز ہے۔( العنایۃ شرح الہدایۃ، باب صلوۃالجمعۃ جلد 2 ص 24 )

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے روایت نادرہ کی بنا جمہ جائز ہے: جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے۔(فتاوٰی رضویہ ، کتاب الجمعۃ، ج 8 ص 347)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:03 محرم الحرام 1448 ھ/19 جون 2026ء