جمعہ کے لیے اذن عام کی شرط کا مطلب
    تاریخ: 9 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 36
    حوالہ: 372

    سوال

    ایک ہسپتال میں نشے کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔اور وہاں پرپانچوں نمازوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔لیکن جمعہ کے حوالے سے دریافت کرنا تھا کہ وہاں پر اذن عام کی شرط مفقود ہے ۔وہ یوں کہ مریضوں کے بھاگ جانے کے ڈر سےیا کسی نشہ آور چیز کے مریضوں ک ملنے کے ڈر سے انتظامیہ کی جانب سے سخت پابندی ہے ۔عملہ کے علاوہ کسی شخص کو اندرآنے کی اجازت نہیں ۔توکیا ایسی صورت میں وہاں جمعہ قائم ہو سکتا ہے؟ ۔اذن عام کسی صورت بھی نہیں پایا جا رہا بلکہ دروازوں پر باقاعدہ تالے لگے ہوئے ہیں ،کسی کو بھی آنے کی بلکل اجازت نہیں ۔

    نوٹ :جن لوگوں نے وہاں جمعہ شروع کرنے کا حکم دیا ،ان کےبارے میں کیا حکم ہے؟

    سائل:محمد سلیم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں پابندی سے مقصود نمازیوں کو جمعہ سے روکنا نہیں بلکہ عام اوقات میں بھی یہ پابندی رہتی ہےجو کہ سوال میں بیان کی گئی علت کے پیش نظر ہے،اور یہ پابندی اس ادارہ کی مجبوری ہے۔

    اسی طرح وہ تمام ادارے جن میں سیکورٹی کے مسائل کا سامنا رہتا ہے ،جیسے حساس ادارے،فوجی چھاؤنیاں ،ایوان صدر ،ایوان ِ وذیر اعظم،گورنر ہاوسز۔اسی طرح بعض پوش علاقہ جات، کمپنیاں ۔ان تمام جگہوں میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔اور ان تمام ہی جگہوں میں تقریباجمعہ قائم ہوتا ہے ۔ان تمام جگہوں میں نماز جمعہ کے قیام میں اذن عام کی شرط اثر انداز نہیں ہو گی ۔اس لیےکہ ان تمام مقامات بالخصوص ما نحن مسئلہ میں اگر اس شرط کا اعتبار کریں تو جمعہ کی ادائیگی ممکن نہیں ہو گی ،تو وہ ہزاروں لوگ جو عرصہ دراز سےان جگہوں میں جمعہ ادا کر رہے ہیں ان سب پر نمازوں کا ااعادہ لازم آئے گا ۔جو کہ حرج عظیم ہے،مزیدیہ کہ خود اذن عام کی شرط نادر الروایہ کے قبیل سے ہے ۔ اس کےشرط ہونے میں بھی بعض فقہائے احناف کا اختلاف ہے ،جیسا کہ علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وَاعْلَمْ أَنَّ هَذَا الشَّرْطَ لَمْ يُذْكَرْ فِي ظَاهِرِالرِّوَايَةِ وَلِذَا لَمْ يَذْكُرْهُ فِي الْهِدَايَةِ بَلْ هُوَ مَذْكُورٌ فِي النَّوَادِرِ وَمَشَى عَلَيْهِ فِي الْكَنْزِ وَالْوِقَايَةِ وَالنُّقَايَةِ وَالْمُلْتَقَى وَكَثِيرٍ مِنْ الْمُعْتَبَرَاتِ۔اور جان لو کہ یہ(اذن عام کی) شرط ظاہر الروایہ میں مذکور نہیں،اسی وجہ سے صاحبِ ہدایہ نے اس کو ذکر نہیں کیا ،بلکہ یہ نادر الروایہ میں مذکور ہے،اور اسی پر کنز ،وقایہ، نقایہ اور ملتقی الابحر اور کثیر کتب معتبرہ میں (مصنفین) چلے ہیں ۔( رد المحتار على الدر المختار،بابالجمعہ جلد 02صفحہ152،دار الفکر بیروت)

    لہذا پوچھی گئی صورت میں ہمارے نزدیک مذکورہ جگہ کے ساتھ ساتھ وہتمام مقامات جہاں اس طرحکی صورت در پیش رہتی ہے،ان جگہوں میں نماز جمعہ اپنی دیگر شرائط کے ساتھ جائز ہے۔

    دلائل وجزئیات:

    علامہ حصکفی علیہ الرحمہ جمعہ کی ساتویں شرط(اذن عام )کے حوالے سے لکھتے ہیں: فَلَا يَضُرُّ غَلْقُ بَابِ الْقَلْعَةِ لِعَدُوٍّ أَوْ لِعَادَةٍ قَدِيمَةٍ لِأَنَّ الْإِذْنَ الْعَامَّ مُقَرَّرٌ لِأَهْلِهِ وَغَلْقُهُ لِمَنْعِ الْعَدُوِّ لَا الْمُصَلِّي، نَعَمْ لَوْ لَمْ يُغْلَقْ لَكَانَ أَحْسَنَ ك ۔ترجمہ :دشمن یا عادت قدیمہ کی وجہ سے قلعہ کا دروازہ بند کرنانقصان نہیں دے گا،اس لیے کہ اذن عام اپنے اہل کے لیے ثابت ہے،اور قلعہ کا بند ہونا دشمن کو روکنے کے واسطے ہے نہ کہ نمازی کے لیے۔ہاں البتہ اگر بند نہ کیا جائے تو یہ اور اچھا ہے۔( رد المحتار على الدر المختار،باب الجمعہ جلد 02صفحہ152،دار الفکر بیروت)

    علامہ شامی اسی مسئلہ کی تفریع بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بادشاہ نے اپنی جاہ و حشمت کے پیش نظر قلعہ میں نماز جمعہ کا اہتمام کیا تواگر قلعہ کے دروازے کھلے رکھے اور لوگوں کو آنے کی اجازت دے دی تو جمعہ قائم ہو جائے گا خواہ نمازی آئیں یا نہ آئیں۔اور اگر اس کا برعکس ہو کہ دروازے بند کر دیے گئے اور دربانوں کو دروازے پر بیٹھا دیا گیا تاکہ وہ لوگوں کو روکیں تو اس صورت میں جمعہ قائم نہیں ہو گا ۔

    اس کے بعد علامہ شامی اپنا تبصرہ فرماتے ہیں کہ : قُلْت: وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ مَحَلُّ النِّزَاعِ مَا إذَا كَانَتْ لَا تُقَامُ إلَّا فِي مَحَلٍّ وَاحِدٍ، أَمَّا لَوْ تَعَدَّدَتْ فَلَا لِأَنَّهُ لَا يَتَحَقَّقُ التَّفْوِيتُ كَمَا أَفَادَهُ التَّعْلِيلُ تَأَمَّلْ۔ترجمہ :میں کہتا ہوں کہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ محل نزاع اس وقت ہو کہ جب جمعہ صرف ایک ہی جگہ پر قائم ہوتا ہو ،ہاں اگر جمعہ متعددجگہوں پر قائم ہوتا ہو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔کیوں کہ اس صورت میں تفویت(عدم اذنعام کی بنیاد پر جمعہ کا فوتہونا )ثابت نہیں ہو گی،جیسا کہ تعلیل اسی کا فائدہ دے رہی ہے ۔پس تامل کر۔ ( رد المحتار على الدر المختار،باب الجمعہ جلد 02صفحہ151،دار الفکر بیروت)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:07رجب1443 ھ/09فروری2022ء