وارث کا ناجائز میراث پر ناجائز قبضہ
    تاریخ: 13 فروری، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 773

    سوال

    گزارش ہے کہ میرا نام سلمہ بنت عیدا خان (مرحوم) ہے ۔ جناب عالی میں مسماۃسلمہ بنت عید خان ( مرحوم) اور میرا بھائی محمد سلیم ولد عید خان ( مرحوم ) ہم دونوں ہی اپنے والد کی اولاد ہیں۔ ہم دونوں کے علاوہ میرے والد کی کوئی اور اولاد نہیں ہے۔

    میرے والد کا ایک ہی مکان ہے جس کا پتہ یہ ہے ، مکان ن مبر 296 سیکٹر نمبر 9E اورنگی ٹاؤن ہے۔ جناب میری شادی 10 اکتوبر 1982ء کو ہوئی تھی جس کے بعد میں اپنی سرال ملتان چلی گئی تھی ، میری شادی کے کچھ عرصے کے بعد میرے والد مجھ سے ملنے ملتان آئے اور یہیں 27/11/1988 کوان کا انتقال ہو گیا ۔

    جس میں شرکت کے لئے میرا بھائی محمد سلیم ولد عید خان ملتان آیا اور واپس جاتے ہوئے میرے والد کا سامان واپس کراچی لے گیا۔ جس میں میرے والد کے صندوق کی چابی بھی موجود تھی اس صندوق میں موجود تمام سامان میری غیر موجودگی میں نکال لیا جس میں مکان نمبر 296 سیکٹر نمبر 9E اورنگی ٹاؤن کے کاغذات بھی موجود تھے۔

    میں نے کچھ عرصے کے بعد جب اپنے بھائی سے کہا کہ بھائی میں غریب ہوں اور میرا شو ہر اکثر بے روزگار رہتا ہے لہذا مجھے مکان میں سے میر احصہ دے دو تا کہ میں اس سے کچھ اپنے گزارے لائق کام کر سکوں۔ جس کے جواب میں میرے بھائی نے مجھے کہا کہ ابا مکان تو میرے نام کر گئے تھے اور وہ تو اب میرے نام ہے ۔لہذا اب اس مکان میں تمہارا حصہ نہیں بنتا ۔

    میں نے تو مکان نام ہونے کے بعد اخبار میں اشتہار بھی دیا تھا کہ میں مکان نمبر 296 سیکٹر نمبر 9E اورنگی ٹاؤن اپنے نام کروارہا ہوں اگر کسی کو اعتراض ہے تو سات یوم کے اندر اندر مجھ سے رابطہ کرے۔ جناب میں تو ملتان میں رہتی ہوں جبکہ اشتہار کراچی کے اخبار میں دیا تھا، جو کہ میری نظر سے نہیں گذرا ، اس لئے تمہارا کوئی بھی دعوئی قابل قبول نہیں ہے۔ تو جناب اس طرح میرے بھائی محمد سلیم نے میرے ساتھ دھو کہ کیا اور بغیر میرے علم میں لائے مکان اپنے نام کروا لیا۔ جب میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ یہ تو غلط بات ہے تو اس نے کہا اب کچھ نہیں ہو سکتا، جس پر میں نے اس سے کہا کہ میں کورٹ میں دعوی کروں گی تو اس نے کہا کہ جہاں جانا ہے جاؤ اور اپنا شوق پورا کرلو۔

    جناب میں تقریبا 20 سال بعد اپنے بھائی کی بیماری کی اطلاع ملنے کے بعد کراچی آئی تو میرا بھائی بہت بیمار تھا اور اسی دوران 25 اگست 2023ء بروز جمعہ میرے بھائی محمد سلیم ولد عیدا خان کا انتقال ہو گیا۔

    جناب عالی!اب میں پریشان ہوں کہ میں اب کسی سے اپنے والد کی وراثت کے بارے میں سوال کروں اور کس طرح کروں ، یادر ہے کہ میرے والد کا مکان نمبر 296 سیکٹر نمبر 9E اورنگی ٹاؤن جو کہ 120 گز پرمشتمل ہے ۔

    میرا کتنا حصہ بنتا ہے، اور اسے کس طرح سے حاصل کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ میں بھی ایک غریب عورت ہوں اور اور غربت کی وجہ سے میں اپنے سرال کا مکان فرخت کر چکی ہوں اور میری نند نے ترس کھا کر اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے، اب میری یہی امید ہے کہ اگر مجھے میرے والد کی وراثت میں سے میرا حصہ مل سکتا ہے تو اس سے میں اپنے بچوں کے لئے سر چھپانے کے لئے کوئی جگہ لے سکوں۔ جو بھی میرا شرعی حق بنتا ہے اس کا فتویٰ جاری کر دیں۔

    سائل: سلمہ بنت عید اخان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں باپ کی میراث کے آپ دونوں بہن بھائی وارث ہیں جس کی تقسیم یہ ہے کہ مالِ وراثت کے تین حصے کیے جائیں گے جن میں سے ایک حصہ آپ کو جبکہ دو حصے بھائی کو ملیں (چونکہ بھائی کا انتقال ہو گیا تو اب ان کے دو حصے ان کی اولاد اور زوجہ کو ملیں گے )۔

    قرآن ِمجید میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    مکان میں آپ کا حصہ

    اگرآپ کے والد مرحوم نے یہ مکان بیٹے کو ہبہ کرکے قبضہ دے دیا تھا تو یہ مکان بھائی کی ہی ملکیت ٹھہرے گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر یہ مکان مال ِ وراثت شمارہو گا جس سے آپ کو بھی حصہ ملے گا ۔

    "بیٹے کا دعوی کرنا کہ والد نے مکان میرے نام کر دیا تھا " اتنی سی بات ثبوتِ ہبہ کے لیے کافی نہیں ۔بلکہ ہبہ کے لیے ضروری ہے کہ ۔اولاً ہبہ کا ثبوت(گواہ یا ہبہ نامہ) کی صورت میں پایا جائے۔ثانیاً : ہبہ کی شرائط کا تحقق بھی ہو کہ محض مکان نام کر دینے سے ہبہ تام نہیں ہو گا ۔

    ہبہ کی تعریف وشرائط درج ذیل ہیں :

    ہبہ کی تعریف کے حوالے سے ملا خسرو علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:(تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ) أَيْ بِلَا شَرْطِ عِوَضٍ لَا أَنَّ عَدَمَ الْعِوَضِ شَرْطٌ فِيهِ۔ترجمۃ: کسی چیز کا( دوسرے کو )بلا عوض ( بغیر عوض کی شرط کے )مالک کردینا ہبہ کہلاتا ہے ،یعنی اسمیں عوض کا ہونا شرط و ضروری نہیں ۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام جلد 2 صفحہ 217 دار إحياء الكتب العربية)

    ہبہ کی شرائط سے متعلق در مختار میں ہے : و شرائط صحتها في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول :ترجمہ : ہبہ کی جانے والی چیز میں ہبہ درست ہونے کی یہ شرائط ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو ، مشاع ( مشترک ) نہ ہو ، جدا ہو اور ( کسی اور کے قبضہ کے ساتھ ) مشغول نہ ہو ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الھبۃ ، جلد 8 ، صفحہ 569 ، دار المعرفۃ بیروت )

    ہبہ کے لیے مکمل قبضہ ضروری ہے ۔ چنانچہ در مختار میں ہے : و تتم الھبۃ بالقبض الکامل ترجمہ : ہبہ قبضۂِ کاملہ کے ساتھ پورا ہوتا ہے ۔

    علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ اس کے تحت لکھتے ہیں : يشترط القبض قبل الموت :ترجمہ : ( ہبہ کرنے والے کی ) موت سے پہلے قبضہ کرنا شرط ہے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الھبۃ ، جلد 8 ، صفحہ 573 ، دار المعرفۃ بیروت)

    اگرثابت ہو جائے کہ والد نے مکان ہبہ نہیں کیا یا ہبہ تو کیا لیکن ہبہ کی شرائط نہیں پائی گئیں تو اب ایسی صورت میں آپ کے بھائی مرحوم کی اولاد پر لازم ہے کہ اس مکان میں آپ کو بھی حصہ دیں اگر حصہ نہیں دیتے تو شرعاً گنہگار ، نا حق قبضہ کرنے والے کہلائیں گے ،جس پر سخت قسم کی وعیدات ہیں ۔

    ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ وراثت میں بہنوں کو حصہ نہیں دیاجاتا جو کہ گناہ کبیرہ اور انتہائی ظلم ہے۔ ایساکرنا توکفار کا طریقہ تھا جسے قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔ ( سورۃ الفجر آیت 17تا 25)

    بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ :ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکوسات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)

    بخاری میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین )کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)

    وارث کو میراث نہ دینے سے متعلق حدیث پاک میں ہے : ”قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من فر من ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة“ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اپنے وارث کو میراث دینے سے بھاگے ، اللہ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث قطع فرما دے گا۔(سنن ابن ماجہ،کتاب الوصایا،ص194،مطبوعہ کراچی)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاريخ اجرا:14محرم الحرام 1444 ھ/01ستمبر2023 ھ