سوال
ہم خاندان کے 6 افراد ہیں یعنی والد، والدہ اور 4 بھائی۔ والد نے اپنا کاروبار تقریباً 26 سال پہلے شروع کیا تھا۔ ایک بیٹا تقریباً 23 سال سے والد کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ جبکہ دوسرا بیٹا بھی تقریباً 20 سال سے والد کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ تیسرا بیٹا اسلامی بینک میں نوکری کر رہا ہے۔اور چوتھا ایک تعلیمی ادارے میں جاب کر رہا ہے۔ والد نے تیسرے اور چوتھے بیٹوں کی بنیادی تعلیم مکمل کرنے میں اور ان کی ملازمت شروع کرنے میں مالی مدد کی۔
مذکورہ کاروبار کی موجودہ قیمت 150 ملین روپے تقریبا ہے۔ تاہم، تیسرے بیٹے کو 2017 میں گھر خریدنے کے لیے 5 ملین روپے دیے گئے تھے اور چوتھے بیٹے کو بھی اسی مقصد کے لیے 2024 میں 10.1 ملین روپے دیے ہے۔
تیسرے اور چوتھے کو یہ رقم والد نے اس سمجھ کے ساتھ دی ہے کہ یہ ان کا حصہ وراثت ہے/ والد کی طرف سے تحفہ ہے جس کی وجہ سے ان ک والد کے کاروبار میں مزید حقوق نہیں ہیں۔
چونکہ، والد کا خیال ہے کہ ان کے پہلے اور دوسرے بیٹے کے تعاون کی وجہ سے کاروبار اس حد تک بڑھ گیا ہے۔دوسری طرف پہلا بیٹا اور دوسرا بیٹا جو باپ کے ساتھ مشترکہ کاروبار میں کام کر رہے ہیں وہ بھی اب کاروبار کو دونوں کے درمیان تقسیم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
باپ، پہلا بیٹا اور دوسرا بیٹا اب کاروبار کو A اور B میں تقسیم کرنے کے فارمولے پر کام کر رہے ہیں کیونکہ کاروبار میں متعدد فیکٹریاں، پلاٹ، گاڑیاں اور دیگر اثاثے شامل ہیں۔ اس لئے ان معاملات کے حوالے سے شرعی راہنمائی کی درخواست کی جاتی ہے
سائل:عبد اللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سائل نے واضح طور پر تو نہیں لکھا کہ وہ کیا پوچھنا چاہتے ہیں ، بہر کیف تحریرسے جو سوالات سمجھ آئے ہیں ان کے جوابات پیش خدمت ہیں ۔
اولاد کو زندگی میں وراثت دینے کا طریقہ
والدزندگی میں اولاد کے درمیان اپنی مملوکہ چیزیں تقسیم کرنا چاہے تو ضابطہ یہ ہے کہ تمام اولاد بیٹے بیٹیوں میں برابر برابر منصفانہ تقسیم کرے بلا وجہ تقسیم میں تفریق سے کام نہ لے کہ یہی افضل طریقہ ہے، البتہ کسی ایک کو دوسرے کی نسبت دینی ،اخلاقی یا خدمت گزاری جیسےاوصاف کی وجہ سے زیادہ دینا چاہے تو دے سکتا ہے کہ اس کی گنجائش موجود ہے۔
علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :’’ الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی ہو قول محمد ‘‘ ترجمہ :فتوٰی امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینا تین حصے بنانے سے بہتر ہے جو کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا مذہب ہے ۔(ردالمحتار کتاب الھبۃ جلد 4 صفحہ 513 داراحیاء التراث العربی بیروت)
حاشیہ طحطاوی میں ہے : الافضل فی ہبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختارترجمہ:بیٹی اور بیٹے کو ہبہ دینے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے۔ اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارجلد3صفحہ400 کتاب الھبۃ دارلمعرفۃ بیروت)
چناچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہبِ مختار پر اولٰی تسویہ(برابری ہے)، ہاں اگر بعض اولاد فضلِ دینی میں بعض سے زائد ہو تو اس کی ترجیح میں اصلا باک نہیں۔ علامہ طحطاوی نے فرمایا: ’’ یکرہ ذٰلک عند تساویہم فی الدرجۃ کما فی المنح والنہدیۃ اما عند عدم التساوی کما اذا کان احدھم مشتغلا بالعلم لابالکسب لاباس ان یفضلہ علی غیرہ کما فی الملتقط ای ولایکرہ وفی المنح روی عن الامام انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین‘‘ ترجمہ:درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں مکروہ ہے (جیسا کہ منح اورہندیہ میں ہے)اور اگر مساوی نہ ہوں مثلاً ایک علم دین میں مشغول ہے اور کماتا نہیں تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے( جیسا کہ ملتقط میں ہے) یعنی مکروہ نہیں ہے۔ اورمنح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتاہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 19صفحہ 231رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بیٹوں کی والد کے ساتھ کاروبار میں شمولیت کی حیثیت
اولاد جو والد کے کاروبار میں اس کا ساتھ دیتی ہے،انہیں والد کی جانب مختلف صورتوں میں روپے پیسے بھی ملتے رہتے ہیں مثلا گھریلو اخراجات ،نجی ضروریات و حاجات وغیرہا میں ۔تو جب تک واضح انداز میں والد اور اولادکے مابین کوئی پوزیشن(مثلا اجیر یا شریک وغیرہا) واضح نہ ہو کہ بچے اجیر کے طور پر کام کر رہے ہیں یا شریک کے طور پر تو ان کی حیثیت ہمارے عرف میں متبرعین (از راہ احسان کام کرنے والوں)کی ہوتی ہے ۔کاروبار میں جتنا بھی اضافہ ہوتا ہے وہ سب کا سب والد کی ملکیت ٹھہرتا ہے ۔ہاں اگر کسی بیٹے نے اپنے ذتی پیسوں سے کوئی سائڈ کاروبار کیا تو اس کے تمام تر منافع ، ملکیت اسی کی ہوگی ۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے:قدقال العلامةفي الاسرارامررجلابأن یعمل له عمل کذاولم ینطقاشیئافي الأجروعدمها ان کان العامل من قبل ممن یعمل له أوللناس مثل ھذا العمل بغیرأجرکان متبرعاوان کان یعمل بأجرفهواجارةفاسدةفله أجرمثله بالغامابلغ"۔ترجمہ:"علامہ نےاسرار میں فرمایاایك شخص نےدوسرےکوکوئی کام کرنےکوکہا اوراس پرانہوں نےمعاوضہ ہونےنہ ہونےکاکوئی ذکرنہ کیا تواگرکام کرنےوالاقبل از یں اس شخص کاکام بغیراجرت کرتارہتاہےیادوسرےلوگوں کا کام بلا اجرت کرتاہےتوتبرع یعنی مفت شمارہو گا اوراگروہ اجرت پرکام کرتاہےتواجارہ فاسدہ ہے تواس کیلئے اُجرتِ مثل ہےچاہےوہ جتنی بھی ہو"۔(فتاوٰی الخیریہ جلد 02،کتاب الهبہ، جلد 02صفحہ 13،مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت)
العقو دالدریہ میں ہے: حیث کان من جملۃ عیالہ والمعینین لہ فی امورہ واحوالہ فجمیع ماحصلہ بکدہ وتعبہ فھو ملک خاص لابیہ لاشیئ لہ فیہ حیث لم یکن لہ مال ولو اجتمع لہ بالکسب جملۃ اموال لانہ فی ذٰلک لابیہ معین حتی لو غرس شجرۃ فی ھذہ الحالۃ فھی لابیہ نص علیہ علماؤنا حمھم اﷲ تعالٰی۔ جب وہ والد کی عیال میں ہے اور والد کے معاونین میں سے ہے تو ایسی صورت میں والد کے امور اور احوال میں جو بھی اس کی محنت وکاوش سے حاصل ہو گا وہ خاص والد کی ملکیت ہوگا اس میں اس کے بیٹے کا مال نہ ہونے کی صورت میں کو ئی ملکیت نہ ہوگی اگرچہ اس بیٹے کی محنت سے بہت سے اموال جمع ہوئے ہوں کیونکہ وہ اس میں والد کا معاون ہے حتی کہ اگر وہ کوئی پود الگائے تو اس حالت میں پوداوالد کا ہوگا، اس پر ہمارے علماء کرام رحمہم اﷲتعالٰی نے تصریح فرمائی ہے۔(العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۱۷)
اسی میں ہے :سئل فی ابن کبیرذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ھل ھی لوالدہ اجاب ھی للابن حیث لہ کسب مستقل واما قول علمائنا یکون کلہ للاب فمشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط منھا اتحاد الصنعۃ وعدم مال سابق لھما وکون الابن فی عیال ابیہ فاذاعدم واحدمنھا لایکون کسب الابن للاب وانظر الی ماعللوابہ المسألۃ ان الابن اذاکان فی عیال الاب یکون معینا لہ فمدارالحکم علی ثبوت کونہ معینا لہ فیہ فاعلم ذٰلک ملخصاً۔ ایسے جوان شادی شدہ عیالدار بیٹے جس کا اپنا مستقل کاروبار ہے اور کاروبار میں اموال حاصل ہوئے، کے متعلق سوال ہوا کہ کیا یہ اموال اس بیٹے کی ملک ہوں گے یا والد کے ہوں گے، جواب دیا کہ بیٹے کی ملک ہیں جبکہ یہ بیٹے کا اپنا مستقل کاروبار ہے ہمارے علماء کرام کا یہ ارشاد کہ وہ تمام والد کا ہے ان کا یہ ارشاد چند شرطوں سے مشروط ہے جیسا کہ ان کی عبارات سے معلوم ہے ان شرائط میں سے بعض یہ ہیں کہ باپ بیٹے کاکام ایک ہو، بیٹے کا پہلے سے اپنا مال نہ ہو، بیٹا باپ کے عیال میں شامل ہو تو ان شرائط میں سے جب کوئی شرط مفقود ہوتو بیٹے کی کمائی والد کے لئے نہ ہوگی، مسئلہ کے بیان میں علماء کی ذکر کردہ علت پر غور کرنا چاہئے انہوں نے فرمایا: جب بیٹا باپ کی عیال میں شامل ہو اور اس کا معاون ہو تو حکم کا مدار اس پر ہے کہ وہ اس میں باپ کا معاون ہو،یہ معلوم ہونا ضروری ہے ملخصا۔(العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۱۷)
دو بیٹوں کے مابین تقسیم کا طریقہ
والد کو چاہیے کہ جن دو بیٹو ں کے مابین کاروبار ،جائیداد وغیرہا دیگر چیزیں تقسیم کرنا باقی ہیں انہیں بھی اپنی حیاتی میں برابر تقسیم کر دیں ۔چونکہ اس تقسیم کی حیثیت ہبہ (گفٹ ) کی ہو گی تو اس میں ہبہ کے تمام شرعی تقاضوں کو پورا کرنا ہو گا ۔
نوٹ:عملی لحاظ سے یہ معاملہ تھوڑا پیچیدہ ہے سو اس حوالے سے کسی مستند عالم دین مفتی کی رہنمائی ضرور لیجیے کہ ان کی موجودگی میں معاملات طے کریں !!!
تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ) ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاريخ اجرا:03رمضان المبارک 1444 ھ/14مارچ 2024ھ