کیا شادی کی کوئی خاص عمر وقت ہے ؟
    تاریخ: 6 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 347

    سوال

    میری شادی کو پچیس سال ہو گئے ہیں ،میرے چار بچے ہیں ،سب شادی شدہ ہیں۔پندرہ سال شوہر کے ساتھ رہی ہوں ۔ مار، پیٹ، گالی گلوچ روزانہ شوہر کا معمول تھا۔جب بھی لڑائی ہوتی تو ایک بار طلاق دے دیتے،پھر اسی دن رجوع کر لیتے تھے اور کہتے تھے طلاق نہیں ہوئی ہے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ بے تحاشاطلاقیں دی ہیں۔اب تقریبا دس سال سے شوہر سے کوئی تعلق نہیں ،کوئی رابطہ نہیں ۔

    اب میں دوسرا نکاح کرنا چاہتی ہوں،کیا کر سکتی ہوں؟ ۔مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائیں !

    سائلہ: بنت حوا

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے ( جو آپ نے سوال میں ذکر کیا)تو جب سے تین طلاقیں واقع ہوئیں تب سے آپ شوہر پر حرام ہو چکی ہیں ۔تینطلاقوں کے بعد سوائے حلالہشرعی کے رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے۔لہذاتین طلاقوں کے بعد جتنا عرصہ آپ شوہر کے ساتھ رہیں ناجائز و حرام کی مرتکب ہوئیں۔اس پر اللہ کے حضور معافی مانگیں !!

    آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ کہیں بھی شادی کرنے میں خود مختار ہیں۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23شوال المکرم 1443 ھ/24مئی2022