hiba o warasat ke maslay ka sharai hukum
سوال
ایک شخص کی چار بیٹیاں ہیں ، اس شخص نے 3 بیٹیوں کی شادی زندگی میں کردی اور انہیں جہیز وغیرہ دے دیاجیساکہ والدین اپنی اولاد کو دیتے ہیں لیکن یہ شخص چوتھی بیٹی کے جہیز کے لئے کچھ جمع نہ کرسکے اور اس کا انتقال ہوگیا۔اب اسکی بیوی اور اس چوتھی بیٹی کا موقف یہ ہے کہ والد کا وراثتی مکان اسے جہیز میں دیا جائے جیساکہ دیگر بیٹیوں کو جہیز میں سامان وغیرہ ملا۔ اسکے علاوہ اس شخص کی کوئی جائیداد نہیں ہے کیا یہ درست ہے کہ سب بیٹیوں کو محروم کرکے جہیز کے نام پر ایک بیٹی کو مکمل مکان دے دیا جائے۔
سائل:رافع علی: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:جن بیٹیوں کو جہیز دیا گیا وہ خاص انکی ملکیت ہے ۔اور اس جہیز کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔کیونکہ جہیز ھبہ کی ایک صورت ہے ، جس میں بعد قبضہ کاملہ موھوب لہ (جسے کچھ ھبہ کیا گیا)کی ملکیت تام ہوجاتی ہے ۔
2: وراثت کامکمل مکان ایک بیٹی کو دوسروں کی رضامندی کے بغیر دینا ناجائز ہے کہ مکان وراثت سب کی مشترکہ ملکیت ہے نہ کہ کسی ایک کی ۔ہاں اگر سب اپنی رضامندی سے بطورِ مصالحت کچھ رقم یا سامان لے کر مکان میں موجود اپنے حصے سے دستبردار ہوجائیں تو ایسا کرنا بھی جائز ہے۔
وراثت اور ھبہ میں فرق یہ ہے کہ وراثت اس مال کو کہتے ہیں جو کسی کے مرنے کے بعد اسکے ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔زندگی میں دیا جانے والا مال وراثت نہیں ہے ۔جبکہ ھبہ تملیک عین بلا عوض کا نام ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص کسی کوکسی بھی چیز کا بغیر کسی عوض کے مالک بنادے تو یہ ھبہ کہلاتا ہے ۔ اور جہیز ھبہ کی ہی ایک صورت ہے ،جس میں بعد قبضہ کاملہ موھوب لہ (جسے کچھ ھبہ کیا گیا)کی ملکیت تام ہوجاتی ہے ۔
رد المحتار مع الدر المختار میں ہے:فَإِنَّ كُلَّ أَحَدٍ يَعْلَمُ أَنَّ الْجِهَازَ مِلْكُ الْمَرْأَةِ وَأَنَّهُ إذَا طَلَّقَهَا تَأْخُذُهُ كُلَّهُ، وَإِذَا مَاتَتْ يُورَثُ عَنْهَا وَلَا يَخْتَصُّ بِشَيْءٍ مِنْهُ ترجمہ:ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی، اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا شوہر اس میں سے اپنے لئے کچھ بھی مختص نہیں کرسکتا۔( رد المحتار مع الدر المختار باب النفقۃ جلد 3ص585)
سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں اسی طرح کا جواب ارشاد فرماتے ہیں :جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص مِلک زوجہ ہوتا ہے ۔(فتاوٰی رضویہ جلد12 ص 203 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ھبہ سے متعلق تنویر الابصار میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
مالِ وراثت ، مال مشترک ہے جس میں سب کو انکے حصص کے مطابق حصہ دینا لازم ہے، مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
نوٹ: دیگر ورثاء کا حصہ جاننے کے لئے انکی تفصیل لکھ کر بھیجیں ۔ مرحوم کے بچوں کی تفصیل، والدین اور دیگر ورثاء ہیں تو اسکی مکمل تفصیل لکھ کر بھیجیں اسکے بعد سب کے حصوں کی تقسیم کی تفصیل بتائی جائے گی۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 محرم 1442 ھ/14 دسمبر 2020 ء