ھبہ ووراثت کی تقسیم کا مسئلہ

    hiba o warasat ki taqseem ka masla

    تاریخ: 5 مئی، 2026
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 1265

    سوال

    ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے انکا ایک پانچ منزلہ مکان تھا جو انہوں نے پانچ بیٹوں کے نام الگ الگ کردیا تھا اور سب بھائی ایک ، ایک فلور میں الگ الگ رہائش پذیر تھے ؟ اب ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسکی شرعی حیثیت کیا ہے؟

    2: ہماری تین بہنیں بھی ہیں انکے لئے والد نے بینک میں تین ،تین لاکھ روپےکے سیونگ سرٹیفکٹ بنوائے ہیں، اور وہ سرٹیفکٹ انکے علاوہ کوئی اور نہیں نکال سکتا ؟ انکا کیا حکم ہوگا۔

    3: اسی طرح پانچ بہوؤں کے لئے بھی انہوں نے بینک میں ایک ،ایک لاکھ روپےکے سیونگ سرٹیفکٹ بنوائے ہیں، اور وہ سرٹیفکٹ انکے علاوہ کوئی اور نہیں نکال سکتا ؟ انکا کیا حکم ہوگا۔

    4: یوں ہی دو پوتیوں کے لئے بھی انہوں نے بینک میں ڈیڑھ ،ڈیڑھ لاکھ روپےکے سیونگ سرٹیفکٹ بنوائے ہیں، اور وہ سرٹیفکٹ انکے علاوہ کوئی اور نہیں نکال سکتا ؟ انکا کیا حکم ہوگا۔

    سائل:شیخ محمد فیروز :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: جو مکان بیٹوں کے نام کرکے انہیں قبضہ دے دیا وہ خاص انکا ہے اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔کیونکہ یہ ھبہ (یعنی گفٹ ) کی صورت ہے اور ھبہ قبضہ کاملہ سے تام ہوجاتا ہے لہذا مکانات میں تو حقیقتا قبضہ ہوگیا۔ جب قبضہ ہوجائے تو ھبہ تام ہوجاتا ہے۔لہذا جب والد نے زندگی میں انہیں جومکان دے دیا تووہ مکان خاص ان کا ہوگیا۔کیونکہ تملیک عین بلا عوض ھبہ ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی کوکسی بھی چیز کا بغیر کسی عوض کے مالک بنادے تو یہ گفٹ اور ھبہ کہلاتا ہے ، جس کے لیے قبضہ ضروری ہے بغیر قبضہ کے ھبہ تام نہ ہوگا ، پھر اگر واہب (گفٹ کرنے والا )اپنی اولاد یا کسی کوکوئی چیز ھبہ کرے تو ضروری ہے کہ موہوب لہ (جسکو ھبہ کیا گیا )وہ ھبہ کے بعد قبضہ کامل بھی حاصل کرلے ۔ وگرنہ ھبہ تام نہ ہوگا اور شئے موھوب (جو چیز گفٹ کی گئی ہے) واہب(گفٹ کرنے والے)کی ملک پر باقی رہے گی اوراسکی وفات کے بعد اسکے ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی ۔ اور یہاں سب نے اپنے حصہ پر قبضہ کرلیا جسکی وجہ سے وہ مکان اور سیونگ سرٹیفکٹ انکے ہوگئے۔

    تنویرالابصارمیں ہے:وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    2: 3: 4:رہا سیونگ سرٹیفکٹ کا معاملہ تو اس کی دو صورتیں ہیں پہلی یہ کہ جس جس کے لئے جتنے روپوں کے سیونگ سرٹیفکٹ بنوائے اس سرٹیفکٹ میں خاص اسی کو نامزد کیا ہے تووہ پیسے اسی کے ہوگئے ۔اب ان پیسوں میں وراثت جاری نہ ہوگی کیونکہ یہ صورت بعینہ پہلی والی یعنی ھبہ کی صورت ہے اور سیونگ سرٹیفکٹ قبضہ حکمی ہے ۔

    دوسری صورت یہ ہے سیونگ سرٹیفکٹ میں مرحوم ہی نامزد تھے اور انہوں نے زبانی کہا تھا کہ یہ میرے بعد فلان فلان کو دے دینا تو یہ وصیت کے حکم میں ہوگا ۔ لہذا جو جو غیر ورثاء ہیں یعنی پوتیاں اور بہوؤیں انکے حق میں ایک تہائی کی بمقدار میں وصیت نافذ ہوجائے گی اور جو شرعی وارث ہیں یعنی بیٹیاں انکے حق میں وصیت نافذ نہ ہوگی ۔ عالمگیری میں ہے :وَلَا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِلْوَارِثِ عِنْدَنَا إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ۔ترجمہ:اور ہمارے نزدیک وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس وصیت کو دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب وارث کے لیے بھی وصیت جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری کتاب الوصایا باب فی بیان تفسیرہ جلد 6ص90)

    تنویر الابصار میں ہے :(وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ)ترجمہ: اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے۔ مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے )کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)

    وصیت کے نفاذ کے بعد جو بچے وہ تمام ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ (ورثاء کی مکمل تفصیل سوال میں موجود نہیں ہے لہذا انکے حصے جاننے کے لئے ورثاء کی تفصیل لکھ کر بھیجیں ۔)

    واﷲ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 جمادی الاول 1441 ھ/16 جنوری 2020ء