جدید میڈیکل سے متعلق چند سوالات

    jadeed medical se mutaliq chand sawalat

    تاریخ: 12 جون، 2026
    مشاہدات: 54
    حوالہ: 1441

    سوال

    1: aesthetic clinics میں مختلف procedures کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک skin tight)) کرنے کیلئے threading procedures ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ لٹکی ہوئی جلد کو بہتر دکھانے کیلئے مچھلی ڈور نما دھا گہ چہرے سے گزارا جاتا ہے اور سر کی جلد میں جاکر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ کیازینت کی خاطر اور جوان دکھنے کیلیے یہ عمل کروانا جائز ہے ؟ کیا یہ تغییر خلق اللہ کے زمرے میں شامل ہوگا ؟

    2: lip plumper ہونٹوں پر لگانے والی جیل (Gel) جو کہ وقتی طور پر ہونٹوں کو کچھ بڑا دکھاتی ہے ، یہ lipstickوغیرہ استعمال کرنے سے پہلے استعمال کی جاتی ہے، اس کے استعمال سے ہونٹ اپنے اصل size سے کچھ زیادہ بڑے اور چمکدار نظر آتے ہیں، اس کا اثر دیرپا نہیں ہوتا ، آیا یہ استعمال کرنا جائز ہوگا ؟؟

    3: چہرے کی جھریوں کو ختم کرنے کیلئے collagen کے injections لگائے جاتے ہیں ، شرعا ان کا حکم کیا ہے؟اگر collagenحرام جانور سے اخذ کیا گیا اور injection لگوالیا ایسے شخص کی عبادت کا حکم کیا ہوگا ؟

    4: انسانی جسم سے stem cell نکالنا اس خدشہ کی بنیاد پرکہ اگر مستقبل میں کوئی بیماری ہوئی تو اس کا اپنا ہی cell کو جسم میں ڈالا جائے گا تاکہ وہ بیماری کے خلاف لڑ سکے ، علاج کا یہ طریقہ کیسا ؟ کیا اس طور پر انسانی جسم سے انتفاع جائز ہے ؟ یہاں ضرورت متحقق نہیں ، آئندہ کے خدشہ کی بنیاد پر یہ عمل کرنا ؟ اور اگر ضرورت متحقق ہو جائے پھر حکم کیا ہوگا ؟ اگر اس کے علاوہ بھی علاج موجود ہو لیکن اس طریقہ سے Recovery زیادہ جلدی ہوگی تو حکم کیا ہوگا ؟

    5: حقوق العباد میں حقِ نفس کے اتلاف کی اجازت نہیں ،یہ تو مسلم ہے ،لیکن اگر کسی شخص کو عورت سے زیادتی(زنا) پر مجبور کیا گیا اور عورت اس پر راضی ہے ، یہاں عورت کی رضامندی کے باوجود کیا اس شخص کیلئے یہ فعل ناجائز ہے ؟ اگر نہیں کرے گا تو قتل کر دیا جائے گا ، بعد ازاں اس کی ویڈیو بناکر رکھا گیا کہ اگر اتنے پیسے نہیں دو گے تو ویڈیو وائرل کردیں گے ، ایسا شخص مجبوری کی صورت میں کیا کرے ؟؟

    سائل: بمعرفت مفتی عمران شامی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اگر جلد عمومی عمر سے پہلے لٹک جائے اور چہرہ بدنما نظر آئے تو اس بدنمائی کے سبب مذکورہ threading procedures کروانا جائز ہے۔

    البتہ عمومی عمر ڈھلنے کے سبب جلد لٹکی تو ایسی جلد کے لئے threading procedures کروانا ناجائزو گناہ ہےکہ یہ ضرور دھوکہ دہی اور تغییر فی خلق اللہ ہےاور یہ دونوں کام قرآن و حدیث کی رُو سے ناجائز و حرام ہیں۔ اللہ تعالٰی کا ارشادہے: وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ۔ ترجمہ کنزالایمان: (شیطان نے کہا) قسم ہے میں ضرورانہیں بہکادوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا ، اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے۔ (النساء: 119)

    تفسیر ِقرطبی میں ہے:وقالت طائفة: الإشارة بالتغيير إلي الوشم وما جري مجراه من التصنع للحسن، قاله إبن مسعود والحسن۔ ترجمہ: ایک گروہ نے کہا تغییر سے جسم گدوانے کی طرف اشارہ ہے اور جو بھی اسکے قائم مقام ہے یعنی حسن کے لئے بناوٹ اختیار کی جائے۔یہ بات عبد اللہ ابن مسعود اور حسن نے فرمائی ہے۔(تفسیر قرطبی، جلد 5 ص 392)

    مرقاۃ المفاتیح میں ہے:قال النووي: فيه إشارة إلى أن الحرام هو المفعول ‌لطلب ‌الحسن، أما لو احتاجت إليه لعلاج أو عيب في السن ونحوه فلا بأس به۔ ترجمہ: نووی نے فرمایا ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ فعل حرام ہے جو طلبِ حسن کے لئے ہو لیکن اگر علاج یا دانت میں عیب وغیرہ زائل کرنے کے لئے ہو تو حرج نہیں۔ (کتاب اللباس،باب الترجل،الفصل الاول،جلد 8 ص 295)

    2: lip plumperکا استعمال جائز ہے کہ یہ لپ اسٹک کی طرح ہی ہے جس طرح لپ اسٹک میں اگر ناپاک چیز (مثلاً خنزیر کی چربی وغیرہ)شامل نہ ہو تو عورتوں کے لیے اس کا لگانا جائز ہےیونہی lip plumper کا استعمال بھی جائز ہوگا بشرطیکہ اس میں بھی ناپاک اجزاء کی آمیزش نہ ہو۔ کہ ان سے مقصود محض تزیین و آرائش ہے، اور شرعی حدود و قیود میں رہتے ہوئے عورت کو تزئین و آرائش کی اجازت ہے۔ بلکہ شوہر کی خوشی کے لیے سجنا سنورنا مستحسن ہے اور باعثِ اجر و ثواب ہے ۔

    3: اگر اس collagenکے انجیکشن میں ناپاک یا حرام اجزاء شامل نہ ہوں تو چہرے کی جھریاں ختم کرنے یا چہرے کی ترو تازگی بحال رکھنے کے لیے ان انجیکشنز کا استعمال جائز ہے ۔ کہ اس میں تغییر فی خلق اللہ کا معنٰی نہیں ہے کیونکہ اللہ جل مجدہ نے انسان کو جھریوں سمیت پیدا نہیں کیا بلکہ صاف ستھری خوبصورت جلد کے ساتھ پیدا فرمایا کما قال اللہ تعالٰی: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ۔ ترجمہ کنزالایمان: بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔ (التین : 4)

    ایک سوال کے جواب میں اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :اس میں کوئی حرج نہیں ،دوا کھانے سے سپید (سفید ) بال سیاہ نہ ہوجائیں گے ،بلکہ قوت وہ پیدا ہوگی کہ آئندہ سیاہ نکلیں گے ،تو کوئی دھوکہ نہ دیا گیا نہ خلق اللہ کی تبدیل کی گئی ۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ،حصہ دوم ،صفحہ 311 ،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ،کراچی )

    اگر انجیکشن میں حرام اجزاء کی آمیزش ہے تو ایسا انجیکشن لگوانا جائزنہ ہوگا یعنی لگوایا تو گنہ گار ہوگا البتہ اسکی وجہ سے کسی عبادت کی قبولیت میں خلل واقع نہ ہوگا۔

    4: انسانی جسم سے stem cell نکالنا جب کہ اس سے مقصود یہ ہو کہ جس شخص کے یہ cellsہیں ، مستقبل میں اگر اسے کوئی بیماری لاحق ہوئی تو اس ہی cell کو جسم میں ڈالا جائے گا تاکہ وہ بیماری کے خلاف لڑ سکے ،جائز و مباح ہے کہ یہ اس ہی کے جزءِ بدن سے انتفاع ہے اور اسکا اپنے جزءِ بدن سے انتفاع جائز ہے ۔

    بدائع میں ہی ہے: أن استعمال جزء منفصل عن غيره من بني آدم إهانة بذلك الغيرا لآدمي بجميع أجزائه مكرم ولا إهانة في استعمال جزء نفسه۔ ترجمہ:بنی آدم کے کسی جزء کو علیحدہ کرکے دوسرے آدمی کے لئے استعمال کرنا اسکی اہانت ہے جبکہ آدمی اپنے تمام تر اعضاء کے ساتھ مکرم ہے البتہ اسکے اپنے اعضاء (ایک کو دوسرے کی جگہ )استعمال کرنے میں اہانت نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، بیان رکن البیع، ج5 ص 133)

    یوں ہی الاشباہ میں ہے:الْجُزْءُ الْمُنْفَصِلُ مِنْ الْحَيِّ كَمَيْتَتِهِ كَالْأُذُنِ الْمَقْطُوعَةِ وَالسِّنُّ السَّاقِطُ إلَّا فِي حَقِّ صَاحِبِهِ فَطَاهِرٌ ۔ترجمہ: زندہ انسان کا وہ عضو جو جدا ہوجائے مردار کی طرح (نجس)ہےجیساکہ کٹا ہوا کان یا ٹوٹا ہوا دانت۔ مگر یہ (اعضاءِ منفصلہ) جس کے ہیں اس شخص کے حق میں پاک ہیں ۔(الاشباہ والنظائر لابن نجیم، ج1 ص 138)

    5: جواب سے پہلے بطورِ تمہید جان لیں کہ کسی شخص سے زبردستی کوئی کام لینا اکراہ ہے اور اکراہ دو طرح کا ہے ۔ اکراہِ شرعی اور اکراہِ عرفی۔

    اکراہِ عرفی یہ ہے کہ کسی شخص پر محض دباؤ ڈال کر یا پریشرائز کرکے کوئی بات منوالینا، جس طرح عموماً خاندان کے افراد بعض اوقات کسی شخص کے ساتھ جبر کرتے ہیں کہ یہ کام کردو ورنہ تمہارا ہمارا تعلق ختم ۔

    اکراہِ شرعی یہ ہے کہ کسی شخص پر ایسا اکراہ کہ جس میں اسے قید میں ڈالنے یا جان سے مار دینے ،یا عضو تلف ہوجانے کا یقین یا گمانِ غالب ہوجائے ۔ پھر اس میں مزید تفصیل ہے کہ اگر محض قید وغیرہ کے ذریعے اکراہ ہو تو یہ اکراہِ شرعی ناقص ہے اور اگر جان سے مار دینے ،یا عضو تلف ہوجانے کے زریعے اکراہ ہو تو یہ اکراہِ شرعی تام ہے۔

    اب جواب یہ ہے کہ اکراہِ عرفی کی صورت میں اگر کوئی مرد یا عورت زنا کر بیٹھیں تو دونوں مجرم قرار پائیں اور ان کے زنا کے تمام وہی احکامات لاگو و نافذ ہونگے جو رضامندی سے زنا کرنے والے افراد پر لاگو ہوتے ہیں یعنی اگر وہ غیر محصن(غیر شادی شدہ مرد) یا غیر محصنہ (غیر شادی شدہ عورت )ہوں تو انہیں قاضی شرع سو سو کوڑے لگائے ، جبکہ محصن یا محصنہ ہونے کی صورت میں انہیں بحکمِ قرآن رجم کیا جائے گا۔

    اگر اکراہِ شرعی ناقص ہو تو دیکھا جائے گا کہ اکراہ کس پر ہےمرد پر یا عورت پر ؟ اگر عورت پر ہے تو اس پر حد نہیں البتہ گناہ ضرور ہوگا۔جبکہ مرد پر اکراہِ شرعی ناقص کی صورت میں بالاتفاق حد ہوگی۔ جبکہ اکراہِ شرعی تام کی صورت میں حد تو نہ ہوگی لیکن گناہ اس صورت میں بھی ہوگا۔کیونکہ مرد اس فعل میں فاعل ہے اور عورت مفعولہ ۔ فعل کے صدور کا اصل سبب فاعل ہوتا ہے یعنی فاعل سے اگر چہ جبراً فعل کروایا جائے تاہم ایجادِ فعل کا ذمہ دار وہی فاعل ہوتا ہے کہ اقدامِ زنااس کی جانب سے پایا گیا۔ اسی لئے دونوں صورت میں ذمہ داری اسی فاعل پر ہوگی کہ اکراہِ شرعی ناقص کی صورت میں حد و گناہ ہردو کا حکم ہوگا جبکہ اکراہِ شرعی تام کی صورت میں گناہ ہوگا۔

    البتہ مرد اگر اکراہِ شرعی تام کی صورت میں زنا سے باز رہا جس کے نتیجے میں اسے قتل کردیا گیا تو ضرور مغفور و ماجور ہوگا۔

    مشکوۃ میں ہے:وَعَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ فَأَتَوْا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: «اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ» وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: «ارْجُمُوهُ» وَقَالَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ۔ ترجمہ: روایت ہے ان (وائل بن حجر)ہی سے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز کے ارادہ سے نکلی کہ ایک مرد اسے ملا جو اس پر چھا گیا ہے اس سے اپنی ضرورت پوری کرلی سے وہ چینخی مرد چلا گیا مہاجرین کی ایک جماعت گزری وہ عورت بولی کہ اس شخص نے مجھ سے ایسا ایسا کیا تو ان لوگوں نے اس شخص کو پکڑ لیا پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو حضور نے اس عورت سے فرمایا تو جا تجھے اللہ نے بخش دیا ہے اس شخص سے فرمایا جو اس پر چھا گیا تھا اسے رجم کر دو اور فرمایا یقینا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ تو بہ سارے مدینہ والے کرتے تو ان سب کی قبول ہو جاتی ہے ۔ترمذی، ابوداؤدنے اسے روایت کیا۔(مشکوۃ شریف حدیث نمبر 3572)

    اس حدیث کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں: یہاں بخشنے سے مراد پکڑ نہ فرمانا ہے یعنی اس زنا پر قیامت میں تیری پکڑ نہ ہوگی کیونکہ تو مجبورومعذور تھی راضی نہ تھی اور دنیا میں تجھ پر حد قائم نہ ہوگی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بخشش تو گناہ کی ہوتی ہے جب وہ عورت گنہگار ہی نہ ہوئی تو اس کی بخشش کے کیا معنے۔؟(مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، جلد 5 ص 338)

    ہندیہ میں مذکور ہے: والمرأۃ اذا اکرہت علی الزنا فلا حد علیہا والرجل آثم فی الاقدام علی الزنا لان الزنا من المظالم واما المرأۃ اذا کانت مکرہۃ علی الزنا تأثم ذکر شیخ الاسلام فی شرحہ فی باب الاکراہ علی الزنا أنہا ان اکرہت علی أن تمکن من نفسہا فمکنت فانہا تأثم وان لم تمکن ہی من الزنا وزنی بہا لا اثم علیہا وذکر ایضًا فی الاکراہ اذا اکرہت علی الزنا فمکنت من نفسہا فلا اثم علیہا وہذا کلہ اذا کان الاکراہ بوعید تلف فان کان الاکراہ بوعید سجن أو قید فعلی الرجل الحد بلا خلاف وأما المرأۃ فلا حد علیہا ولکنہا تأثم ولو امتنع المکرہ عن الزنا حتی قتل فہو مأجور۔ترجمہ:اور جب عورت کو زنا پر مجبور کردیا جائے تواس پر حد نہیں ہے اور مرد اقدامِ زنا کے سبب گناہ گار ہوگاکیونکہ زنا ناخود پر ظلم کی قبیل سے ہے۔ اور جہاں تک عورت کا تعلق ہے، اگر اسے زنا پر مجبور کیا گیا تو وہ گناہ گار ہے، شیخ الاسلام نے زناپر اکراہ کے باب میں اپنی شرح میں ذکر کیا ہے کہ اگر اسے مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے نفس پر قدرت دے اور اس نے قدرت دے دی تو وہ گناہ گار ہے۔ اور اگر اس نے قدرت نہ دی پھر بھی اس سے زنا کرلیا تواب اس پر گناہ نہیں۔اور اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ جب اسے اگر اسے زنا پر مجبور کیا گیا پھر اس نے اپنے اوپر قدرت دے دی تو اس پر گناہ نہیں ہے۔یہ سب اس وقت ہے جب اکراہ کسی عضو کے تلف ہوجانے کی وعید کے ذریعے ہولیکن اگر قید خانہ یا قید کرنے کی وعید ہو (اور مکرَہ مرد ہو )تو اس پر بالاتفاق حد ہوگی اور عورت پر نہ ہوگی۔ اور اگر مکرَہ زنا سے باز رہا حتی کہ اسے قتل کردیا گیا تو وہ ماجور ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ ج5 ص 48)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 محرم الحرام 1445ھ/03 اگست 2023 ء