سوال
ایک امام صاحب عصر کی نماز پڑھا رہے تھے تو انہوں نے سورہ فاتحہ کی ایک آیت بلند آواز سے تلاوت کی پھر انہوں نے پوری قرات آہستہ کی ، اس کے بعد امام صاحب نے سجدہ سہو بھی نہیں کیا تو اس صورت میں امام صاحب پر سجدہ واجب ہوا یا نہیں اگر ہوا تھا لیکن کیا نہیں تو اس نماز کا کیا حکم ہوگا؟
ہم نے مختلف علماء سے پوچھا ہے تو جواب الگ الگ آ رہا ہے کوئی کہتے ہیں نماز ہو گئی ہے کوئی کہتے ہیں نماز دہرائی جائے گی۔آپ رہنمائی فرما دیں کہ اصل حکم کیا ہے؟
سائل: عبد اللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں امام صاحب پرجہر کے ساتھ ایک آیت پڑھنے پر سجدہ سہو واجب ہو گیا تھا جو کہ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ نماز واجب الاعادہ ہو گئی ہے،امام صاحب کو چاہیے کہ مقتدیوں میں اعلان کر دیں اپنی نماز دہرا لیں ۔
اجمال کی تفصیل:
قرات فرائضِ صلاۃ میں سے ہے لیکن مقدار ِ قرات جس سے فرض ادا ہو سکے میں اختلاف ہے، امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک ظاہر الروایہ کے مطابق ایک آیت ہے خواہ بڑی ہو یا چھوٹی جبکہ صاحبین کے نزدیک تین چھوٹی آیات یا ایک بڑی آیت ہے جو تین چھوٹی آیات کے برابر ہو ۔پھر جہری نمازوں میں جہر ی اور سری نمازوں میں سری قرات واجب ہے ،اگر امام بھولے سے اس کا برعکس کرےیعنی سری نماز میں جہری قرات کر ے یا جہری نمازمیں سری کردے تو وہ ترکِ واجب کا مرتکب ہو گا جس کا نقصان سجدہ سہو کی صورت میں پورا کرناہو گا لیکن کتنی مقدار خلاف کرنے پر سجدہ سہوہے یہ اختلاف ماتجوز بہ الصلاۃ مقدار پر مبنی ہے،اور اس میں فتوی امام اعظم علیہ الرحمہ کے مذہب ظاہر الروایہ پر ہے کہ اگر ایک آیت میں بھی بھولے سےخلاف کیا تو سجدہ سہو ہو گا ۔
نوٹ:البتہ وہ آیات جو صرف ایک حرف پر مشتمل ہیں ان کوپڑھنے سے فرض ادا نہیں ہو گا اس لیے کہ انہیں بعض قراء نے آیت ہی شمار نہیں کیا ۔
بدائع الصنائع میں ہے:فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ قَدَّرَ أَدْنَى الْمَفْرُوضِ بِالْآيَةِ التَّامَّةِ، طَوِيلَةً كَانَتْ أَوْ قَصِيرَةً فَهُمَا يَعْتَبِرَانِ الْعُرْفَ، وَيَقُولَانِ: مُطْلَقُ الْكَلَامِ يَنْصَرِفُ إلَى الْمُتَعَارَفِ، وَأَدْنَى مَا يُسَمَّى الْمَرْءُ بِهِ قَارِئًا فِي الْعُرْفِ أَنْ يَقْرَأَ آيَةً طَوِيلَةً أَوْ ثَلَاثَ آيَاتٍ قِصَارٍ۔ترجمہ:ظاہر الروایہ میں فرض کی ادنی مقدار ایک مکمل آیت قرار دی گئی ہے خواہ آیت بڑی ہویا چھوٹی۔اور صاحبین عرف کا اعتبار کرتے ہوئے فرماتے ہیں مطلق کلام متعارف کی طرف پھیرا جائے گا اور قرات کی وہ ادنی مقدار جس کی قرات کرنے والے شخص کو عرف میں قاری کہا جاتا ہے وہ ایک بڑی آیت یا چھوٹی تین آیات کی تلاوت کرناہے۔ملخصا(بدائع الصنائع جلد 01 صفحہ و112 دار الكتب العلمية)
رد المحتار: وَالْإِسْرَارُ يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ وَالْمُنْفَرِدِ فِيمَا يُسَرّ فِيهِ وَهُوَ صَلَاةُ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالثَّالِثَةِ مِنْ الْمَغْرِبِ وَالْأُخْرَيَانِ مِنْ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْكُسُوفِ وَالِاسْتِسْقَاءِ ۔ترجمہ: امام و منفرد پر سری نمازوں میں سراً قرأت کرنا واجب ہے اور ظہر ،عصر کی نماز اور مغرب کی تیسری رکعت ،عشاء کی آخری دوکعت ،نمازکسو ف اور استسقاء ہیں ۔(رد المحتار جلد1 صفحہ 469 دار الفکر بیروت)
البحر الرائق میں ہے : الْجَهْرُ عَلَى الْإِمَامِ فِيمَا يَجْهَرُ فِيهِ وَالْمُخَافَتَةُ مُطْلَقًا فِيمَا يُخَافِتُ فِيهِ وَاخْتَلَفَتْ الرِّوَايَةُ فِي الْمِقْدَارِ وَالْأَصَحُّ قَدْرُ مَا تَجُوزُ بِهِ الصَّلَاةُ فِي الْفَصْلَيْنِ ۔ترجمہ:جہری نمازوں میں جہراور سری نمازوں میں سری قرات امام پر واجب ہے جبکہ مقدار(خلاف)میں روایات مختلف ہیں اور اصح یہ ہے دونوں صورتوں(سری و جہری)میں اتنی مقدار جس سے نماز جائز ہو سکے۔( البحر الرائق شرح كنز الدقائق جلد2 صفحہ 104)
تنویر الابصار میں ہے: فرض القرأۃ اٰیۃ علی المذھب ۔ترجمہ :مذہبِ مختار کے مطابق ایک آیت کی قرأت فرض ہے۔(الدر المختار جلد1 صفحہ 537دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت سیدی احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :اگر امام اُن رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قرأت ادا ہو سکے(اور وُہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب میں ایک آیت ہے) بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلاشبہ سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر بلا عذرِشرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصداً بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے،اور اگر اس مقدار سے کم مثلاً ایک آدھ کلمہ بآوازِ بلند نکل جائے تو مذاہب راجح میں کچھ حرج نہیں۔(فتاوی رضویہ جلد06 صفحہ251رضا فاؤندیشن لاہور )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19جمادی الثانی 1444 ھ/12جنوری 2023 ء