jabri rukhsat ka sharai hukm
سوال
ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجنا کیسا؟ بعض کوتاہیوں پر تین دن، ایک ہفتہ یا ایک ماہ تک جبری رخصت پر بھیجنے کا شرعی حکم عنایت فرمائیں؟
سائل:عبداللہ : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جبری رخصت، ملازمین پر تاوانِ مالی(مالی جرمانہ )کی ایک صورت ہے ، جسے شرعی اصطلاح میں ضمان بالمال کہا جاتا ہے اور مذہبِ احناف میں ضمان بالمال جائز نہیں ہے ، لہٰذا ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجنا از روئے شرع ناجائز ہے۔
کیونکہ جب کوئی اجیر کام کرنے پر راضی و قادر ہے تو اسے زبردستی رخصت پر بھیجنا اور کام نہ لینا،اسے مشاہرہ سے محروم کرنا ہے ، جو بلاشبہ اس اجیر کا مالی نقصان ہے یعنی اس پر تاوانِ مالی کی ایک صورت ہے ۔
تاوانِ مالی عائد کرنا ناجائز ہے ،جیساکہ الدرالمختار مع رد المحتار میں ہے: (لَا بِأَخْذِ مَالٍ فِي الْمَذْهَبِ) بَحْرٌ.ترجمہ:صحیح مذہب میں مالی جرمانہ لینا جائز نہیں ہے۔( الدرالمختار مع رد المحتار باب التعزیر جلد 4 ص 68)
پھر البحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمَذْهَبَ عَدَمُ التَّعْزِيرِ بِأَخْذِ الْمَالِ۔ترجمہ:اور خلاصہ یہ ہے کہ صحیح مذہب میں مالی جرمانہ سے سزا دینا جائز نہیں ہے۔(البحر الرائق شرح کنزالدقائق فصل فی التعزیرجلد 5 ص44)
اسی میں ہے: فی شرح الآثار التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ۔ ترجمہ:شرح الآثار میں ہے کہ تعزیر بالمال ابتدائے اسلام میں تھی پھر اس کو منسوخ کردیا گیا۔(البحر الرائق شرح کنزالدقائق فصل فی التعزیرجلد 5 ص44)
حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق میں ہے:العمل بالمنسوخ حرام۔ترجمہ:منسوخ پر عمل کرنا حرام ہے۔(حاشیہ شلبی مع تبیین الحقائق، جلد 4ص189)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : مالی جرمانہ منسوخ ہوگیا اور منسوخ پر عمل حرام ہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ جلد 21 ص 273)
اجیروں کی کوتاہیوں پر ا س کے بجائے کوئی جائز طریقہ اختیار کیا جائے، مثلا اجیروں کی اجارہ کے علاوہ دیگر مراعات یا سالانہ بونسز وغیرہ میں کٹوٹی کی جاسکتی ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 صفر المظفر 1443 ھ/29 ستمبر2021 ء