سوال
اگر کسی جگہ شادی کی بات چل رہی ہو تو عموماً استخارہ وغیرہ کرنے کی بات کی جاتی ہے۔اس حوالے سے اگر کوئی فریق اپنی ذاتی انا کی بناء پر رشتہ سے انکار کرنے کے لیے فرضی استخارہ کا سہارا لے کر رشتے سے انکار کردے جبکہ درحقیقت نیوٹاؤن مسجد میں استخارہ ہوتا ہی نہیں اور جو دوسری جگہ کا نام لیا ۔وہاں معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ استخارہ، لڑکی اور لڑکے دونوں کے حق میں بہت بہتر ہے۔درحقیقت دوسرے فریق نے استخارہ نکلوایا ہی نہیں لیکن غلط بیانی کا سہارا لیا ۔ اسی طرح ایک اور موقع پر شرعی مسئلے کے حوالے سے اصل حقائق کو مسخ کرکے اور تفصیلات چھپا کر دارالافتاء سے فتوٰی حاصل کرلیا جائے۔اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کیلئے جس سے معاملات پیچیدہ ہوجائیں۔ کیا کسی شخص کا یہ عمل جائز ہے ؟
نیز والدین کی طرف سے اولاد پر اسکی مرضی کے بغیر زبردستی شادی کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا جائز ہے ۔اور انکار کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دینا جبکہ وہ کسی اور کو پسند کرتی ہو۔ایسا کرنا شرعاً کیسا برائے کرم رہنمائی فرمائیں اور کیا اس طرح لڑکی نکاح قبول کرلے اور دل سے راضی نہ ہو تو کیا نکاح منعقد ہوجائےگا؟ سائل:نعمان رزاق :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں ایسا شخص دو وجہ سے شریعت مطھرہ کا مجرم ہے ایک تو جھوٹ بول کر اور دوسرا کسی مسلمان کو دھوکا دے کر ۔اور دونوں بہت سنگین جرم ہیں ۔ایسے شخص کو چاہئے کہ اپنے اس کام سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرے اور آئندہ ایسا کرنے سے بچے ۔
مسلم شریف میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا۔ ترجمہ: عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:''صدق کو لازم کرلو، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اﷲ(عزوجل)کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے، یہاں تک کہ اﷲ(عزوجل)کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم ،رقم :2607)
ترمذی شریف میں ہے: عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَذَبَ العَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ المَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب بندہ جھوٹ بولتا ہے، اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہوجاتا ہے۔(سنن الترمذی ،رقم:1972)
دھوکے کے بارے میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اسحٰق بغدادی حَرْبی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی لکھتے ہیں :فَالغِشُّ أَنْ یُظْہِرَ شَیْئًا وَیَخْفِیَ خِلاَفَہُ أَوْ یَقُولَ قَوْلاً ویَخْفِیَ خِلاَفَہُ ترجمہ: دھوکا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی چیز کو ظاہر کرے اور اس کے خلاف (یعنی حقیقت) کو چھپائے یا کوئی بات کہے اور اس کے خلاف (یعنی حقیقی بات) کو چھپائے۔(غریب الحدیث للحربی،جلد:2،ص:658)
ترمذی شریف میں ہے: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا» ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔(سنن الترمذی،رقم:1315)
اور بالغہ لڑکی کی رضامندی کے بغیر ولی کو اس کا نکاح کروانے کا اختیار نہیں ۔لیکن اگر زبردستی کرنے پر لڑکی نے رضا مندی کا اظہار کردیا تو یہ نکاح منعقد ہوجائیگا لیکن زبردستی کرنے والا سخت گناہ گار ہوگا۔
بہارشریعت میں ہے:لڑکی بالغہ ہے تو اُس کا راضی ہونا شرط ہے،ولی کو یہ اختیارنہیں کہ بغیر اُس کی رضا کے نکاح کر دے۔(بہارشریعت،جلد:2،حصہ:7،صفحہ:19، مکتبۃ المدینہ)
اعلٰحضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ہندیہ کا قول جوکہ انھوں نے خانیہ سے نقل کیا نکاح کی شرائط میں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ عورت کی رضا الخ توہم نے اس کے حاشیہ پر لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے یعنی اس کی اجازت قول، فعلِ صریح یا دلالت سے ہوجاتی ہے اگرچہ بطور جبر ہو۔(فتاوٰ ی رضویہ ،جلد:11،صفحہ:203،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 07شوال المکرم1443 ھ/09مئی2022