استخارہ کن کاموں کے لئے ہوگا
    تاریخ: 13 جنوری، 2026
    مشاہدات: 25
    حوالہ: 577

    سوال

    1: استخارہ کن کن باتوں کے لئے ہوتا ہے ، کیا خلع اور طلاق لینےکے لئے بھی استخارہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

    2: کوئی شخص کسی کا کسی کا گھر برباد کرنے میں شامل ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ قرآن و سنت سے اسکی وعیدیں بیان فرمادیں۔

    سائل: سید شوکت بخاری: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: استخارہ کا لغوی معنٰی ہے ''خیر طلب کرنا'' اور شرعی اعتبار سےاستخارہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا مباح معاملہ جس کے نفع بخش یا نقصان دہ ہونے کا انسان اپنی عقل سے فیصلہ نہ کرسکےاور تردد میں مبتلا ہوجائے کہ اسے کروں یا نہ کروں ۔ پھروہ اللہ تعالٰی سے رہنمائی طلب کرے، اسکا تعلق ماضی کے معاملات سے نہیں بلکہ مستقبل میں در پیش ایسے معاملات سے ہے جنکوکرنا ہے۔لہذا استخارہ کے ذریعے ماضی کے احوال نہیں بتائے جا سکتے ، یوں ہی وہ معاملات جنکا خیر ہونا شریعت سے ثابت ہے ان کے لئے بھی استخارہ نہیں کیا جاسکتا،جیسے نماز، روزہ وغیرہ ۔رہا طلاق یا خلع کا مسئلہ ان مسائل میں بھی استخارہ کیا جاسکتا ہے۔البتہ ایسے مسائل میں استخارہ کو دلیل نہیں بنانا چاہیے کیونکہ استخارہ قطعی اور یقینی امر نہیں بلکہ ظنی امور میں سے ہے اور استخارہ پر عمل واجب نہیں ہے، بلکہ ان مسائل کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیے اگر پھر بھی مسائل حل نہ ہوں تو طلاق یا خلع دینے یا لینے کے سلسلے میں کسی سنی دارلافتاء سے رجوع کیا جائے۔

    حدیث پاک سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کو جائز معاملات میں استخارہ کرنے کا حکم فرماتے تھے:عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كُلِّهَا، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ القُرْآنِ، يَقُولُ: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ العَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي " قَالَ: «وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ»ترجمہ: جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہمانےبیان کیاکہ رسول اللہﷺ ہمیں اپنےتمام معاملات میں استخارہ کرنےکی اسی طرح تعلیم دیتےتھےجس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے۔آپ ﷺفرماتےکہ جب کوئی اہم معاملہ تمہارےسامنےہوتوفرض کے علاوہ دورکعت نفل پڑھنےکےبعدیہ دعاپڑھے۔(ترجمہ)اےمیرےاللہ!میں تجھ سےتیرےعلم کی بدولت خیر طلب کرتاہوں اورتیری قدرت کی بدولت تجھ سےطاقت مانگتاہوں اورتیرےفضل عظیم کاطلبگارہوں کہ قدرت توہی رکھتا ہے اور مجھےکوئی قدرت نہیں۔ علم تجھ ہی کو ہےاورمیں کچھ نہیں جانتااورتوتمام پوشیدہ باتوں کوجاننےوالاہے۔ اےمیرےاللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام جس کےلیےاستخارہ کیاجارہاہے میرے دین دنیااورمیرےکام کےانجام کےاعتبارسےمیرےلیےبہترہےیا(آپ نےیہ فرمایاکہ) میرے لیےوقتی طورپراورانجام کےاعتبارسے یہ (خیرہے) تواسےمیرےلیےنصیب کراوراسکاحصول میرےلیےآسان کراورپھراس میں مجھےبرکت عطا کراوراگرتوجانتاہےکہ یہ کام میرے دین،دنیا اورمیرےکام کےانجام کےاعتبار سےبرا ہے۔یا(آپﷺنےیہ کہاکہ)میرےمعاملہ میں وقتی طورپراورانجام کےاعتبار سے(براہے) تو اسےمجھ سےہٹادےاورمجھےبھی اس سےہٹادے۔پھرمیرےلیےخیرمقدرفرمادے،جہاں بھی وہ ہواوراس سےمیرےدل کو مطمئن بھی کردے۔ آپﷺنےفرمایاکہ اس کام کی جگہ اس کام کانام لے۔(بخاری،شریف ،کتاب التھجد ،باب ما جاء فی التطوع مثنٰی مثنٰی حدیث نمبر 1162)

    میاں بیوی کی ناچاقی کے بارے میں حکم باری تعالٰی ہے:وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا۔ ترجمہ:اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مر دوالوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل(موافقت پیدا) کردے گا بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے ۔ (النساء: 25)

    2:میاں بیوی کے درمیان تفریق یعنی جدائی کروانا کبیرہ گناہ ہے، اس کام میں اللہ کریم کی سخت ناراضگی اور شیطان کی کوشنودی ہے:چناچہ مسلم شریف میں حدیث پاک موجود ہے:عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا، قَالَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ " قَالَ الْأَعْمَشُ: أُرَاهُ قَالَ: «فَيَلْتَزِمُهُ»ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے، پھر اپنے لشکروں کو دنیا میں فساد کرنے کو بھیجتا ہے۔ پس سب سے بڑا فتنہ باز اس کا سب سے زیادہ قریبی ہوتا ہے۔ کوئی شیطان ان میں سے آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں کام کیا (یعنی فلاں سے چوری کرائی، فلاں کو شراب پلوائی وغیرہ) تو شیطان کہتا ہے کہ تو نے کچھ بھی نہیں کیا۔ پھر کوئی آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو نہ چھوڑا، یہاں تک کہ اس میں اور اس کی بیوی میں جدائی کرا دی۔ تو اس کو اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں تو نے بڑا کام کیا ہے۔ اعمش نے کہا، میرا خیال ہے کہ اس کو اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے،(صحیح مسلم :ـکتاب صفات المنافقین وأحکامہم :باب تحریش الشیطان وبعثہ سرایاہ لفتنة الناس وأن مع کل نسان قرینا ،رقم2813)

    سنن ابو داؤد و مسند احمد میں حدیث پاک ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهَا فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ مِنَّا۔ ترجمہ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایاکہ جس شخص نے کسی خادم کواس کے گھروالوں کے خلاف اکسایاوہ ہم میں سے نہیں ہے،اورجس شخص نے عورت کو اس کے شوہرکے خلاف اکسایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(مسند احمد، رقم9146، سنن أبی داود:کتاب الطلاق:باب فیمن خبب امرأة علی زوجہا،رقم2175)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء: 05 صفر المظفر 1441 ھ/05 اکتوبر2019 ء