اسلامی بینکنگ اور منافع کا شرعی تجزیہ
    تاریخ: 27 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 66
    حوالہ: 37

    سوال

    میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور نوکری سے ریٹائر ہونے والا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ ریٹائر ہونے کے بعد جو رقم مجھے سرکار کی طرف سے ملے اس میں سے 15 یا 20 لاکھ روپے کسی اسلامک بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوا کر ایک یا دو سال کیلئے فکس کروا دوں اور ماہانہ بنیاد پر جو نفع ملے اس سے اپنے اخراجات پورے کرنے میں آسانی پیدا کروں ۔مجھے نہیں معلوم کہ اسلامک بینکنگ والے مضاربت پر کس طرح کام کرتے ہیں اور کہاں پیسہ انویسٹ کرتے ہیں ۔اسلامک بینکنگ والے کہتے ہیں کہ ہماری اسلامک برانچ میں کوئی سودی معاملہ نہیں ہوتا۔میرا آپ سے یہ سوال عرض ہے کہ میرا اس طرح رقم فکس کروا کر نفع لینا جائز ہوگا یا نہیں؟

    سائل: محمد سعید،کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر مضاربت کا معاملہ اصولی طور پر جائز ہو تو رب المال (انویسٹر یعنی آپ) کے ذمے یہ تحقیق نہیں ہے کہ مضارب (کام کرنے والےیعنی اسلامی بینک)نے کہاں کاروبار کیا ؟ اگر مضارب (بینک )یہ کہے کہ مجھے شرعی طور پر نفع ہوا ہے اور وہ نفع دے تو وصول کرنے کی اجازت ہوگی۔لیکن اگر آپ کو یقین ہو یا ظن غالب ہو کہ انہوں نے کسی کام میں پیسے نہیں لگائے یا لگائے مگر غیر شرعی امور میں نفع ہوا تو آپ کے لیے ان سے نفع لینا جائز نہ ہوگا۔یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی مسلمان بھائی سے کھانے کیلئے گوشت خریدنا کہ یہاں خریدار پر یہ تحقیق لازم نہیں کہ جانور واقعی شرعی طور پر ذبح ہوا تھا یا نہیں اور اگر اسے یقین یا ظن غالب ہو کہ شرعی ذبح نہیں ہوا تو گوشت حلال نہیں ہوگا۔لان اليقين لا يزول بالشك (یعنی شک کی وجہ سے حاصل شدہ یقین زائل نہیں ہوتا)۔

    یاد رہے کہ اسلامک بینکوں کے منافع شرعی عقود مثلاً مضاربت،مشارکت وغیرہا امور سے حاصل ہوتے ہیں جن کا جواز شریعت میں واضح ہے جبکہ سودی بینک کے منافع قرض سے حاصل ہوتے ہیں اور شرع نے قرض پر حاصل ہونے والے منافع کو سود قرار دیا ہے۔اللہ تبارک وتعالی نے ہمیں شریعت مطہرہ کا پابند بنایا ہے لہذا شریعت کے اصولوں کے مطابق جو چیز جائز ہوتی اس میں عقلی تنقید بے جا ہوا کرتی ہےمثلاً شرعی اصولوں کے مطابق نکاح کی حلت اورزنا کی حرمت ثابت ہے لہذایہاں عقلی تنقید قابل مسموع نہیں کہ نکاح و زنا دونوں میں یکساں فعل پایا جاتا ہےبلکہ اصلاً دونوں جدا ہیں کہ نکاح کا جواز آیا اور زنا کی حرمت،اسی طرح کفار نے مطلقا نفع کو دیکھ کر سود اورتجارت کو یکساں قرار دیا اور قرآن مجید نے اس کا رد کیا ۔معلوم ہوا کہ حلت و حرمت کا مدار حکم شرع پر ہے عقل پر نہیں۔

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:” کسی جاہل شخص کو بطور مضاربت روپے دے دئیے ، معلوم نہیں کہ جائز طور پر تجارت کرتا ہے یا ناجائز طور پر تو نفع میں اس کو حصہ لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے حرام طور پر کسب کیا ہے‘‘۔ (بہار شریعت ،2/813، مکتبۃ المدینہ کراچی)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء :27 شوال المکرم 1445 ھ/7مئی 2024ء