سوال
میں لاھب علی ولد علی نواز نے اپنے لڑکے سمیع اللہ کا نکاح اپنی بھانجی سے کیا ۔لیکن تاحال رخصتی نہیں ہوئی ۔میری بہو نے اپنے شوہر کے بارے میں کچھ شکایات مجھ سے کی ۔جن کا میرے لڑکے نے ثبوت کے ساتھ رد کردیا ۔پھر میری بہو نےاس رشتے میں جڑنے کے حوالے سے کہا کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے اور کئی بار موبائل فون پر اپنے شوہر سے ناخوش ہونے کی باتیں بھی کیں۔مثلاًکاش لڑکی کو یہ اختیار ہوتا کہ وہ نکاح نامہ پر پینسل سے سائن کرتی وغیرہ وغیرہ۔اس کے بعد میں نے اپنی دوسری بھانجی جوکہ میری بہو کی بڑی بہن ہے اس سے فون پر کہا کہ اس کو سمجھاؤ کہ ایسے غلط باتیں کیوں کر رہی ہے اور ایسے الزامات کیوں لگا رہی ہےاور اس رشتے سے ناخوش ہونے کی باتیں کیوں کر رہی ہے،جبکہ ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی ہے۔ایسی باتیں اور ایسا کردار تو وہ عورتیں کرتی ہیں جن کا کہیں اور پیچ ہو ،کہیں اور تعلق ہو۔یہ جملہ میں نے ان تمام حالات کی وجہ سے استعمال کیا جوکہ براہ راست میں نے اپنی بھتیجی کے لیے نہیں کیا ۔کیا میرا یہ جملہ(ایسی باتیں اور ایسا کردار تو وہ عورتیں کرتی ہیں جن کا کہیں اور پیچ ہو ،کہیں اور تعلق ہو۔)شرعی لحاظ سے تہمت کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں
سائل :لاھب علی:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں یہ جملہ(ایسی باتیں اور ایسا کردار تو وہ عورتیں کرتی ہیں جن کا کہیں اور پیچ ہو ،کہیں اور تعلق ہو۔)تہمت کے زمرے میں نہیں آتا ۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ کسی شخص کی طرف ایسے گناہ یا غلط کام کی نسبت اس کی موجودگی یا عدم موجودگی میں کرنا جو اس میں نہیں پایا جاتا تہمت کہلاتا ہے۔جبکہ اس جملے میں کسی بھی طرح عورت کی طرف غلط بات یا گناہ کی نسبت نہیں کی گئی بلکہ صرف کہا گیا ہے کہ اس طرح کی باتیں ناجائز تعلقات رکھنے والی عورتیں کرتی ہیں ۔اگر تو یہ کہا جاتا کہ عورت ناجائز تعلقات رکھنے والی ہے یا عورت ناجائز تعلقات رکھنے والیوں جیسی ہے تو پھر یہ تہمت کے زمرے میں آتا ۔لہذا شرعی لحاظ سے اس جملے پر تہمت کا اطلاق نہیں ہوتا اور ہمارے یہاں لوگ اکثر یہ جملہ اس وقت کہتے ہیں کہ جب کسی کو سمجھا رہے ہوں کہ بھائی تم یہ بات کر رہے ہو ایسی باتیں تو غلط لوگ کرتے ہیں تم تو شریف آدمی ہووغیرہ وغیرہ ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحيح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء:28ذوالقعدہ1442 ھ/9جولائی 2021 ء