گزشتہ سالوں کی زکوة کو ادا کرنے کا طریقہ
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 66
    حوالہ: 135

    سوال

    میری شادی کو تقریباً 17 سال ہوچکے ہیں ۔شادی کے وقت میری بیوی کے پاس جو زیورات تھے ان کا وزن تقریباً 223گرام تھا۔تقریباً اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ یہ وزن ہم نے گھر پر کیا تھا ۔2،4گرام کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔6 سال پہلے میں نے تقریباً45 گرام سونا بیچ دیا تھا اس وقت میرے پاس تقریباً 178 گرام کے سونے کے زیورات موجود ہیں۔ان زیورات پر میں نے آج تک زکوٰۃ نہیں دی ۔موجودہ حالات میں اس کی زکوٰۃ کتنی بنتی ہے اور 16 سال پہلے کی مجھ پر کتنی زکوٰۃ واجب ادا ہے۔ابھی کی زکوٰۃ میں ادا کردوں گا اور پرانی کتنی بنتی ہے ۔مجھے پوری تفصیل بتادیں تاکہ میں سال دو سال کے اندر آسانی سے ہر مہینے تھوڑی تھوڑی زکوٰۃ ادا کرتا رہوں۔آپ میری اسلامی طریقے سے رہنمائی کردیں؟

    سائل:محمد اقبال:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    گزشتہ برسوں کی ادائیگیِ زکوٰۃ کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے نصاب کےاسلامی مہینوں کے اعتبار سے سال ،مہینے ،دن اور وقت متعین کرلیں اسکے بعد صاحب نصاب ہونے کے بعد سے اس دن سونے کے بھاؤ کا حساب لگائے جس دن سال پورا ہورہا ہے ، پھر ابتدائی سال کی زکوۃ اس سونے کاچالیسواں حصے یا اسکی قیمت جو اس وقت مارکیٹ ویلیو تھی ادائیگی کے لیے شمار کرلیں ۔ یہ ایک سال کی زکوۃ کی ادائیگی ہوجائے گی۔جو ادا کیا اسکو نکال کر باقی جتنا سونا بچے اس میں سے بعد والے سال کی زکوۃ نکالیں ، یہ دو سال کی ادائیگی ہوگئی تیسرے سال کی زکوۃ ادا کرتے وقت پچھلے دوسال کی ادائیگی کے مقدار منہا کردے اور باقی جو بچے اسکا چالیسواں حصہ زکوۃ ادا کریں اسی ترتیب سے ہرسال کی زکوۃ ادا کرتے رہیں حتیٰ کہ جتنے سالوں کی زکوۃ لاز م ہے وہ سب ادا ہوجائے اور واجب الاداء کچھ باقی نہ رہے۔ اس میں اتنی سہولت باقی رہے گی کہ ادائیگی کے وقت نصاب مکمل ہونے کے بعد نصاب کا خمس(پانچواں حصہ) یا ایک خمس سے دوسرا خمس جو ہوگا وہ معاف ہوگا۔اسکی زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔مثلا اداکرتے کرتے آٹھتولہ باقی رہ گیا تو یہاں ساڑھے سات تولہ کی زکوۃ لازم ہوگی آٹھ تولہ کی لازم نہیں ہوگی کیونکہ قاعدہ ہے کہ نصاب سے زائد اس سونے کی زکوۃ لازم ہے جو نصاب کے خمس (پانچویں حصے)کو پہنچ جائے ۔ جبکہ ساڑھے سات تولہ کے بعدجو آدھا تولہ ہے وہ نصاب کے خمس کو نہیں پہنچتا لہذا ساڑھے سات تولہ کی ہی زکوۃ لازم ہوگی نہ کہ آٹھ تولہ کی۔

    پس صورتِ مستفسرہ میں زیورات کی ملکیت زوجہ کی ہونے کے سبب 16برسوں کی زکوٰۃ ان پر لازم ہے ۔جو فی الفور زوجہ کو ادا کرناضروری ہے۔اور اب تک جو ادا میں تاخیر کی ہے اس کے بارےمیں صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں اور آئندہ صاحب نصاب ہونے کی صورت میں ہر سال فوراً زکوٰۃ اداکریں۔مثلاً 16 سال پہلے جس دن قمری سال مکمل ہوا اس دن 223گرام(19.11تولہ) سونا ہونے کے سبب 5.575گرام سونے کی جو اس دن قیمت تھی بطور زکوٰۃدینا لازم ہوئی ۔پھر آئندہ سال میں اتنی مقدار سونا منہا کردیا یعنی گویا کہ اب آئندہ سال217.425گرام سونے پر زکوٰۃ ہوگی ۔پھر اسی طرح بقیہ سالوں کی زکوٰۃ دینی ہوگی اور اس درمیان میں جتنی مقدار سونا فروخت کیا گیا وہ بھی منہا کیا جائے گا اور جتنی مقدار سونا اب تک باقی ہے اس پر زکوٰۃ دینی ہوگی۔

    زکوٰۃ فی الفور اور یک مشت ادا کی جائے کہ ادائیگی میں تاخیر گناہ ہے ۔لہذا یہ درست نہیں ہے کہ زکوٰۃ کا حساب کرلیا جائے اور تھوڑی تھوڑی کرکے زکوٰۃ ادا کی جائے اور اگر یک مشت زکوٰۃ ادا کرنے کےلیے رقم موجود نہ ہو تو سونا بیچ کربھی زکوٰۃ ادا کی جائے ۔

    فائدہ:فی تولہ سونا11.664گرام ہوتا ہے تو 7.5تولہ سونا 87.48گرام ہوا۔

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :دس برس رکھا ، ہر سال زکوٰۃ واجب ہوگی جب تک نصاب سے کم نہ رہ جائے، یہ اس لیے کہ جب پہلے سال کی زکوٰۃ نہ دی دوسرے سال اس قدر کا مدیون ہے تو اتنا کم کرکے باقی پر زکوٰۃ ہوگی ، تیسرے سال اگلے دونوں برسوں کی زکوٰۃ اس پر دین ہے تو مجموع کم کرکے باقی پر ہوگی، یُوں اگلے سب برسوں کی زکوٰۃ منہا کرکے جو بچے اگر خودیا اس کے اور مال زکوٰۃ سے مل کر نصاب ہے تو زکوٰۃ ہوگی ورنہ نہیں۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الزکوۃ،جلد 10 ص 144،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسی میں ایک اور جگہ فرماتے ہیں :زکوٰۃ صرف نصاب میں واجب ہوتی ہے، نہ عفومیں، مثلاًایک شخص آٹھ تولے سونے کا مالک ہے تو دو ماشہ سونا کہ اس پر واجب ہوا، وُہ صرف۷ تولے کے مقابل ہے نہ کہ پورے آٹھ تو لے کے،کہ یہ چھ ماشے جو نصاب سے زائد ہے عفو ہے ۔ یُوں ہی اگر ۱۰ تولے کا مالک ہو تو زکوٰۃ صرف ۹ تولہ یعنی ایک نصاب کامل اورایک نصاب خمس کے مقابل ہے،دسواں تو لہ معاف۔ ملتقی الابحر میں ہے : الزکوٰۃ تتعلق بالنصاب دون العفو فلو ھلک بعد الحول اربعون من ثمانین شاۃ تجب شاۃ کا ملۃ ۔ ملخصاً۔ زکوٰۃکا تعلق نصاب سے ہوتا ہے عفو سے نہیں،اب اگر سال کے بعد اس کی بکریوں میں سے چالیس40 ہلاک ہوگئیں تو اب بھی ایک کامل بکری زکوٰۃ لازم ہوگی۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الزکوۃ،جلد 10 ص 88،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسی میں ہے:اور اب تک جوادا میں تاخیر کی بہت زاری کے ساتھ اُس سے توبہ فرض ہے اور آئندہ ہر سال تمام پر فوراًادا کی جائے ۔ (فتاوٰی رضویہ ،کتاب الزکوۃ،جلد 10 ص 128،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    زکوٰۃکی ادائیگی فی الفور کی جائے گی اس کی بابت فتاوٰ ی رضویہ شریف میں ہے: اگر سال گزر گیا اور زکوٰۃ واجب الادا ہوچکی تو اب تفریق و تدریج ممنوع ہوگی بلکہ فوراًتمام و کمال زر واجب الادا ادا کرے کہ مذہبِ صحیح و معتمدو مفتی پر ادائے زکوٰۃ کا وجوب فوری ہے جس میں تا خیر باعثِ گناہ۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:10،ص:76،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 02 رمضان المبارک1442 ھ/15اپریل 2021 ء