مسجد کی وقف شدہ جگہ میں مدرسہ اور دیگر متعلق مساجد کی تعمیر کرنا کیسا
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 43
    حوالہ: 133

    سوال

    ہمارے گوٹھ میں ایک مسجد ہے ۔جس کا کل رقبہ 1900 گز ہے اور یہ مکمل رقبہ مسجد کے لیے وقف ہے لیکن مسجد ابھی 200گز پر تعمیر کی گئی ہے ۔اور بقیہ 200 گز کی جگہ پر مدرسہ قائم کیا گیا ہے۔بقیہ 1500 گز خالی ہے اس خالی پلاٹ سے لوگ گاڑیاں گزارتے ہیں۔اور اب مدرسے کی جگہ پر اسکول کھولنے کا ارادہ ہے۔یہاں چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

    1:مسجد کی جگہ کو راستہ بنانا کیسا ہے؟

    2:مسجد کی جگہ پر دینی مدرسہ قائم کرنا کیسا ہے؟

    3:کیا مسجد کی جگہ پر اسکول بنا سکتے ہیں؟

    4:مسجد کی جگہ پر وضو خانہ /استنجا ء خانہ بنا سکتے ہیں؟ سائل:عطاء الرحمٰن گوہر:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں پرانی مسجد کی مسجد والی حیثیت ختم کرنا تخریب ِمسجد ہے اورایسا کرنا حرام ہے، جو مسجد ہے وہ اب قیامت تک مسجد ہی رہے گی اور مسجد وقف کی جگہ ہے اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی جائز نہیں بلکہ انتظامیہ پر یہ لازم ہے کہ پرانی مسجد کو نئی مسجد کے ساتھ متصل کر دیا جائے اور اسے ویران نہ کیا جائےالبتہ مدرسےیا امام کے حجرے وغیرہ کی تعمیر عین مسجدکے علاوہ فنائے مسجد میں کرنا جائز ہے۔

    تخریب مسجد کی بابت ارشاد ربانی ہے : وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ترجمہ: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ۔(البقرہ:114)

    اس آیت کے تحت تفسیراحمد ی میں ہے:المقصود من ذکر الایۃ انھا تدل علی ان ھدم المساجد وتخریبھا ممنوع ۔ترجمہ:مقصود اس آیت کے ذکر کا یہ ہے کہ یہ دلالت کر رہی ہےکہ مسجدوں کا گرانا اور ان کی تخریب کرنا ممنوع ہے۔

    الدر المختار میں ہے:(وَلَوْ خَرِبَ مَا حَوْلَهُ وَاسْتُغْنِيَ عَنْهُ يَبْقَى مَسْجِدًا عِنْدَ الْإِمَامِ وَالثَّانِي) أَبَدًا إلَى قِيَامِ السَّاعَةِ (وَبِهِ يُفْتِي)ترجمہ:اگر مسجد کا گردو پیش ویران ہوگیا اور مسجد کی ضرورت نہیں رہی تب بھی امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہما کے نزدیک وہ ہمیشہ تاقیامت مسجد ہی رہے گی اور اسی پرفتوٰی دیاجاتا ہے۔

    اسی کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں: فَلَا يَعُودُ مِيرَاثًا وَلَا يَجُوزُ نَقْلُهُ وَنَقْلُ مَالِهِ إلَى مَسْجِدٍ آخَرَ، سَوَاءٌ كَانُوا يُصَلُّونَ فِيهِ أَوْ لَا وَهُوَ الْفَتْوَى حَاوِي الْقُدْسِيِّ، وَأَكْثَرُ الْمَشَايِخِ عَلَيْهِ مُجْتَبَى وَهُوَ الْأَوْجَهُ ترجمہ :یعنی وہ نہ کسی کی میراث بن کر لوٹ سکتی ہے اورنہ اس کا سامان کسی دوسری مسجد کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے چاہے اس میں نماز پڑھی جاتی ہو یا نہیں اور یہی حاوی قدسی کا فتوی ہےاور اسی قول پر اکثر مشائخ ہیں اور یہی سب سے زیادہ راجح ہے ۔

    ردالمحتار میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( شامی کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)

    مسجد کو ویران نہ کیا جائے اس بارے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : حتی الامکان مسجد کا آباد کرنا فرض ہے اور ویران کرنا حرام۔ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: ومن اظلم ممن منع مسجد اﷲ ان یذکر فیہا اسمہ وسعٰی فی خرابھا ترجمہ: اور اس شخص سے بڑاظالم کون ہے جو اﷲ تعالٰی کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکتا ہے اور ان کی بربادی کی کوشش کرتا ہے(البقرہ:114)

    ہندوستان کی آبادی کا قاعدہ یہ ہے شہر ہو یا گاؤں کہ مکانات قریب قریب ہوتے ہیں، بیس پچیس گھر کا گاؤں اتنے فاصلہ کی آبادی نہ رکھے گا کہ مسلمانوں کو مسجد قدیم تک جانا دشوار ہو، تو جو صاحب پختہ بنانا چاہتے ہیں اسی کو پختہ کریں اور آباد کریں جدا مسجد بنانے میں نفل کاثواب پائیں گے اور اس مسجد کے آباد کرنے میں فرض کاثواب ،نفل کے ثواب کو فرض کے ثواب سے کچھ نسبت نہیں ہوسکتی۔(فتاوی رضویہ ،جلد:16،ص:413،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسی طرح ایک اور مقام پر اعلحضرت فرماتے ہیں: مسجد بنانا باعث اجر عظیم ہے جس طرح ممکن ہو کوشش کیجائے وہ مسجد بھی آباد رہے اور یہ بھی آباد ہو، ثواب لینا چاہتا ہے تو اس کے لئے بھی امام مقرر کرے اگرکسی طرح یہ ممکن ہوبلکہ اگر معلوم ہوکہ اس مسجد کا بننا اسے ویران کردے گا توہر گز نہ بنائے کہ مسجد کا ویران کرنا حرام قطعی ہے اور اسے شہید کرنا حرام قطعی۔(فتاوی رضویہ ،جلد:16،ص:300،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فنائے مسجد میں مدرسہ وغیرہ کی تعمیرات کی بابت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :پہلی مسجد جتنے حصہ پر تھی اس کے کسی جزء پر غسل خانہ ،حجرہ اور مدرسہ وغیرہ بنانا جائز نہیں ہاں جو حصہ خالی پڑا ہے اگر وہ پہلے مسجد نہ تھا بلکہ فنائے مسجد تھا تو اب اس حصہ پر حجرہ اور مدرسہ وغیرہ بناسکتے ہیں۔ (فتاوی فیض الرسول ،جلد:2،ص: 371،شبیر برادرز اردو بازار لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح:ابو حسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 15صفرالمظفر 1441 ھ/02اکتوبر 2020 ء