سوال
بعض اسکولز میں بچوں اور بچیوں کو ایسے یونیفارم کا پابند کیا جاتا ہے جس میں انکے گٹھنے نظر آرہے ہوتے ہیں ؟ آٹھویں کلاس تک یہ پابندی ہوتی ہے ،اوراس دوران بچوں کی عمر اوسطا 10 سے 13 سال کے درمیان ہوجاتی ہے۔ اس کیا اس طرح کا یونیفارم پہننے کی صورت میں گناہ ہوگا یا نہیں؟ اگر ہوگا تو کس پر بچوں پر انکے والدین پر یا پھر اسکول انتظامیہ پر؟ نیز یہ کہ ایسے اسکول میں بچوں کو داخل کرنا کروانا کیسا؟
سائل: علی رضا:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر وہ بچے ،بچیاں بالغ یا قریب البلوغ ہیں تو ایسا یونیفارم پہننا سخت منع ہے بالخصوص بچیوں کے معاملے میں ممانعت اور شدید ہے ۔
رہا گناہ کا مسئلہ تو بالغ ہونے کی صورت میں ایسا یونیفارم پہننے پر بچوں اور بچیوں پر گناہ ہوگا کہ بلوغت کے بعد وہ احکامِ شرعیہ کے مکلف ہیں، نیز یہ کہ وہ ایک امرِ ممنوع میں مخلوق کی اطاعت کررہے ہیں ، جبکہ مخلوق کی اطاعت و اتباع میں ایسا کام کرنا جائز نہیں کہ جس میں خالق کی نافرمانی ہو: لقوله عليه الصلاة والسلام: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق۔ترجمہ:کیونکہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جبکہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت کرنا جائز نہیں ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر 381)
لیکن اس گناہ میں بچوں کے والدین اور اسکول انتظامیہ بھی برابر کی شریک ہونگے۔ والدین تو اس لئے کہ عموما بچوں کے لئے والدین ہی اسکول منتخب کرتے ہیں اور اسکول انتظامیہ اس لئے کہ وہ اس فعلِ حرام کو لازم کرنے والے اور رواج دینے والے ہیں۔
اور ایسےاسکولز میں داخلہ کرنا، کروانا ناجائز ہے کہ یہ ''تعاون علی الاثم'' ہے، قال اللہ تعالٰی :ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔ترجمہ کنز الایمان: گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو ۔(المائدہ: 02)
لیکن اگر نابالغ ہیں تو بھی بچنا بہتر ہے کہ پچپن کی عادت انسان میں قرار پکڑ لیتی ہے۔پھر انسان بڑا ہوکر وہ کام کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا جو پچپن سے اسکی عادت میں شامل ہوجائے۔
تفصیل اسکی یہ ہے کہ
بالغ مرد کے لئے ناف کے نیچے سے لے کر گٹھنے تک کا حصہ سَتَر(یعنی چھپانے کی جگہ)میں شامل ہے، جب کہ بالغہ عورت کے لئے پانچ اعضاء (چہرہ،دونوں ہاتھ پہنچوں سمیت ،اور دوونوں پاؤوں کا ظاہری حصہ )کےعلاوہ تمام بدن سَتَر ہے ۔یونہی جو بچہ یا بچی قریب البلوغ ہوجنہیں شرعی اصطلاح میں مراہق و مراہقہ کہا جاتا ہے وہ بھی ستر کے معاملے میں بالغوں کے حکم میں ہیں یعنی انکا سَتَر وہی ہے جو بالغ لوگوں کا ہے۔مگر جو نہایت چھوٹے بچے ہیں ان کے لئے ستر نہیں ہے۔
چناچہ السنن الصغرٰی للبیھقی میں ہے:عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَوْرَةَ الرَّجُلِ مَا بَيْنَ السُّرَّةِ وَالرُّكْبَةِ۔ترجمہ: نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ مرد کی شرمگاہ ناف اور گٹھنوں کے درمیان ہے۔(السنن الصغرٰی للبیھقی ، حدیث نمبر322)
البنایہ فی شرح الھدایہ میں علامہ عینی لکھتے ہیں:لقوله عليه الصلاة والسلام: "عورة الرجل ما بين سرته إلى ركبته" ويروى: "ما دون سرته حتى يجاوز ركبتيه وبهذا ثبت أن السرة ليست بعورة والركبة عورة"ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مرد کی شرمگاہ نافاور گٹھنوں کے درمیان ہے اور ایک روایت ہے کہ جو ناف کے نیچے ہے یہاں تک کہ گٹھنے سے تجاوز کر جائے۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ناف شرمگاہ میں داخل نہیں ہے جبکہ گٹھنا داخل ہے۔( البنایہ فی شرح الھدایہ ، جلد 4 ص 369)
عورت کی شرمگاہ سے متعلق علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وللحرة جمیعُ بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین علی المعتمد ۔ترجمہ: معتمد قول کے مطابق آزاد عورت کے لیے سارے بدن کاچھپانا فرض ہے ،سوائے چہرے ،ہتھیلیوں اور دونوں پاؤں کے۔(الدر المختار جلد1 صفحہ 405 مطبوعہ : دار الفكر-بيروت)
علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں:وبدن الحرة عورة إلا وجہہا وکفیہا وقدمیہا۔ترجمہ:اور عورت کا پورا بدن سوائے چہرے ، ہتھیلیوںاور دونوں پاؤں کے شرمگاہ ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 1 ص 284)
چھوٹے بچے کے بارے میں دُر میں ہے: وفي السراج: لا عورة للصغير جدا، ثم ما دام لم يشته فقبل ودبر ثم تغلظ إلى عشر سنين، ثم كبالغ.ترجمہ:اور سراج میں ہے نہایت چھوٹے بچے کے لئے ستر نہیں ہے پھر جب تک وہ قابلِ شہوت نہ ہوجائے اس وقت تک اسکی صرف اگلی و پچھلی شرمگاہ چھائی جائےپھر دس سال کی عمر تک شرمگاہِ غلیظہ چھپائی جائے پھر(دس سال کی عمر کے بعد )اسکوبالغوں کی مثل تصور کیا جائے۔
اسکے تحت شامی میں ہے:(قوله لا عورة للصغير جدا) وكذا الصغيرة كما في السراج، فيباح النظر والمس كما في المعراج. قال ح: وفسره شيخنا بابن أربع فما دونها، ولم أدر لمن عزاه أقول: قد يؤخذ مما في جنائز الشرنبلالية ونصه: وإذا لم يبلغ الصغير والصغيرة حد الشهوة يغسلهما الرجال والنساء، وقدره في الأصل بأن يكون قبل أن يتكلم.
(قوله ثم كبالغ) أي عورته تكون بعد العشرة كعورة البالغين. وفي النهر: كان ينبغي اعتبار السبع لأمرهما بالصلاة إذا بلغا هذا السن.ترجمہ(علامہ حصکفی کا قول : نہایت چھوٹے بچے کے لئے ستر نہیں ہے)یہی چھوٹی بچی کا حکم ہے جیساکہ سراج میں ہے لہذا انہیں چھونا اور دیکھنا جائز ہے جیساکہ معراج میں ہے طحاوی نے فرمایا کہ ہمارے شیخ نے اس (چھوٹے بچے یا بچی) کی تفسیر چار سال یا اس سے کم سے فرمائی اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نےاس قول کی کس کی طرف نسبت کی۔میں (علامہ شامی )کہتا ہوں یہ بات شرنبلالیہ کے جنائز سے لی گئی ہے اور انہوں نے صراحت کی ہے کہ جب بچہ یا بچی حد شہوت کو نا پہنچے ہوں اس وقت تک انہوں مرد و عورت نہلا سکتے ہیں ، اور اصل میں اسکی مقدار یوں بیان کی گئی ہے بچہ جب تک بولنا شروع نہ کردے اس وقت تک نہلا سکتے ہیں۔
(علامہ حصکفی کا قول :وہ بالغ کی طرح ہے) یعنی دس سال کی عمر کے بعد اسکی شرمگاہ بالغوں کی شرمگاہ کی طرح ہے۔ اور نہر میں ہے اس بارے میں سات سال کا اعتبار کرنا چاہیے کیونکہ بچےاور بچی کو اس عمر(سات سال )تک پہنچنے پر نماز کا حکم ہے۔(رد المحتار علی الدر المختارشرح تنویر الابصار ، کتاب الصلوۃ ، مطلب فی ستر العورۃ جلد 1 ص 407،408 )
مجمع الانھر میں مراہق کے بارےمیں ہے:وَلَوْ كَانَ مُرَاهِقًا لَمْ يَنْظُرْ إلَى مَا تَحْتَ سُرَّتِهِ إلَى رُكْبَتَيْهِ۔ترجمہ:اور اگر بچہ مراہق ہوتو ناف کے نیچے سے لے کر گٹھنے تک منع ہے۔(مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر، کتاب الخنثٰی، جلد 2 ص 730)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح: ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:08 صفر المظفر 1443 ھ/16 ستمبر2021 ء