سوال
میری ایک بیٹی ہے جس کی عمر 24سال ہے دسمبر 2019میں اس کی شادی ہوئی ،داماد میرے رشتے داروں میں سے نہیں ہے ۔ابھی میری بیٹی امید سے ہے اور 13ستمبر سے چھٹا مہینہ شروع ہوا ہے ۔10دن پہلے بیٹی کا الٹراساؤنڈ ہوا ہے اس میں بتایا بچی ہے مگر بچی کا دماغ کاپچھلا حصہ جس کو چھوٹا مغز کہتے ہیں وہ نہیں ہے جس کی وجہ سے بچی جو پیدا ہوگی وہ معذور ایبنارمل پیدا ہوگی اور اسکا چلنا پھرنا ،اٹھنا بیٹھنا،سب نلکیوں اور مشینوں کے ذریعے ہوگا اس صورت حال میں سارے ڈاکٹر نے کہا حمل ضائع کردیں آپ بتائیں کیا اس صورت حال میں کیا کرنا چاہیے اور اگر حمل نہیں گراتے ہیں تو جب پیدائش ہو تو اللہ کے حکم اور آپ لوگوں کی دعاؤں سے بچی ٹھیک ہوجائےمہربانی کرکے تفصیل سے رہنمائی کریں ؟ سائلہ:فرخندہ: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اب جبکہ حمل 4 ماہ سے زائد کا ہوچکا ہے اور اس حمل کو ساقط کروانا ،ناجائز و حرام ہے، کیونکہ کسی بھی شرعی عذر کی بنا پر حمل ساقط کروانا اس وقت جائز ہے،جبکہ حمل ایک سو بیس دن سے کم کا ہو۔کہ ایک سو بیس دن سے قبل حمل میں روح نہیں پھونکی جاتی ، اگر چہ اسکے بعض اعضاء بن جاتے ہیں ۔
لیکن اگر حمل ایک سو بیس دن سے زائد کا ہوجائے تو اگرچہ ڈاکٹر کہے تب بھی حمل ساقط کرناجائز نہ ہوگا۔اگرایک سو بیس دن بعد حمل ساقط کردیا تو یہ انسانی جان کے قتل کے زمرے میں ہوگا۔یونہی اگر کوئی عذر نہ ہو تو چار ماہ سے پہلے بھی حمل ساقط کرنا جائز نہیں ہوگا۔
اسقاطِ حمل کی مدت ایک سو بیس دن ہے۔حدیث پاک میں عملِ تخلیق کو بیان کرتے ہوئے رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ، وَأَجَلُهُ، وَرِزْقُهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ ۔ترجمہ:تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن گزارتا ہے ۔پھروہ اتنے ہی دنوں تک علقہ یعنی غلیظ اورجامدخون کی صورت میں رہتاہے ۔ پھراتنے ہی دنوں کےلیےمضغہ( گوشت کے لوتھڑا) کی شکل اختیارکرلیتاہے ۔ پھر( چوتھےمرحلےمیں)اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کوچارباتوں کاحکم دےکربھیجتا ہے ۔ پس وہ فرشتہ اسکےعمل،اسکی مدت زندگی، روزی اوریہ کہ وہ نیک ہےیا بد،کولکھ لیتا ہے ۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔(بخاری شریف، حدیث نمبر 3332)
عذر کی بناء پر حمل ساقط کرنا جائز ہے اس بارے میں درمختار میں ہے: ویکره أن تسعی لإسقاط حملها، وجاز لعذر حیث لایتصور۔ ترجمہ:اور عورت کے لئے مکروہ ہے کہ وہ حمل ساقط کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اگر کوئی عذر ہوتو اسکی وجہ سے حمل ساقط کرنا جائز ہے،کیونکہ ابھی تک اسکی صورت نہیں بنی ۔
اسکے تحت شامی میں ہے:( قوله: ویکره الخ) أي مطلقًا قبل التصور و بعد علی ما اختاره في الخانیة کما قد مناه قبیل الا ستبراء، وقال: إلا أنّها لاتأثم إثم القتل. (قوله: وجاز لعذر) کالمرضعة إذا ظهربه الحبل وانقطع لبنها ولیس لأب الصبي ما یستأجر به الظئر وخاف هلاك الولد، وقدروا تلك المدة بمائة وعشرین یوماً، وجاز؛ لأنّه لیس بآدمي، وفیه صیانة الآدمي، خانیة(ملخصا) ترجمہ: عورت کو حمل گرانے کی کوشش میں لگنا مطلقا مکروہ ہے ، خواہ حمل متصور ہو چکا ہو یا نہ ہوا ہو۔اسی کو خانیہ میں اختیار کیا ہے جیساکہ ہم نے استبراء کے باب میں ذکر کیا۔ اور انہوں نے فرمایا کہ اگر اس نے حمل گرادیا تو گناہ گار ہوگی، مگر یہ گناہ قتل کے گناہ جیسا نہ ہوگا۔اورعذر کی بناء پر حمل گرانا جائز ہے جیساکہ دودھ پلانے والی عورت کو حمل کی وجہ سے دودھ رک جائے اور بچے کے باپ کے پاس اتنی حیثیت نہ ہو کہ وہ بچے کو دودھ پلانے کے لئے کسی دایہ کو اجرت پر رکھے اور خوف ہے کہ بچہ بھوک سے مرجائے گا ۔ (تو ایسی صورت میں حمل گروانا جائز ہے۔)اور فقہاء نے اسکی مدت کو ایک سو بیس دن سے مقدر فرمایا۔ اور جائز اس لئے ہے کہ ایک سو بیس دن سے پہلے یہ آدمی نہیں ہے اور اس لئے کہ اس میں دوسرے آدمی کی جان کی حفاظت ہے۔(درمختار مع رد المحتار،ج 6 ص 429 قبیل کتاب إحیاء الموات،بیروت)
اسی طرح فتح القدیر پھر شامی میں ہے :هل يباح الاسقاط بعد الحبل؟ يباح ما لم يتخلق شئی منه، ثم فی غير موضع ولا يکون ذلک الا بعد مائه وعشرين يوما انهم ارادوا بالتخليق نفخ الروح۔ ترجمہ:کیا حمل ٹھہرنے کے بعد ساقط کرنا جائز ہے؟ (ہاں)جب تک اس کی تخلیق نہ ہو جائے جائز ہے۔ پھر متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے۔ تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے۔
(فتح القدیر لابن الھمام ، باب نکاح الرقیق، جلد 3 ص 401، بیروت۔شامی، مطلب فی حکم العزل ، جلد 3 ص 176، بیروت۔)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح: ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01 صفر المظفر 1442 ھ/19 دسمبر 2020 ء