سوال
مجھے پیشاب کے قطروں کا مسئلہ ہے میرے لئے نماز اور باجماعت نماز کا کیا حکم ہوگا؟ سائل: محمد امین: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جس شخص کو پیشاب کے قطرے آتے ہوں چاہے پیشاب کرنے سے پہلے ہوں یا پیشاب کے بعد ہوں، یہ پیشاب کی بیماری تصور کی جاتی ہے، لیکن یہ شخص شرعاً معذوراس وقت شمار ہوگا جب کہ ایک مرتبہ فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی اس عذر کے بغیر نہ گزرے ، چنانچہ اگرآپ کو یہ قطرے اس تسلسل سے آرہے ہیں کہ درمیان میں اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ ایک وقت کی فرض نماز ادا کر سکیں تو اس صورت میں آپ شرعی معذورہیں اور شرعی معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت وضو کرےاور پھر اس وضو سے اس ایک وقت میں جتنے چاہےفرائض اور نوافل ادا کرےاور تلاوتِ قرآنِ کریم کرے، (اس ایک وقت کے درمیان میں جتنے بھی قطرے آجائیں آپ پاک ہی رہیں گے بشرطیکہ اس عذر کے علاوہ کوئی اور سبب وضو کوتوڑنے کانہ پایا جائے) یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے یعنی اگر ظہر کی نماز کیلئے وضو کیا تو نماز ِعصر کا وقت شروع ہوتے ہی آپ کا وضو ٹوٹ جائیگااور اب نمازِعصر کیلئے دوبارہ وضو کرناہوگا۔
اور اگر یہ قطرے کپڑوں پر گرے ہوئے ہوں تو اس صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ وہ کس تسلسل سے نکل رہے ہیں اگر اتنا بھی وقت نہ ملے کہ بالفرض نماز شروع کرنے سے پہلے کپڑے کو دھویا، مگر دورانِ نماز وہ قطرے اسی طرح کپڑوں میں نکل آئیں تو اس صورت میں آپ پر ان قطروں کا دھونا واجب نہ ہوگا، اگرچہ یہ قطرے مقدارِ درہم سے تجاوز ہی کیوں نہ کرجائیں اور اگر آپ کو یہ گمان ہے کہ ان قطروں کو دھونے کے بعد یہ دورانِ نماز مزید نہ نکلیں گے تو اس صورت میں ان کا دھونا واجب ہے۔
اور اگر ان قطروں میں مقدارِ نماز کے برابر تسلسل نہیں ہے یعنی کچھ دیر تک پیشاب کے قطرے آنے کے بعد بند ہوجاتے ہیں یا درمیان میں اتنا وقفہ ہوجاتا ہے کہ جس میں فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے تو آپ شرعی معذور نہیں ہیں۔ اس لیے آپ کا وضو اِن قطروں سے ٹوٹ جائے گا اور کپڑے بھی ناپاک ہوجائیں گے اور ان کا دھونا (جب کہ وہ مقدار درہم سے تجاوز کرجائیں) واجب ہوگا۔ اس صورت میں آپ نماز سے کافی پہلے ہی پیشاب کر کے فارغ ہوجائیں اور اس کے بعد پیشاب کے قطروں کے خارج ہونے تک انتظار کریں، جب قطرے بند ہوجائیں اور آپ کو اطمینان حاصل ہوجائے تو پھر اس کے بعد وضو کرکے نماز ادا کریں اور یہی طریقہ نماز باجماعت میں بھی اختیار کریں۔
فتاوی ھندیہ میں ہے :شرط ثبوت العذر ابتداءً أن یستوعب استمراره وقت الصلاة کاملاً، وهو الأظهر، کالانقطاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کله ... المستحاضة ومن به سلس البول … یتوضؤن لوقت کل صلاة، ویصلون بذلک الوضوء في الوقت ماشاؤا من الفرائض و النوافل … ویبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق … إذا کان به جرح سائل وقد شد علیه خرقةً فأصابها الدم أکثر من قدر الدرهم، أو أصاب ثوبه إن کان بحال لوغسله یتنجس ثانیاً قبل الفراغ من الصلاة، جاز أن لا یغسله وصلی قبل أن یغسله وإلا فلا، هذا هو المختار‘‘ترجمہ: شرعی عذر کے ابتداء کی شرط یہ ہے کہ وہ عذر ایک نماز کے وقت کوکامل طور پر گہر لے اوریہی سب سے ظاہرہے جیسا کہ عذر کا ختم ہونا ثابت نہیں ہوتا جب تک وہ کامل نمازکے وقت کو گہرنہ لے ۔ مستحاضہ اور جسے پیشاب کے قطرے کامسئلہ ہو وہ ہر نماز کے وقت کیلئے وضو کریں گے اور اس وضو سے اس وقت میں جتنے چاہیں فرائض ونوافل ادا کریں ۔ اور فرض نماز کے وقت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی(دوسری نمازکے وقت کے دخول سے) حدث سابق کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائیگا ۔جب شرعی معذور کو ایسا زخم ہو جس سے خون رستا ہو اور وہ اس پر پٹی باندھے اور وہ ایک درھم سے زیادہ خون سےآلودہ ہوجائےاور یہ وہ خون اسکے کپڑوں کو آلودہ کردے اگر عذر شرعی کی حالت میں وہ اسے پاک کرے اور(اسےمحسوس ہوکہ) نماز کی فراغت سے پہلے وہ دوبارہ خون آلودہ ہوجائیگا تو اسکے لئے جائز ہے کہ وہ بغیر پاک کیے نماز ادا کرلے اور اگر ایسا نہ ہو (نماز کی فراغت سے پہلے دوبارہ خون نہیں آئے گا)تو پھر بغیر پاک کیے نماز پڑھنا درست نہیں، اور یہی مختار ہے ۔(فتاوی ھندیہ ،کتاب الطہارۃ، جلد:01، ص:40 ، 41ملخصاً،دارالفکر)
سیدی اعلٰی حضرت معذور شرعی کی حد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک وقت کامل کسی نماز کا اس پر ایسا گزرا کہ وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی مہلت نہ تھی تو جب تک ہر نماز کے وقت اگر چہ ایک ایک ہی بار ٹپکنا پایا جائے وہ معذور ہے ، اسے پانچ وقت تا زہ وضو کرنا کافی ہے۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الصلوۃ جلد 6 ص538،رضا فاؤنڈیشن کراچی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ : محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصـــــــحــیح:مفتی وسیم اختر المدنی صاحب
تاریخ اجراء:23 ذیقعدہ 1441 ھ/15 جولائی 2020 ء