سوال
ایک شخص نے اپنی زوجہ کے تین طلاقیں دے دیں اورپھر بغیر حلالہ شرعی کے نکاح جدید کرلیا انکے اس فعل کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے نیز کیا ان سے تعلقات رکھنا جائز ہے؟ سائل:محمد رضوان خان: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں تین طلاقوں کے بعد میاں بیوی اگر واقعی بغیر حلالہ شرعی کےنکاح کرکے ساتھ رہ رہےہیں تو انکا اس طرح رہنا سخت حرام اور گناہ ہے۔اور یہ نکاح ،نکاح نہیں زنا ہے۔اورسمجھانے کے باوجود اگر میاں بیوی نہیں مانتے تو اس صورت میں رشتے داروں کا انکے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں۔ اور جو اس فعل کوہلکا سمجھتےہیں یا اس پر راضی ہیں وہ بھی حرام کے مرتکب ہیں اور کبھی حرام فعل پر رضامندی کفرہوتی ہےالعیاذ باللہ۔
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں:'' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزرجائیں یاگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلےگی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔(فتاویٰ رضویہ ، کتاب النکاح،جلد 12 ص 229)
سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی طرح کا سوال کیا گیا آپ جواباً ارشاد فرماتے ہیں :اگر واقع میں تین بارطلا ق دی تو اس پر فرض ہے کہ اسے چھوڑدے اور بے حلالہ ہاتھ نہ لگائے اگر خلاف کرے گا مبتلائے زناہوگا اور مستحق عذاب شدید، واﷲعلٰی کل شیئ شہید(فتاویٰ رضویہ ج12، ص433 رضا فائو نڈیشن لاہور)
دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ، یُونہی وُہ جو اس سے نکاح پر راضی ہوئے، نکاح نہیں زنا پر راضی ہوئے۔والرضا بالحرام حرام وقد یکون کفرا والعیاذاباﷲ تعالٰی۔حرام فعل پر رضاحرام ہے،اور کبھی یہ رضا کفر ہوتی ہے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ان سب سے مسلمانوں کو میل جول منع ہے،قال تعالٰی : وامّا ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکرٰی مع القوم الظٰلمین ترجمہ:خبردار شیطان تجھے بُھلا دیتا ہے یاد ہونے پرظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ اُن سے میل جول کرنے والے اگر اُس نکاح پر راضی یا اُسے ہلکا جانتے ہیں تو اُن کےلئے بھی یہی حکم ہے۔(فتاویٰ رضویہ کتاب النکاح جلد 12 ص 398رضا فاؤنڈیشن لاہو)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصـحــــیح:مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 24 ربیع الاول 1441 ھ/11نومبر 2020 ء