بوقت ہم بستری نکلنے والے پانی (مذی )کا حکم
    تاریخ: 12 نومبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 96

    سوال

    میری ابھی شادی ہوئی ہے اور مجھے ایک شرعی مسئلہ پر آپ سے مشورہ چاہئے تھا کہ ہمبستری کے وقت جو شرمگا ہ سے پانی نکلتا ہے کیا اس میں ناپاکی ہوجاتی ہے ؟میرے شوہر نے مجھے بتایا تھا کہ شرمگاہ سے جب بھی پانی نکلتا ہے تو اس میں غسل فرض ہو جاتا ہے۔شادی سے پہلے بھی روزمرہ زندگی میں اس طرح کا پانی کبھی کبھار شرمگاہ سے نکلتا تھا لیکن ہم نے کبھی اس پر غسل نہیں کیا لیکن جس طرح میرا شوہر بتا رہا ہے تو اس طرح تواس وقت (شادی سے پہلے)بھی ہمیں غسل کرنا چاہیے تھا ۔میں نے غسل ہمیشہ ماہ واری پر ہی کیا ہے ۔اور یہ بھی بتا دیں کہ کیا میں شوہر کو اور شوہر مجھےہاتھ سے فارغ کرسکتے ہیں ؟ سائلہ:موصوفہ: کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    عورت کے جسم سے دو طرح کے پانی کا خروج متوقع ہے یا تو وہ منی ہوگی یا مذی ہوگی ۔شرمگاہ سے جو پانی کا خروج ہو اور اسکے نکلنے کے بعد شہوت ختم ہوجائے تو اسے منی کہتے ہیں اورمنی کا حکم یہ ہے کہ اسکے نکلنے سے غسل لازم ہوجاتا ہے اور پانی نکلنے کے بعد شہوت برقرار رہے تو اسے مذی کہتے ہیں اورمذی کا حکم یہ ہے کہ اس کے نکلنے سے وضو لازم ہوتا ہے لہذا منی کے خروج کی صورت میں آپ پر غسل لازم ہے اور اگر یہ صورت شادی سے پہلے بھی واقع ہوئی تو آپ پرغسل لازم تھا اگر نہیں کیا اور اسی حالت میں نمازیں پڑھیں تو انکا اعادہ لازم ہے اور مذی کے خروج کی صورت میں آپ پر غسل تو لازم نہیں لیکن اس سے وضو لازم ہو جاتا ہے۔نیز شوہر کا اپنی زوجہ اور زوجہ کا اپنے شوہر کو ہاتھ سے فارغ کرنا جائز ہے۔

    البحرالرائق شرح کنزالدقائق میں ہے:هُوَ مَاءٌ أَبْيَضُ رَقِيقٌ يَخْرُجُ عِنْدَ شَهْوَةٍ لَا بِشَهْوَةٍ وَلَا دَفْقٍ وَلَا يَعْقُبُهُ فُتُورٌ وَرُبَّمَا لَا يُحِسُّ بِخُرُوجِهِ، وَهُوَ أَغْلَبُ فِي النِّسَاءِ مِنْ الرِّجَالِ.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَأَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ أَنَّهُ لَا يَجِبُ الْغُسْلُ بِخُرُوجِ الْمَذْيِ ترجمہ:مذی وہ سفید رنگ کا پتلا پانی ہےجو نکلتا ہے شہوت کے وقت نہ کے شہوت کے ساتھ اور نہ اچھل کر اور نہ اسکے بعد شہوت ختم ہوتی ہے اور بسا اوقات مذی بغیر محسوس ہوئے خارج ہوجاتی ہے اور یہ مرد کی بنسبت عورت میں زیادہ ہوتی ہے۔۔۔۔اور علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔(البحرالرائق شرح کنزالدقائق ،جلد:1،ص:64،دارالکتاب الاسلامی)

    فتاوی عالمگیری میں ہے :الْمَذْيُ يَنْقُضُ الْوُضُوءَ.ترجمہ:مذی(کا نکلنا ) ناقض وضو ہے۔(فتاوی عالمگیری،جلد:1،ص:10،دارالفکر بیروت)

    اور عورت کی منی کے بارے میں ہے: وَمَنِيُّ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ .ترجمہ:اور عورت کی منی پتلی اور زرد رنگ کی ہوتی ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد:1،ص:10،دارالفکر بیروت)

    اسی طرح ردالمحتارعلی الدر المختار میں ہے:(وَفُرِضَ) الْغُسْلُ (عِنْدَ) خُرُوجِ (مَنِيٍّ) مِنْ الْعُضْوِترجمہ:عضو سے منی نکلنے سے غسل لازم ہوجاتا ہے۔

    (من العضو) کے تحت علامہ شامی فرماتےہیں:هُوَ ذَكَرُ الرَّجُلِ وَفَرْجُ الْمَرْأَةِ الدَّاخِلُ ترجمہ:وہ مرد کا عضو خاص ہے اور عورت کی شرمگاہ ۔(الردالمحتارعلی درالمختار ،جلد:1،ص:159،دارالفکر بیروت)

    تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:وَلَوْ مَكَّنَ امْرَأَتَهُ أَوْ أَمَتَهُ مِنْ الْعَبَثِ بِذَكَرِهِ فَأَنْزَلَ كُرِهَ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ ترجمہ:اگر کسی نے اپنی زوجہ یا کنیز کو اپنے آلہ تناسل سے کھیلنے پر قدرت دی پھر انزال ہوگیا ،یہ مکروہ ہے اور اس پر کچھ(گناہ وغیرہ) نہیں ہے۔

    اس کے تحت شامی میں ہے کہ : (قَوْلُهُ كُرِهَ) الظَّاهِرُ أَنَّهَا كَرَاهَةُ تَنْزِيهٍ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ مَا لَوْ أَنْزَلَ بِتَفْخِيذٍ أَوْ تَبْطِينٍ تَأَمَّلْ وَقَدَّمْنَا عَنْ الْمِعْرَاجِ فِي بَابِ مُفْسِدَاتِ الصَّوْمِ: يَجُوزُ أَنْ يَسْتَمْنِيَ بِيَدِ زَوْجَتِهِ أَوْ خَادِمَتِهِ، وَانْظُرْ مَا كَتَبْنَاهُ هُنَاكَ (قَوْلُهُ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ) أَيْ مِنْ حَدٍّ وَتَعْزِيرٍ، وَكَذَا مِنْ إثْمٍ عَلَى مَا قُلْنَاهُ ترجمہ: ظاہر یہ ہے کہ یہاںمکروہ سے مراد مکروہ تنزیہی ہے اسلئے کہ یہ مسئلہ ایسا ہی ہےکہ جیسے کوئی شخص انزال کرے اپنی عورت کی ران اور پیٹ پر ،پس غور وفکر کر اور ہم نے مفسدات الصوم کے باب میں المعراج کے حوالے سے ذکر کیاہے :جائزہے کہمرد اپنی زوجہ یا باندی کے ہاتھ مشت زنی کروائے،اور اس کی بابت جو ہم نے وہاں لکھا ہے اسے ملاحظہ کر ۔ ماتن کا قول ولا شیءعلیہ سے مراد یہ کہ اس پر کو ئی حد او ر تعزیر نہیں ، اسی طرح اس پر کوئی گناہ بھی نہیں اس پر جو ہم نے کہا ۔( الردالمحتارعلی درالمختار ،جلد:4،ص:27،دارالفکر بیروت)

    فتاوی شامی میں ہے : عن أبي يوسف سألت أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته، وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا قال: لا وأرجو أن يعظم الأجر ترجمہ:امام ابویوسف سے مروی ہے (کہ وہ کہتے ہیں)میں نے سوال کیا امام ابو حنیفہ سے ایکشخص کی بابت جو اپنی عورت کی شرمگاہ کو چھوتا ہےاور وہ عورت اپنے شوہر کی شرمگاہ کو چھوتی ہے تاکہ مرد اسکی طرف مائل ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ،امام صاحب نے جواباً ارشاد فرمایا :کوئی حرج نہیں بلکہ میں اس پر ثواب کی امید رکھتا ہوں ۔( الردالمحتارعلی درالمختار ،جلد:6،ص:367،دارالفکر بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحــــیح:مفتی وسیم اختر المدنی صاحب

    تاریخ اجراء:13صفرالمظفر 1441 ھ/01اکتوبر 2020 ء