نل سے بد بو دار آنے والے پانی سے وضو اور غسل کا حکم
    تاریخ: 12 نومبر، 2025
    مشاہدات: 25
    حوالہ: 97

    سوال

    نل سے پانی آرہا ہے اس کا رنگ بھی کالا ہے اور بدبوبھی زیادہ آرہی ہے ،لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ پانی جہاں سے آرہا ہے اس میں نجاست ہے یا نہیں اور کوئی بتانے والا بھی نہیں ہے ،کیا اس پانی سے وضو اور استنجاء کرنا جائز ہے؟

    نوٹ: سائل نے مزید بتایا کہ پانی کا کالا رنگ سیاہی مائل ہے اور جیسا گٹر کا پانی کالا ہوتا ہے ایسا نہیں ہے اور اس میں ذرات بھی نہیں ہیں مگر بدبو ایسی ہے جیسے کہ گٹر کا پانی ہو اور پوری مارکیٹ میں اس کی بو پھیل جاتی ہے۔ سائل:عبد الحسیب:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں جب پانی نجاست کے اجزاء سے پاک ہے اور اس میں نجاست کا ہونا یقینی بھی نہیں تو ایسے پانی سے وضو اور استنجاء وغیرہ کرنا جائز ہے۔صرف بدبو آنے سے یا کالا ہونے سے (جب کہ یہ یقین ہی نہیں کہ کالا ہونا اور بدبو ہونا نجاست کی وجہ سے ہے)پانی کے ناپاک ہونے کا حکم نہیں دیا جائے گا ۔اورجہاں تک بدبو کا تعلق ہے وہ پانی کے ایک جگہ کافی عرصہ تک ٹھہرےرہنے کی وجہ سے بھی ہو جاتی ہے ۔اسی طرح رنگ کا سیاہی مائل ہونا بھی مٹی یا کیچر(وہ کیچر جو ناپاک نہ ہو) کے ملنے سے ممکن ہے۔

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ پانی اگر قلیل ہو تو ایک قطرہ بھی نجاست کا گرنے سے پانی ناپاک ہوجاتاہے لیکن اگر بہتا پانی ہو یا وہ پانی جو بہتے پانی کے حکم میں ہے اس کے ناپاک ہونے کا حکم اس وقت دیا جائے گاجب اس میں نجاست کے ہونے کا یقینی طور پر علم ہو یا نجاست کا اثر یعنی رنگ،بو یا ذائقہ میں سے کوئی ایک پانی میں ظاہر ہوجائے اور صورت ِ مذکورہ میں دونوں چیزیں مفقود ہیں ۔لہذا پانی اپنی اصل یعنی پاکی پر باقی رہے گا اور شک کی بنیاد پرنجس ہونے کا حکم نہیں دیا جائےگا۔

    البحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:يَجُوزُ ‌الْوُضُوءُ بِمَا ‌أَنْتَنَ بِالْمُكْثِ ترجمہ:اس پانی سے وضو کرنا جائز ہے جس میں ٹھہرے رہنے سے بو آگئی ہو۔

    اسی میں ہے: لِأَنَّهُ لَوْ عَلِمَ أَنَّهُ ‌أَنْتَنَ لِلنَّجَاسَةِ لَا يَجُوزُ بِهِ ‌الْوُضُوءُ، وَأَمَّا لَوْ شَكَّ فِيهِ، فَإِنَّهُ يَجُوزُ وَلَا يَلْزَمُهُ السُّؤَالُ عَنْهُ ترجمہ:اس لیے کہ اگر معلوم ہوجائے کہ یہ بدبو نجاست کی وجہ سے ہے تو اس پانی سے وضو کرنا جائز نہ ہو گا اوراگراس بارے میں محض شک ہو تو وضو کرنا جائز ہے اور وضو کرنے والے پر اس کی بابت پوچھنا بھی لازم نہیں ۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ،جلد:1،ص:77،دارالکتاب الاسلامی)

    جن پانی سے وضو جائز ہے ان کا ذکر کرتےہوئے امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: حوض کا پانی جس میں بدبُو آتی ہو جبکہ اُس کی بُو نجاست کی وجہ سے ہونا معلوم نہ ہو۔

    خانیہ میں ہے: یجوز التوضوء فی الحوض الکبیر المنتن اذالم تعلم نجاسۃ لان تغیر الرائحۃقد یکون بطول المکث۔ترجمہ:بڑے حوض میں اگر بدبو ہو تو بھی اس سے وضو ء جائز ہے بشرطیکہ اس میں نجاست معلوم نہ ہو کیونکہ پانی کے ٹھہرے رہنے کی وجہ سے بھی کبھی بدبُو پیدا ہوجاتی ہے ۔

    فتاوی رضویہ میں ہے :اقول:وکذا الصغیر وانما قید بالکبیر لاجل فی معناہ ان الکبیر اذا تغیر احد اوصافہ بنجس ینجس فالحوض الکبیر المنتن قدیتوقاہ الموسوس توھما ان نتنہ بالنجس فافادانہ وھم لایعتبر۔ترجمہ:میں کہتا ہوں چھوٹے حوض کا بھی یہی حکم ہے، بڑے کی قید محض اس لئے لگائی ہے کہ بڑے حوض کا پانی جب نجاست کی وجہ سے متغیر ہوجائے اور اس کا کوئی وصف بدل جائے تو نجس ہے اگر بڑے حوض میں بدبو پائی جائے تو وہمی شخص اس سے پرہیز کرسکتا ہے کہ شاید اس کی بدبو نجاست کے باعث ہے، لیکن اس عبارت سے یہ بتادیا کہ یہ وہم معتبر نہیں ہے۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:2،ص:477،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسی طرحاعلٰی حضرت امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے فتاوٰ ی رضویہ میں سوال کیا گیا کہ حوض کا پانی بسبب گرمی یا پُرانا ہونے سے جس میں بُو اور رنگ تغیر ہوجائے اُس میں وضو کرنا چاہئے یا نہیں اور اسی مسئلہ میں گاؤں کے چاہ وغیرہ ان کا پانی اور رنگ اور بُو آجاتی ہے اس سے وضو کرنا چاہئے یا نہیں اور زید کہتا ہے اگر اُس میں کوئی چیز کُتّا یا بلّی وغیرہ گر جائے جس سے بُو آجائے اور مزہ تبدیل ہوجائے تو ناپاک ہوجائے تو ناپاک ہوتا ہے اور آپ ہی خود مزہ اور رنگ تبدیل ہوجائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا ہے؟

    اس کے جواب میں آپ ارشادفرماتے ہیں: رنگ یا بُو یا مزہ اگر کسی پاک چیز کے گرنے یا زیادہ دیر ٹھہرنے سے بدلے تو پانی خراب نہیں ہوتا ہاں نجاست کی وجہ سے تغیر آجائے تو نجس ہوگا اگرچہ کتنا ہی کثیر کیوں نہ ہو۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:3،ص:250،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:03ربیع الاوّل 1444ھ/30ستمبر2022 ء