insurance state life policy ka hukum
سوال
مجھے یہ مسئلہ پوچھنا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس پالیسی کروانا جائز ہے یا نہیں؟ میں نے اپنی بیٹی کی اسٹیٹ لائف پالیسی کروائی ہے مجھے بتائیں کہ میں یہ ختم کردوں یا نہیں؟
سائل: عبداللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اسٹیٹ لائف انشورنس پالیسی کروانا جائز نہیں ہے،آپ پر لازم ہے کہ یہ پالیسی ختم کریں اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ کریں۔کیونکہ یہ سود اور جوا پر مشتمل ہوتی ہیں اور یہ چیزیں قرآن و حدیث کی رو سے ممنوع ہیں۔جسکی تفصیل یہ ہے کہ انشورنس بنیادی طور پر ایک خریدوفروخت کا معاہدہ ہے جس میں انشورنس پالیسی خریدار ،انشورنس کمپنی سے ایک مقررہ مدت کی کوئی پالیسی خریدتا ہے ، اور یہ خریدتا اس لیے ہے تاکہ انشورنس کمپنی،اس پالیسی خریدار کو مقررہ مدت کے دوران کسی غیر یقینی واقعے مثلا کوئی حادثہ یا موت کے رونما ہونے کی صورت میں اسکی جمع کردہ رقم سے زائد رقم دے گی یا اسی طرح کسی غیر یقینی واقعےکے رونما نہ ہونے کی صورت میں اسکی جمع کردہ رقم سے دست برداری کرے گا۔
اولاََ: اس میں جمع کردہ رقم سے کم یا زیادہ رقم دینے کا عقد ادھار کی صورت میں ہوتا ہے لہذا یہ ربو کی ایک صورت ہے ۔
ثانیاََ: یہ بات بھی عقد میں ملحوظ ہوتی ہے کہ اگر مقررہ مدت میں کسی طرح کا حادثہ یا واقعہ رونما نہ ہوا تو پالیسی ہولڈر اپنی جمع کردہ رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتا بلکہ اسکو تمام رقم سے دست برداری کرنی ہوگی۔اور یہ صراحتا جوا ہے ۔
اور یہ تمام امور قرآن و حدیث کی رو سے ناجائز و حرام ہیں :سود کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے :وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا:ترجمہ: اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ (الْبَقَرَة ، 2 : 275)
دوسری جگہ ارشادہے:یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (الْبَقَرَة ، 2 : 278):ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو۔
صحیح البخاری میں ہے :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»ترجمہ: حضرت ابو ہرہرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا سات چیزوں سے بچو جو کہ تباہ وبرباد کرنے والی ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم !وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا:”(1)شرک کرنا(2)جادو کرنا (3)اسے ناحق قتل کرنا کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا (4)سود کھانا (5)یتیم کا مال کھانا (6)جنگ کے دوران مقابلہ کے وقت پیٹھ پھیرکربھاگ جانا(7) اور پاکدامن،شادی شدہ، مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔( صحیح البخاری ، کتاب الوصایا ، باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یاکلون اموال الیتمی الحدیث:2766، ج 2،ص242)
یوں ہی جوا کے بارے میں ارشاد ہے :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ:ترجمہ:اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔( المائدۃ: 90)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 ربیع الاول 1440 ھ/29 نومبر 2018 ء