امام کی غیبت کرنا کیسا
    تاریخ: 2 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 326

    سوال

    ایک شخص جو دس سال سے ایک امام کے پیچھے نماز پڑھتاہے اور ہر نماز کے بعد اس کا معمول ہے کہ وہ چند نمازیوں کے سامنے امام صاحب کی غیبت کر تا ہے کہ اس کو کچھ نہیں آتا وغیرہ وغیرہ۔کیا ایسے شخص کی نماز اس امام کے پیچھے ہو جا ئے گی؟

    سائل:گلزار احمد قادری،کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    امام اگر صحیح العقیدہ اور غیر فاسق معلن ہے، طہارت وقرأت بھی صحیح ہیں،مسائلِ نماز و طہارت سے آگاہ ہے،شرائط وفرائض اور سنن کے ساتھ نماز اد کر تا ہےاوران میں کوئی بات بوجہ شرعی مقتدیوں کی نفرت کا باعث نہیں ہےتو شخص مذکور کی نمازاس کے پیچھے ہو جائے گی ۔اور جہاں تک غیبت کا تعلق ہے تو شریعت مطہرہ میں ایک عام انسان کی بھی غیبت کر نا حرام اور کبیرہ گناہ ہے اور لوگوں کےسامنےذاتی بغض و عناد اور دنیوی مقاصد کے حصول کی لیئے ایک امام کی عزت کو تارتار کرکے نفرت انگیزی پھیلانا اس سے بھی بڑا گناہ ہے اور ایسا شخص سخت ترین کا گناہ کا مرتکب ہے اور اس پر واجب ہے کہ ایسے کاموں کو فی الفور چھوڑ کربارگاہ الہی میں سچی توبہ کرے اور امام صاحب سےمعافی بھی مانگے ۔

    یاد رہے یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب امامِ مسجد امامت کا اہل ہو اوراگر امامت کا اہل نہیں ہے اور اس کی وجہ سے دین و مسلک کا نقصان ہے تو ایسے شخص کا امام بناناجائزنہیں ہے،اور شحص مذکور ایک نا اہل کو ہٹانے اور لوگوں کو اس کے شر سے بچا نےکے لیئے غیبت کرتا ہے تو وہ حق بجانب ہے ۔

    اعلحضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ سے اسی طرح مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے جوابا ارشاد فرمایا:"وہ متولی جس نے بکراہت اقتدا کی اور یہ خیال رہا کہ نہ کرتا تو بہتر تھا اس کی بھی نماز ہوگئی جبکہ نہ ابتداءً فقط شرم ولحاظ سے ظاہراً بے نیت اقتدا شریک ہواہو نہ بعد کو قطع اقتدا کی نیت کرلی ہو' وذٰلک لانہ فعل لا ترک فیعمل فیہ نیۃ القطع کالصلٰوۃ دون الصوم' ترجمہ:اور ایسا اس لئےہے کہ بیشک یہ فعل ہے نہ کہ ترک تو اس میں نیت قطع عمل کرتی ہے جیسے نماز نہ کہ روزہ۔

    اس لئے کہ یہ لفظ کہ''نہ کرتا تو بہتر ہوتا''خوداس پر دلیل ہے کہ اقتدا کی اور اس پر مستمر رہاا گرچہ بکراہت جیسے فاسق کے پیچھے نماز کہ یہ اپنے زعم میں ان الفاظ کے سبب اسے مثل فاسق ہی سمجھتا تھا۔ احادیث کثیرہ صحیحہ میں ہے ، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق رؤسھم شبرا رجل ام قوما وھم لہ کارھون۔ ھذالفظ ابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما، بسند حسن۔ترجمہ:تین شخصوں کی نماز قبول نہیں ہوتی، ایک وہ کہ کسی جماعت کی امامت کرے اور انہیں اس کی اقتدا ناگوار ہو۔(سنن ابن ماجہ،ابواب اقامۃ الصلوات باب من ام قوما وھم لہ کارھون ، ایچ ایم سعید کمپنی ،کراچی ، ص:۶۹)

    توباآنکہ مقتدیوں کے دل میں کراہت ہے اور ناگواری کے ساتھ اس کے مقتدی ہوئے ان کی نماز میں نقص نہ فرمایا بلکہ امام کی نماز میں جب کہ ان کی کراہت بوجہ شرعی ہو ورنہ وبال ان پر ہے کما فی الدر وغیرہ ۔"

    (فتاوی رضویہ ،کتاب الشرکۃ و الوقف،ج:۶،ص:۵۹۴تا۹۷)

    تنویر الابصار مع الدر المختار(باب الامامۃ ،ج:۱،ص:۵۵۹،طبع:دارالفکر ،بیروت) میں ہے(ولو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون» (وإن هو أحق لا) والكراهة عليهم.ترجمہ:اگر کسی شخص نے کسی ایسی قوم کی امامت کی جو اسے نا پسند کرتے ہیں تو اگر لوگوں کی نا پسندیدگی کی وجہ امام میں شرعی یا اخلاقی خرابی ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں کوئی شخص اس امام کے مقابلے میں امامت کا زیادہ اہل ہے تو سنن ابو داؤد کی حدیث کی رو سے اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے ،(حدیث مبارکہ یہ ہے )"اللہ تعالی اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتاجو لوگو ں کی نا پسندیدگی کے باوجود امامت کررہاہو"اور اگروہامام ان لوگوں کے مقابلے امات کا زیادہ حق دار ہے تو اس کے امام بننے میں کوئی کراہت نہیں ہے البتہ امام سے کسی شرعی جواز کے بغیر نفرت کتنا مقتدیوں کے لیئے کراہت کا سبب ہے ۔

    اللہ تعا لی کا فرمان ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ(الحجرات:۱۲)ترجمہ: اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈواور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

    اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمایا: "ایاکم والغیبۃ فان الغیبۃ اشد من الزنا ان الرجل قد یزنی ویتوب اﷲ علیہ وان صاحب الغیبۃ لایغفر لہ حتی یغفرلہ صاحبہ"رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ، وابو الشیخ فی التوبیخ عن جابر بن عبداﷲ وابی یوسف الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ترجمہ:غیبت سے بچو کہ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زانی توبہ کرے تو اللہ تعالٰی اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے اور غیبت کرنے والے کی بخشش ہی نہ ہوگی جب تک وہ نہ بخشے جس کی غیبت کی تھی ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ امام اگر نماز پڑ ھاتے ہوئے شرائط وفرائض کی ادائیگی میں غفلت نہیں کر تا اور مکمل اداب کے ساتھ نماز پڑھا تا ہےتو

    شخص مذکور(غیبت کر نے والے ) کی نماز اس کی امامت میں ہو جائے گی کیونکہ امامت کی صحت پائی جارہی ہے ہاں شخص مذکور غیبت کر نے کی وجہ سے سخت گنہگار ہے ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:3 محرم الحرام 1440 ھ/14ستمبر 2018 ء