Imam-e-masjid kis ka mulaazim hota hai
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے حق بیچ اس مسئلے کے مسجد میں امامت کرنے والا شخص جو کے مسجد انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت امامت کے لیے مسجد میں رکھا گیا ہے اور ماہوار تنخواہ بھی وصول کرتا ہے ۔تو کیا وہ شخص بطور امام مسجد انتظامیہ کا ملازم اور تمام مسجد کے معاملات میں انتظامیہ کا پابند ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
امام مسجد، انتظامیہ کانہیں بلکہ مسجد کا ملازم ہوتا ہے ، جس کا معاوضہ مسجد کی آمدنی سے ادا کیا جاتا ہے، جبکہ متولی یا مسجد انتظامیہ صرف وقف کے مینیجر اور نمائندے کے طور پر امام کو مسجد کی امامت و خدمت کے لیے مقرر کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔
لہذا اگر مسجد انتظامیہ اگر کوئی ایسا معاہدہ کرے جس میں کوئی غیر شرعی امور نہ ہوں ۔ مثلاً امام مسجد پانچ یا چار نمازیں پڑھانے کا پابند ہونگے، امام صاحب چھٹی پر جانے سے پہلے انتظامیہ کو اطلاع کریں گے،امام مسجد کی غیر موجودگی میں امامت کی ذمہ داری نائب امام پر ہو گی، نمازوں سے چھٹی یا غیر حاضری پر عرف کیمطابق کٹوتی ہوگی وغیرہ تو ان شرائط کی پاسداری امام پر لازم ہے البتہ انتظامیہ کو چاہیے کہ امام صاحب کے ساتھ زیادہ پابندی اور بے جا سختی والا رویہ نہ اپنائیں، بلکہ انہیں امام کیساتھ احترام و اکرام کے ساتھ پیش آنا چاہیے، خصوصاً اگر کسی معتبر شرعی عذر کی وجہ سے امام صاحب کبھی نماز میں لیٹ ہوجائیں تو ان پر غصے کے اظہار کی بجائے تحمل سے کام لینا چاہیے، نیز امام صاحب کی بھی ذمہ داری ہے کہ بلاعذر شرعی نماز کے مقررہ وقت سے تاخیر نہ کریں اور انتظامیہ کی طرف سے طے کی گئی شرائط کی پابندی کریں۔
امام مسجد چونکہ ملازمِ وقف ہوتا ہے اسی لئے مصالحِ مسجد میں داخل ہوکر مسجد کے فنڈ سےوظیفے کا مستحق ہوتا ہے، جیساکہ تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الوقف مطلب فی قطع الجہات لاجل العمارۃ ج 4ص 371 میں ہے:وَفِي شَرْحِهَا لِلشُّرُنْبُلَالِيِّ عِنْدَ قَوْلِهِ:
وَيَدْخُلُ فِي وَقْفِ الْمَصَالِحِ قَيِّمٌ ... إمَامٌ خَطِيبٌ وَالْمُؤَذِّنُ يَعْبُرُ
ترجمہ: اور وقف کے مصالح میں قیم (متولی) امام ، خطیب اور مؤذن سب داخل ہیں ۔
پھر اسی میں مطلب فی وقف المنقول قصدا ج 4 ص 367 میں ہے:ثُمَّ مَا هُوَ أَقْرَبُ لِعِمَارَتِهِ كَإِمَامِ مَسْجِدٍ وَمُدَرِّسِ مَدْرَسَةٍ يُعْطَوْنَ بِقَدْرِ كِفَايَتِهِمْ۔ترجمہ: پھر مسجد کےفنڈ کا زیادہ حقداروہ ہے جو مسجد کی آبادی کا قریبی( سبب ) ہو جیسے امام مسجد ، مدرسہ کا مدرس انہیں ان کے اخراجات کے مطابق دیا جائے۔
امام خادم نہیں قوم کا مخدوم ہوتا ہے، سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :امام اگر کسی قوم کا تنخواہ دار ہے تو وہ ان کا نوکر ضرور ہے مگر نہ خدمت گار بلکہ مخدوم جیسے علماء وقضاۃ وسلاطین کہ بیت المال سے وظیفہ پاتے ہیں مگر وہ رعایا کے خدمت گار نہیں ہوسکتے۔ حدیث میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اجعلواائمتکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم، اپنے افضلوں کو اپنا امام بناؤ کہ وہ تم میں اور تمہارے رب میں واسطہ عرضداشت ہیں۔ہاں بایں معنٰی امام و علماء وقضاۃ وسلاطین سب خادم ہوسکتے ہیں کہ سید القوم خادمھم۔قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے یعنی اسے قوم کے آرام و تربیت کی ہر وقت ایسی فکر چاہئے جیسے خادم کو مخدوم کے کام کی۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 16 ص 587، رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح
ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد زوہیب رضا قادری
18 ربیع الاول 1448ھ/ 01 ستمبر 2026 ء