سوال
رمضان میں ہم لوگ آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھتے ہیں تو ان دنوں میں گرمی سے بچاؤ کے لئے اورٹھنڈک کے حصول کے لئے غسل کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
سائل: ذیشان خالد : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
دوران اعتکاف اگر احتلام ہوجائے تو جنابت سے پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کرنا ضروری و لازم ہے خواہ اس کے لیے مسجد سے باہر ہی کیوں نا جانا پڑے۔اور اگر گرمی سے بچنے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کیا جائے تو اگر غسل خانہ فنائے مسجد میں ہو تو اس غسل میں بھی حرج نہیں ۔ ہاں اس غسل کے لئے مسجد یا فنائے مسجد سے باہر جانا ممنوع ہے ۔ ایسی صورت میں غسل کرنے سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔
شامی میں ہے: فَلَوْ أَمْكَنَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَلَوَّثَ الْمَسْجِدُ فَلَا بَأْسَ بِهِ بَدَائِعُ أَيْ بِأَنْ كَانَ فِيهِ بِرْكَةُ مَاءٍ أَوْ مَوْضِعٌ مُعَدٌّ لِلطَّهَارَةِ أَوْ اغْتَسَلَ فِي إنَاءٍ بِحَيْثُ لَا يُصِيبُ الْمَسْجِدَ الْمَاءُ الْمُسْتَعْمَلُ۔ ترجمہ: اگر مسجد کو خراب کیے بغیر غسل کرناممکن ہو تو اس میں حرج نہیں بدائع یعنی مسجد میں تالاب ہو یا طہارت کے لیے الگ سے جگہ بنی ہوئی ہو یا کسی بڑے برتن میں غسل کرے کہ مسجد میں پانی نہ گرے تو غسل کرنے میں حرج نہیں ہے۔(حاشیہ ابن عابدین شامی علی الدرالمختار ، باب الاعتکاف جلد 2 ص 445)
سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : جب وہ مدارس متعلق مسجد، حدودمسجد کے اندرہیں اُن میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایک فصیل سے صحنوں کاامتیاز کردیاہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جاناہی نہیں یہاں تک کہ ایسی جگہ معتکف کوجاناجائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ ہے۔( فتاویٰ رضویہ جلد 7 ص 453)
فتاوٰ ی امجدیہ میں ہے:فنائے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر ہے اس سے ملحق ضروریاتِ مسجد کے لئے ہے،مثلا جوتا اتارنے کی جگہ ،اور غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔(فتاوٰی امجدیہ، جلد 1 ص 399)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 شعبان المعظم 1441 ھ/15 اپریل 2020 ء