طواف زیارت حدث اکبر میں کرنا
    تاریخ: 30 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 20
    حوالہ: 482

    سوال

    میں16 سال کی عمر میں1975ءمیں اپنے والدین اور بہنوں کے ساتھ حج پر گیا ۔اسی سال 10 ذی الحج کو ایرانی کیمپوں میں آگ لگنے کی وجہ سے شدید بھگڈر ہوئی ،صد شکر کہ ہم معجزاتی طور پر بچ گئے ۔اس کے بعد الحمد للہ کئی عمرےکیئے اب پچھلے سال 2018 ءمیں حج کے لیے گیا تو مجھے خیال آیا کہ1975ء والے حج میں بھگڈر کی وجہ سے شاید ہم بچوں نے طواف زیارت نہیں کیاتھا ۔

    اس حوالے سے مجھے بنوری ٹاؤن کے ایک عالم نے کہا کہ طواف زیارۃ فرائض حج میں سے ہے اگر رہ گیا تو حج ہوا ہی نہیں ،اور بات ختم لیکن مجھے انتہائی تشویش تھی کہ میں گنہگار نہ رہو ں چنانچہ میں نے اپنے طورپر مسائل حج پڑھنا شروع کیا ،سو رفیق الحرمین ص134 پر طواف زیارت کے مسائل پڑھنے سے اس کی قضا ءاورایک دم دینےکا سمجھ میں آیا ،چناچہ میں نے حج سے قبل طواف زیارت بمع سعی قضاء کیاور ایک دم بھی دے دیا ۔اتنا عرصہ پرانی بات واضح طور پر یاد نہ ہونے کی وجہ سےیہاں آکر بہنوں سے تصدیق کی تو پتا چلا کہ ہم نے طواف زیارت کیا تھا مگر اب دوسری پریشانی یہ کہ 11ذی الحجہ کو بشری تقاضے کے مطابق مجھ پر غسل واجب تھا ،نہ اس زمانے میں مجھے اتنی سمجھ تھی ،نہ علم اور نہ ہی غسل کی آسانی سے سہولت اور اور والدین کے سامنے شرم بھی ،اس لیے مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں طواف زیارت کیا تھا تو اسی غسل واجب میں ہی کیا ہوگا۔

    اس حولے سے درجہ ذیل امور دریافت طلب ہیں :

    1: اگر میں کم علمی کی وجہ سے واجب غسل میں طواف زیارت کیا تھا تو ادا کردہ قضا و کفارہ کا فی ہے ؟اگر نہیں تو اب مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟

    2: اسی عالم کے مشورہ پر پچھلے سال حج فرض کی نیت سے ہی کیا ،کیا یہ حج فرض کی نیت سے کرنا ٹھیک تھا اور میرا فریضه حج ادا ہو گیا ؟

    3: اللہ تعالی توفیق عطاء فرمائے تو آئندہ میں نفل حج یا والدین کی طرف سے کر سکتا ہوں ؟

    سائل:اسلم پرویز،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: جی آپ کی طرف سے ادا کردہ قضا اور کفارہ کافی ہے اور آپ کا فرض حج ادا ہوگیا ہے،البتہ ناپاکی کی حالت میں طواف ِفرض ادا کرنے کی وجہ سے آپ پر توبہ کرنا لازم ہے ۔لباب المناسک مع المناسک للعلامۃ علی القاری میں ہے: ‘‘ولو طاف للزیارۃ جنبا کلہ او اکثرہ ،فعلیہ بدنۃ ،ویصیر عاصیا ،وعلیہ ان یعیدہ ،مادام بمکۃ طاہرا،فان اعادہ سقطت عنہ البدنۃ ،واما المعصۃ فموقوفۃ علی التوبۃ او معلقۃ بالمشیۃ ولو کفرت بالبدنۃ ،ولو رجع الی اہلہ وجب علیہ العود لاعادتہ ،ثم ان ان جاوز الوقت یعود باحرام جدید ،۔۔۔۔وان اعادہ بعد ایام النحر، سقط عنہ البدنۃ ولزمہ شاۃ للتاخیر ،عند ابی حنیفۃ ۔ ترجمہ:اگر کسی نے پورا طواف زیارت یا اکثر جنبی حالت میں کیا تو اس پر بدنہ لازم ہے اور وہ گنہگار ہوگا ،اور اس پر لازم ہے کہ وہ پاکی حالت میں اس کا اعادہ کرے جب تک مکہ میں ہے ،تو جب اس نے اعادہ کیا تو بدنہ اس پر سے ساقط ہو جائے گا،اور جہاں تک گناہ کی بات ہے تو وہ توبہ یا، اللہ تعالی کی مشیت پر موقوف ہے ،اگر چہ اس نے بدنہ کے ساتھ کفارہ ادابھی کیوں نہ کیا ہو ۔اور اگر وہ گھر لوٹ آیا تو اس پر لازم ہےکہ اعادہ کےلیئے جا ئے ،پھر اگر وہ میقات سے عبور کر گیا تو وہ نئے احرام کے ساتھ لوٹے ۔اور اگر اس نے ایام نحر کےبعد اعادہ کیا تو بدنہ اس پر سے ساقط ہو جائے گا لیکن امام اعظم کے نزدیک تاخیر کی وجہ سے اس پر بکری لازم ہے ۔ (لباب المناسک مع المناسک ،باب الجنایات ،فصل فی طواف الزیارۃ ،ص:۳۴۴،طبع:ادارۃ القران کراتشی)

    رد المحتار علی الدرالمختارمیں ملخصاً ہے :طَافَ لِلْفَرْضِ وَلَوْ جُنُبًا فَبَدَنَةٌ إنْ لَمْ يُعِدْهُ لكِنْ إذَا أَعَادَ طَوَافَ الْفَرْضِ بَعْدَ أَيَّامِ النَّحْرِ لَزِمَهُ دَمٌ عِنْدَ الْإِمَامِ لِلتَّأْخِيرِ، فَإِذَا أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ يَبْدَأُ بِهَا ثُمَّ يَطُوفُ لِلزِّيَارَةِ وَيَلْزَمُهُ دَمٌ لِتَأْخِيرِهِ عَنْ وَقْتِهِ۔ ترجمہ:اگر کسی نے طواف زیارت کیا اور وہ جنبی تھا تو اس پر بدنہ (یعنی اونٹ یا گائے ذبح کرنا لازم )ہے جبکہ اس نے اعادہ نہ کیا ہو۔لیکن اگر اس نے طواف زیارت کا اعادہ ایام نحر کے بعدکیا تو امام اعظم کے نزدیک تا خیر کی وجہ سے اس پر دم لازم ہے۔سو اگرکوئی شخص عمرے کا احرام باندھ کر آیا تو پہلے وہ عمرے کا طواف کرے پھر طواف زیارت کرے اور اس پر وقت سے تاخیر کی وجہ سے دم لازم ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار،باب الجنایۃ فی الحج،ج:۲،ص:۵۵۱،دَارالفکر ،بیروت)

    2: 3: اگر آپ نے1975ءمیں پہلا حج نفل کی نیت سے نہیں کیا تو فرض حج اسی کے ساتھ ادا ہوگیا تھا اوراب 2018ءمیں جو حج آپ نے کیا ہے وہ نفلی حج شمار ہوگا ،لہذا اب آپ مزید نفلی حج یا حج بدل کر سکتے ہیں۔لباب المناسک مع المناسک للعلامۃ علی القاری میں ہے :‘‘شرائط وقو ع الحج عن الفرض ،تسعۃ ؛الاسلام،و بقائہ الی الموت ،والعقل ،والحریۃ ،والبلوغ،والاداء بنفسہ ان قدر ،وعدم نیۃ النفل ،عدم افساد ہ بالجماع قبل الوقوف،وعدم النیۃ عن الغیر ۔ترجمہ: فرض حج کے واقع ہونے کے شرائط نو ہیں ۔مسلمان ہونا ،مرنے تک اسلام پر قائم رہنا ،عاقل ہونا ،آزاد ہونا ،بالغ ہونا ،مناسک حج خود ادا کرنا اگر ادائیگی پر قدرت ہو ،نفل حج کی نیت کا نہ ہونا ،وقوف عرفہ سے پہلے جماع کے ذریعے حج کو فاسد نہ کرنا،اور کسی دوسرے کی طرف سے حج کی نیت نہ ہونا ۔( لباب المناسک مع المناسک للعلامۃ علی القاری ،باب شرائط الحج ،فصل فی موانع وجوب الحج ،ص:۶۲،طبع:ادارۃ القران کراتشی)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:15جمادی اولی 1440 ھ/21جنوری 2019ء