سوال
میں ایک ہوٹل بلڈنگ پروجیکٹ میں انوسٹ کرنا چاہتا ہوں ، جسکی تفصیل درج ذیل ہے: 1: بلڈر کے ساتھ 14 سال کا معاہدہ ہے، جسکے مطابق میں کچھ رومز خریدوں گا جسکی پیمنٹ چار سال میں مکمل کرنی ہے ۔ 2: چار سال مکمل ہوتے ہی رینٹ کا معاہدہ شروع ہوجائے گا ، جوکہ اگلے دس سال تک جاری رہے گا اور یہ معاہدہ اسی ہوٹل کی مینجمنٹ کے ساتھ کرنا ہوگا، اس دوران میں یہ ہوٹل اپارٹمنٹ کسی اور کو یا ہوٹل مینجمنٹ کوبھی بیچ سکتا ہوں ۔لیکن کرایہ پر دینا ہوا تو اسی ہوٹل مینجمنٹ کو دینا ہوگا اسکے علاوہ کسی اور کو نہیں دے سکتا۔ 3: دس سال بعد یہ معاہدہ باہمی رضامندی کے ساتھ ری نیو بھی ہوسکتا ہے۔ 4: اگر آپ 100 فیصد پیمنٹ ابھی کردیں تو ابھی سے اس کا کرایہ شروع ہوجائے گا، حالانکہ ابھی تک ہوٹل بلڈنگ آپریشنل ہی نہیں ہوئی اور نہ ہی اسکی تعمیرات مکمل ہوئیں ہیں۔ مہربانی فرماکر اس معاہدہ کا تفصیلی جائزہ لے کر رہنمائی فرمائیں کہ یہ معاہدہ از روئے شرع کیا حیثیت رکھتا ہے۔ ` ` ` سائل:شعیب ہادی : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ بالا معاہدہ چند وجوہ کی بناء پر ناجائز ہے:
1: یہ صفقتان فی صفقۃ کی صورت ہے، یعنی ایک عقد میں دو معاہدہ بیع (sell)و اجارہ( Rent)کرنا ہے۔اور نبی کریم ﷺ نے صفقتان فی صفقۃ سے منع فرمایا۔
2: اس معاہدہ میں یہ شرط کہ ''چار سال کے بعد کرایہ پر اسی ہوٹل مینجمنٹ کو دیناہو گا '' شرطِ فاسد ہے، کہ یہ مقتضائے عقد کے خلاف ہے ، اور اس میں سراسر ہوٹل انتظامیہ کا نفع ہے۔اور شرطِ فاسد ،عقودِ مالیہ میں اس عقد کو فاسد کردیتی ہے لہذا اس شرط کی وجہ سے بھی یہ معاہدہ جائز نہیں ہے۔
3: اگر خریدار(buyer) ابھی مکمل رقم دے دے، تو کرایہ شروع ہوجائے گا ، یہ ایک الگ وجہِ فساد ہے کہ ابھی تک چیز وجود میں نہ آئی تو اسے کرائے پر کیونکر دے سکتا ہے؟ نیز یہ کہ شئےِ مستاجرہ کے وجود کے بغیر کرایہ کس منفعت کے عوض لے گا۔ لہذا یہ معاہدہ جائز نہیں ہے۔
صفقتان فی صفقۃ سے متعلق حدیث مبارک میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ،قَالَ،نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ۔ ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سودے میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا۔( مسند احمد بن حنبل،ج 6 ص 324،حدیث نمبر 3783)
ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے: فيصير صفقتان في صفقة واحدة وهي منهي عنه.ترجمہ:تو یہ ایک سودے میں دو سودے ہیں جو کہ (بحکم ِ حدیث )ممنوع ہے۔( هدایة شرح بدایة المبتدی، باب الاجارۃ الفاسدۃ ، ج3 ص 241)
علامہ ابن نجیم بیوع فاسدہ گنواتے ہوئے لکھتے ہیں:وَکَذَلِکَ صَفْقَتَانِ فِی صَفْقَة.ترجمہ :اور اسی طرح صفقتان فی صفقۃ یعنی ایک سودے میں دوسرا سودا(بھی بیع فاسد کی قسم ہے) ۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق باب البیع الفاسد ج4ص43)
شرطِ فاسد ، عقد یعنی سودے کو فاسد کردیتی ہے جیسا کہ فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: وان کان الشرط شرطا لم یعرف ورودالشرع بجوازہ فی صورة وهو لیس بمتعارف، ان کان لاحد المتعاقدین فیه منفعة۔۔۔فالعقد فاسد.ترجمہ: اگر شرط ایسی ہو جو شریعت میں جائز نہ ہو اور نہ ہی لوگوں کے درمیان وہ معروف ہو ، اگر اس میں کسی ایک (یعنی فروخت کنندہ یا خریدار) کا فائدہ ہو، تو عقد فاسد ہوتا ہے۔(فتاوی تاتار خانیة، جلد8، صفحہ410، هند)
پھر ہدایہ میں ہے:كل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع.ترجمہ:ہر وہ شرط کہ عقد جسکا تقاضہ نہ کرے اور اس شرط کی وجہ سے عاقدین میں سے کسی ایک کایا معقود علیہ کا فائدہ ہورہا ہو تو ایسی شرط بیع کو فاسد کردے گی۔مثلا یہ شرط لگانا کہ مشتری ، غلامِ مبیع کو نہ بیچےگا۔(الهدایة شرح بدایة المبتدی، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد جلد 3 ص 48۔ بیروت)
یوں ہی درمختار میں ہے: الاصل الجامع فی فساد العقد شرط لایقتضیه العقد ولایلائمه وفیه نفع لاحد هما .ترجمہ: فساد عقد میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہو جس کا تقاضہ عقد نہیں کرتا اورنہ ہی وہ عقد کے ملائم ہے اور اس میں عاقدین میں سے کسی کا نفع ہو ۔(رد المحتار علی الدر المختار ، جلد:5،ص:84،دارالفکر بیروت)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:وکل شرط فاسد فهو یفسد البیع وکل بیع فاسد حرام واجب الفسخ علی کل من العاقدین فان لم یفسخا اثما جمیعا وفسخ القاضی بالجبر. ترجمہ: جو شرط فاسد ہو وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے اور ہر فاسد بیع حرام ہے جس کا فسخ کرنا بائع اور مشتری میں سے ہر ایک پر واجب ہے اگر وہ فسخ نہ کریں تو دونوں گنہگار ہوں گے اور قاضی جبراً اس بیع کو فسخ کرائے۔ (فتاویٰ رضویہ،کتاب البیوع، ج17، ص ، 160،رضا فاؤنڈیشن لاہور )
پھر جس چیز کو کرایہ پر دیا جائے اسکا موجود ہونا ضروری ہے ، بغیر وجودِ شئ کے کرایہ پر نہیں دے سکتا جیساکہ شامی میں ہے: ذَكَرَ فِي الْبَحْرِ أَنَّ مِنْ شَرَائِطِ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ أَنْ يَكُونَ مَوْجُودًا، فَلَمْ يَنْعَقِدْ بَيْعُ الْمَعْدُومِ.ترجمہ:بحر میں مذکور ہے کہ معقود علیہ (جس کا سودا کیا گیا ہے) کی شرط یہ ہے کہ وہ موجود ہو لہذا معدوم کی بیع منعقد نہیں ہوگی۔( شامی, کتاب البیوع جلد: 5ص 30)
معدوم کی بیع منعقد نہیں ہوسکتی تو اسکا اجارہ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ قاعدہ ہے الاجارۃ اخت البیع یعنی اجارہ بیع کے مشابہ ہے،ہدایہ میں ہے:والإجارة والرهن بمنزلة البيع؛ لأنها تبطل بالشروط الفاسدة.ترجمہ:اجارہ اور رہن بیع کی طرح ہیں کیونکہ یہ بھی شرط فاسد سے باطل ہوجاتے ہیں۔(الهدایه شرح بدایة المبتدی، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد جلد 3 ص 49۔ بیروت)
صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:ملک وولایت یعنی اجارہ کرنے والا مالک یا ولی ہو اجارہ کرنے کا اختیار اسے حاصل ہو۔( بہار شریعت حصہ چہاردہم ج3ص108)
اسکا حل یہ ہے کہ سب سے پہلے صرف بیع (خرید و فروخت )کا معاہدہ کیا جائے ، اسکے بعد ہوٹل مینجمنٹ سے الگ طور پر دس سال کا رینٹ ایگریمنٹ کرلیں پھر جب چار سال میں بیع کا معاہدہ مکمل ہوجائےتو رینٹ پر دے دیں ۔ لیکن یاد رہے کہ یہ شق '' اگر آپ 100 فیصد پیمنٹ ابھی کردیں تو ابھی سے اس کا کرایہ شروع ہوجائے '' ہر صورت میں نا جائز ہے۔لہذا اس پر عمل کرنا اور اس صورت میں اجارہ لینا دونوں ہی ناجائز ہے۔
والله تعالٰی اعلم بالصواب
الجـــــواب صحـــیـح : ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
کتبـــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
تاریخ اجراء:25 ربیع الاول 1443 ھ/01 نومبر2021 ء