hijama ke mutaliq sharai masail
سوال
کیا بدھ کے روز حجامہ کرنا یا کروانا منع ہے ؟اور بعض لوگ بدھ کے روز حجامہ کا منع کرتے ہیں کیوں کہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ بدھ کے روز حجامہ کرنے کی صورت میں برص کی بیماری کا خدشہ ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں بدھ کے دن کو سنت حجامہ نہ کریں باقی کریں۔
اور جب کہ حدیث مبارکہ میں چاند کی 17،19،21تاریخوں میں حجامہ کروانا زیادہ فائدہ مند قرار دیا گیا ہے ،اور اگر بدھ کا روز انہی تاریخوں میں آجائے تو کیا حجامہ کروایا جاسکتا ہے یا نہیں ؟اگر واقعی حدیث شریف میں بدھ کے دن حجامہ کرنا منع ہے تو جو حضرات بدھ کے روز حجامہ کرتے یا کرواتے ہیں کیا وہ حدیث مبارکہ خلاف عمل کرتے ہیں ۔
ڈاکٹرمنصور ترابی،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جواب سے پہلے چند چیزوں کو جاننا چاہیئے:
(1)حدیث مبارکہ میں حجامہ کے فوائد کو مطلق (وقت کی تخصیص کے بغیر)بیان کیا گیا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ:"مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا كُلُّهُمْ يَقُولُ لِي: عَلَيْكَ، يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ "(سنن ابن ماجہ ،باب الحجامۃ ، ج:۲،ص:۱۱۵۱، رقم:۴۳۷۷،دار احیاءالکتب العربیۃ،حلب):ترجمہ: معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا کہ :اےمحمدﷺ آپ حجامہ کو لازم پکڑ لیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا :إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ(صحیح مسلم ،باب حل اجر الحجامۃ،ج:۳،ص:۱۲۰۴،رقم:۱۵۷۷،طبع:دار احیاء التراث العربی،بیروت):ترجمہ: بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنا لگوانا ہے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ:"نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ، يَذْهَبُ بِالدَّمِ، وَيُخِفُّ الصُّلْبَ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ"(سنن ابن ماجہ ،باب الحجامۃ ،ج:۲،ص:۱۱۵۱، رقم:۴۳۷۷،دار احیاءالکتب العربیۃ،حلب):ترجمہ:حجامہ کرنے والا شخص کتنا اچھا ہے جو (بندے کا فاسد)خون لے جاتا،کمر کو ہلکا کرتااور آنکھوں کو روشن کردیتا ہے۔
(2)بہتر اور فائدہ مند اوقات اور دنوں کی تفصیل:
حدیث مبارکہ میں دو اعتبار سے وقت کی تخصیص آئی ہے ،ایک مہینہ کے اعتبار سےیعنی۱۹،۱۷اور۲۱تاریخوں کو اور ایک ہفتہ کے دنوں کے اعتبار سےیعنی پیر،منگل اور جمعرات کو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ:إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَالَ: إِنَّ خَيْرَ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ يَوْمَ سَبْعَ عَشْرَةَ وَيَوْمَ تِسْعَ عَشْرَةَ وَيَوْمَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ(سنن ترمذی ،باب ماجاءفی الحجامہ،ج:۴،ص:۳۹۱،مطبعۃ مصطفی البابی،مصر،ملتقطا):ترجمہ:بلا شبہ تمہارے لیئےحجامہ کرنے کے بہتردن سترہ ،انیس اور اکیس تاریخیں ہیں۔
(3)ہفتے کے بعض ایام میں حجامہ کے کراہت پر احادیث:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنےفرمایا:الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ، وَفِيهِ بَرَكَةٌ وَشِفَاءٌ يَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَيَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا، وَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَاجْتَنِبُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ، وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللَّهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلَاءِ، وَلَيْسَ يَبْدُو بَرَصٌ وَلَا جُذَامٌ إِلَّا يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَلَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ، وَإِنَّمَا ابْتُلِيَ أَيُّوبُ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ(المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب الطب،ج:۴،ص:۴۵۴،طبع:دارالکتب العلمیۃ،بیروت):ترجمہ:خالی پیٹ حجامہ کرنا زیادہ مفید ہے اور اس میں برکت وشفاء ہے اور یہ عقل وحافظہ کو بڑھانے والی ہے ،اور تم اللہ تعالی کی برکت کے ساتھ جمعرات کو حجامہ کرواور جمعہ ،ہفتہ اور اتوار کو حجامہ سے بچواور پیر و منگل کو حجامہ کروکہ یہ وہ دن ہیں جس میں حضرت ایوب علیہ السلام کواللہ تعالی نے بیماری سے شفاء عطاء کی ،اور جزام اور برص کی بیماری ہمیشہ بدھ کے دن یا رات کو ہی شروع ہوئی ہے۔اور حضرت ایوب علیہ السلام بدھ کے دن ہی عارضہ میں مبتلی ہوئے ۔
(4)جن ایام میں حجامہ کی کراہت آئی ہے وہ تحریمی ہے یا تنزیہی؟
امام زہری سے مرسلاًروایت ہے :مَنِ احْتَجَمَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، أَوْ يَوْمَ السَّبْتِ، فَأَصَابَهُ وَضَحٌ؟ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ(مرقات المفاتیح ،کتاب الطب والرقی، ج:۷ ، ص:۲۸۷۷، طبع:دارالمعرفۃ ،لبنان) :ترجمہ:جس نے بدھ اور ہفتہ کو حجامہ کروایا اور اس پر برص کے اٰثار ظاہر ہوئے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔
زاد المعاد فی ھدی خیر المعاد میں ہے:أَخْبَرَنَا حَرْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قُلْتُ لأحمد: تُكْرَهُ الْحِجَامَةُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَ: قَدْ جَاءَ فِي الْأَرْبِعَاءِ وَالسَّبْتِ.وَفِيهِ عَنِ الحسين بن حسان أَنَّهُ سَأَلَ أبا عبد الله عَنِ الْحِجَامَةِ: أَيَّ يَوْمٍ تُكْرَهُ؟ فَقَالَ: فِي يَوْمِ السَّبْتِ وَيَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ:ترجمہ: حرب بن اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن ضنبل سے پوچھا کہ کیا آپ کسی دن حجامہ کروانا ناپسند فرماتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا بدھ اور ہفتے کے دن احادیث میں کراہت آئی ہے ۔ اسی میں ہے کہ حسین بن حسان نے ابو عبداللہ سے حجامہ کے بارے میں سوال کیا کہ آپ کس دن حجامہ مکروہ سمجھتے ہیں انہوں نے فرمایا ہفتہ اور بدھ کے دن۔(زاد المعاد فی ھدی خیر المعادلابن قیم ،فصل فی اختیارایام الاسبوع للحجامۃ جلد4 ص 55)
خلاصہ یہ ہے کہ ہفتے کے ایام میں سے صرف ایک پیر ،اور جمعہ کے دن ایسےہیں کہ ان دنوں میں حجامہ کرانے سے ممانعت نہیں آئی، اتوارجمعرات اور منگل کے دنوں کے بارے میں بھی بعض روایات میں ممانعت وارد ہوئی ہے، بعض روایات میں ان دنوں میں حجامہ کرانے کا حکم ہے، پھر ان ایام میں سے سب کم ممانعت ہے وہ جمعرات کے بارے میں ہے ،اور رہے اتواراور منگل تو اس کے بارے میں وارد ہونے والی ممانعت جن احادیث سے ثابت ہے انکو محدثین نے ضعیف کہا ہے ۔ اب دو دن باقی رہ گئے ہفتہ اور بدھ تو ہفتہ اور بدھ کے دن میں حجامہ کرانے سے بہت تاکید کے ساتھ ممانعت آئی ہے،اور ان دونوں میں سے بھی بدھ کے روز وارد ہونے والی ممانعت قوی ہے۔لہذا بدھ کےدن نہ حجامہ کرنا چاہیے اور نہ ہی کروانا چاہیے بصورت دیگر حدیث پاک کی مخالفت لازم آئے گی ۔
چناچہ امام دار قطنی کی الافراد میں ہے:وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ وَلَا تَحْتَجِمُوا يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ:ترجمہ:پیر اور منگل کو حجامہ لگواؤ اور بدھ کو نہ لگواؤ۔(کتاب الافراد للدار قطنی،بحوالہ زاد المعاد جلد 4 ص 55)
یوں ہی دوسری حدیث میں ہے :وَمَا كَانَ مِنْ جُذَامٍ وَلَا بَرَصٍ إِلَّا نَزَلَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ:ترجمہ: اور جذام (کوڑھ) اور برص کی بیماری صرف بدھ کے دن ہی نازل ہوتی ہے۔(ایضا)
مختلف ایام میں حجامہ کی ممانعت والی احادیث کا حکم اور اس بارے میں حرف آخر:
ہفتے کے جن ایام میں حجامہ کی ممانعت کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں وہ سب کی سب ضعیف احادیث ہیں اور ضعیف احادیث سے کوئی حکم شرع ثابت نہیں ہوتا،لہذا ہفتے کے تمام ایام حجامہ کرواسکتے ہیں جیسا کہ علامہ ابن حجر فرماتے ہیں :
وَوَرَدَ فِي الْأَوْقَاتِ اللَّائِقَةِ بِالْحِجَامَةِ أَحَادِيثُ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ عَلَى شَرْطِهِ فَكَأَنَّهُ أَشَارَ إِلَى أَنَّهَا تُصْنَعُ عِنْدَ الِاحْتِيَاجِ وَلَا تَتَقَيَّدُ بِوَقْتٍ دُونَ وَقْتٍ(فتح الباری،باب ای ساعۃ یحتجم،ج:۱۰،ص:۱۴۹،طبع:دارالمعرفۃ،بیروت):ترجمہ:حجامہ کےوہ مناسب اقات جو احادیث میں وارد ہوئی ہیں ان میں (وقت کی) کوئی شرط نہیں ہے گویا کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے حجامہ ضرورت کے وقت کیا جائے اور اس میں کسی ایک وقت کی قید نہیں ہے۔
البتہ دیگر ایام کی بہ نسبت بدھ کے دن حجامہ کی ممانعت میں وارد ہونے والی احادیث کثیر ہیں نیز پھر بدھ کا بیماریوں کی تخلیق کا دن بھی ہے لہذا کثرت احادیث اور قرائن کی بنیاد پر ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بدھ کے دن حجامہ لگواناصرف مکروہ تنزیہی ہوگا ۔البتہ اگر بدھ کا دن ان تاریخ میں آجائے جن کی حدیث میں فضیلت وارد ہوئی تو پھر بدھ کے دن بھی مکروہ نہیں ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالمصطفٰی ظہور احمد نقشبندی
تاریخ اجراء:03 رمضان المبارک 1440 ھ/09 مئی2019 ء