مرض الموت کا ہبہ، وراثت کی تقسیم
    تاریخ: 4 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 959

    سوال

    میرے شوہر طارق عطاء الرحمان کاا نتقال 15 اپریل 2019 کو ہوا ، انکی دو شادیاں تھیں پہلی بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔پہلی بیوی کو 15 سال قبل طلاق دے دی تھی ، دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہے ۔

    مرحوم ایک سال سے بیمار تھے ، انہیں سانس کی بیماری تھی جسکی وجہ سے وہ لیٹ کر سو بھی نہیں سکتے تھے ۔ اسی بیماری میں انکا انتقال ہوا ۔ اسی دوران انہوں نے مجھ سے کئی بار کہا کہ میری الماری کے کارنر کے دراز میں جو پیسے ہیں وہ سب تمہارے ہیں اور میرے حوالے کردیئے تھے۔ اسکے علاوہ مرحوم کا ایک فلیٹ بھی تھا جو انہوں نے میرے نام پر خریدا تھا ،اسکے کاغذات اور فائل میرے پاس ہے ۔ 15 سال سے میں انکے ساتھ اسی فلیٹ میں رہ رہی تھی،انکے انتقال کے بعد بھی اسی فلیٹ میں رہ رہی ہوں اسکے علاوہ میرے پاس کوئی جائیداد یا گھر نہیں ہے۔برائے مہربانی تمام چیزوں کی شرعی تقسیم فرمادیں ۔

    سائلہ: اشرف امانت: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں دو امور ہیں ۔

    1: بیماری کی حالت میں الماری کے پیسے حوالے کرنا۔

    2: فلیٹ جو دوسری بیوی کے نام سے خریدا۔

    1: پہلی صورت مرض الموت میں ھبہ (گفٹ)کی ہے اور مرض الموت میں کیا گیا ھبہ وصیت کے حکم میں ہوتا ہے ، جبکہ یہاں جس کے لیے مکان ھبہ کیا گیا وہ خود شرعی وارث ہیں لہذا انکے حق میں وصیت بھی جائز نہیں ہے ۔لہذا یہ رقم مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوگی۔ مرض الموت کی بہت سی تعریفات ہیں جن میں سے درست یہ ہے کہ ایسا مرض ہو جس میں غالبا انسان بچتا نہ ہو ،بلکہ مرجاتا ہو تو جب تک موت کا خوف ہے اس وقت تک یہ مرض الموت کہلائے گا اگر چہ تندرستوں کی طرح چلے پھرے ۔تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: مَرَضِ الْمَوْتِ أَنْ لَا يَخْرُجَ لِحَوَائِجِ نَفْسِهِ وَعَلَيْهِ اعْتَمَدَ فِي التَّجْرِيدِ بَزَّازِيَّةٌ وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ مَا كَانَ الْغَالِبُ مِنْهُ الْمَوْتُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبَ فِرَاشٍ قُهُسْتَانِيُّ عَنْ هِبَةِ الذَّخِيرَةِترجمہ:مرض الموت کی تفسیر میں فرمایا گیا (کہ موت سے قبل) اپنی بنیادی ضروریات کے لئے گھر سے نکل نہ سکے، تجرید میں اسی پر اعتماد کیا ہے، بزازیہ، قہستانی نے ذخیرہ کے باب الہبہ کے حوالہ سے کہا ہے کہ مختاریہ ہے کوئی بھی ایسا عارضہ جس سے غالبا موت واقع ہوجاتی ہو اگر چہ صاحب فراش نہ ہوا ہو۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار ،کتاب الوصایا جلد 6 ص 660)

    اب جبکہ مورث کا انتقال اسی مرض کے سبب ہوا تو ظاہر ہوا کہ یہ مرض الموت ہی ہے اور یہ پیسے مرض الموت میں دوسری بیوی کے نام کیے گئے ہیں ،اور مرض الموت میں اگر اجنبی کے لیے ھبہ ہو تو وہ کل مال کے ایک ثلث میں نافذ ہوتا ہے اور وارث کے حق میں بس اسکے وارث ہونے کا اعتبار ہے اس ھبہ کا اس سے کچھ تعلق نہیں ۔الا یہ کہ دیگر ورثاء اس پر رضامندی ظاہر کردیں تو اب یہ رقم موھوب لہ کو مل سکتی ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: وكذلك الهبة في المرض بأن وهب المريض لوارثه شيئا ثم مات إنه يعتبركونه وارثا له وقت الموت لا وقت الهبة لأن هبة المريض في معنى الوصية حتى تعتبر من الثلث لأن تبرعات المريض مرض الموت تعتبر بالوصايا ترجمہ: اسی طرح مرض الموت میں ھبہ کا حکم ہے بایں طور مریض نے اپنے وارث کے لیے کچھ ھبہ کیا پھر وہ مرگیا تو اسکے وارث ہونے کا اعتبار موت کے وقت ہوگا ھبہ کے وقت نہیں ہوگا ، کیونکہ مرض الموت میں مریض کے تبرعات وصیت کے طور پر معتبر ہوتے ہیں۔(بدائع الصنائع کتاب الھبۃ باب الشرط التی یرجع الی الموصی لہ جلد 7 ص 337)

    2: یہ فلیٹ اگر انہوں نے آپ کے نام سے خرید کرا تو یہ خاص آپکی ملکیت ہے ، اس میں دیگر ورثاء کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ لیکن صرف کاغذات میں نام کیا اور ملکیت نہیں دی تو اس صورت میں یہ فلیٹ تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مال وراثت کو 40 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔جس میں سے مرحوم کی زوجہ کو 5 حصے ملیں گے ہر بیٹے کو 14 حصے جبکہ ہر بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ

    مسئلہ : 40 =5x8

    مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوہ بیٹا بیٹا بیٹی

    1/8 عصبـــــــــــــــــــــــہ

    1 7

    5 14 14 7

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 02 جمادی الاول 1441 ھ/30 دسمبر 2019ء