زندگی میں مکان کی تقسیم
    تاریخ: 4 مارچ، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 955

    سوال

    میں نےاپناگھربیچاہےجسکی رقم کی کلّی مالک میں خودہوں۔ اب میراسوال ہےکہ اس رقم کومیں اپنی اولاد کودینےکی پابندتونہیں ہوں اور اگریہ رقم میں اپنے کسی بھی استعمال میں لےلوں اوربعدمیں،میں مرجاتی ہوں تومیں گناہگارتونہیں ہوگی ؟ کیا یہ رقم اپنے بچوںمیں تقسیم کرنا لازمی ہے؟؟

    سائلہ:مجیدن خانم : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ واقعی ایسا ہے تو یہ رقم خاص آپکی ملکیت ہے ،آپ اسے جیسے چاہیں استعمال کرسکتی ہیں ،زندگی میں آپ پر اسکو اولاد کے مابین تقسیم کرنا شرعاً ضروری نہیں،جب تک آپ بقیدِ حیات ہیں ،اولاد ان چیزوں کو لینے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔اور اگر مطالبہ کرے تو اسے پورا کرنا آپ پر ضروری نہیں ۔اور اسی حالت میں انتقال ہوگیا تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

    البتہ اگر اپنی خوشی سے اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہوں تو کر سکتے ہیں۔اور یہ تقسیم کاری از قبیل ِوراثت نہیں ہو گی اسلئے کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے ۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔

    زندگی میں اولاد کے مابین جائیداد وغیرہ تقسیم کرنا چاہیں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں اتنا مال و متاع اپنے پاس رکھ لیں،اور اسکے بعد جو بچے وہ تمام اولاد بیٹا ،بیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرےکے مقابلے میں ذیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسری کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی ذیادہ خدمت گذار ہے ،یا دسری کے مقابلے میں ذیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔ صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)

    بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا)مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    البحر الرائق میں ہے: يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)

    خلاصہ یہ ہے کہ شرعی طور پر آپ پر لازم نہیں کہ اولاد کے مابین جائیداد وغیرہ تقسیم کر دیں ۔ہاں اپنی خوشی سے بطورِ احسان تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں ، لیکن سب میں برابر برابر تقسیم کرنا ہو گی ، البتہ کسی خاص دینی وجہ سے ایک کو زیادہ دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:01 ذو الحج 1441 ھ/23 جولائی 2020 ء