صرف نام کرنے سے مکان کی ملکیت کا حکم
    تاریخ: 4 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 957

    سوال

    میرے بیٹے نےاپنا مکان اپنی خوشی سے میرے نام کیا ،یعنی اس مکان کی گفٹ ڈیڈ بنواکر مجھے دے دی فائل ٹرانسفر ہوگئی۔ اب جبکہ میری عمر کافی ہوچکی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ یہ مکان میں اسے واپس کردوں۔ کیا اس میں شرعی قباحت ہے یا نہیں ؟ نیز اس مکان میں دوسرے بہن بھائیوں کا حصہ ہے یا نہیں ؟

    سائل: وصی الرحمان: شاہ فیصل ٹاؤن کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مکان کی گفٹ ڈیڈ بنوادینا شرع میں ھبہ کا حکم رکھتا ہے، جس کے لئے قبضہ ضروری ولازم ہے ،جبکہ فائل ٹرانفسر کرنا قبضہ شرعی نہیں ہے، تو ھبہ تام نہ ہوا،لہذا وہ مکان اصل مالک یعنی بیٹے کی ملک میں ہی باقی ہے ۔جب مکان بیٹے کی ملک سے نکلا ہی نہیں تو یہاں واپس کرنے کا کیا معنٰی؟ پھر جب وہ خالص بیٹے کا ہے تو اس میں کسی دوسرے بہن بھائیوں کا کوئی حق نہیں ہے۔تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 ربیع الثانی 1441 ھ/24 دسمبر 2019ء