سوال
1998 میں ہمارے مالک مکان ولایت حسین نے جس مکان کے آدھے پورشن پر ہم کرایہ پر تھے اور آدھے مکان پر ولایت حسین خود رہائش پزیر تھا۔ مکان نمبر A45ملیر کالونی اور گلشن کنیز فاطمہ پلاٹ نمبر 41-B-III-Eکی اوریجنل فائلیں میرے والد شکیل الرحمن کے پاس رکھوائی تھی (جبکہ ولایت حسین کے اپنے وارثوں میں تین چچا زندہ تھے،ولایت حسین کے ماں باپ بہن بھائی بیوی بچے نہیں تھے )۔
میرے والد شکیل الرحمن کے تعلقات بہت تھے ایم کیوایم میں پولیس میں،میرے والد جسٹس منیب اختر کے فیملی درزی تھے۔میرے والد کے تعلقات سے ڈر کرمالک مکان ولایت حسین کے پھوپھی زاد بھائی اشرف حسین (جو کہ نومینیٹ تھا) نے مکان نمبر A45ملیر کالونی مسجد میں دے دیا۔یہ کام اشرف نے غلط کیا تھا۔میرے والد شکیل الرحمن نے اس واسطے کہ ولایت حسین نے پراپرٹی کے کاغذات ہمارے پاس رکھوائے ہیں دونوں پراپرٹی کے نقلی ایگریمنٹ بنا کر مسجد والوں پر مکان نمبر A45ملیر کالونی کا عدالت میں کیس کر دیا۔اور گلشن کنیز فاطمہ کا پلاٹ اسٹیٹ ایجنٹ محمد عباس کو تین لاکھ میں بیچ دیا۔
میرے والد شکیل الرحمن کی طبیعت بہت خراب ہے مرنے کے قریب ہیں۔ کیا میرے والد کی اور ہماری اللہ کے ہاں پکڑ تو نہیں ہوگی؟مرنے کے بعد ہم سب کی بخشش ہو جائے گی؟ شرعی راستہ دیکھ کر رہنمائی فرمائیں شکریہ۔
سائل: اطہر علی (بیٹا)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جعلی ایگریمنٹ بنا کر جھوٹا کیس کرنا اور گلشن کنیز فاطمہ کا پلاٹ مالک کی اجازت کے بغیر بیچ دینا سراسر ظلم اور شدید ظلم ہے۔جو بھی اس سخت ظلم میں ملوث ہوا اس پر لازم ہے کہ اللہ عزوجل اور اس مظلوم سے معافی طلب کرنے کے ساتھ ساتھ مالک کو مال بھی لوٹائے ،جھوٹا کیس واپس لے ،جو پلاٹ بیچا وہ مالک کو واپس لوٹائے، اگر مالک انتقال کر گیا ہو تو اس کے ورثاء کو دے یا پھر مالک سے یا مالک کے نہ ہونے کی صورت میں اس کے ورثاء سے معاف کروا لے اور اللہ عزوجل کی پکڑسے ڈرےاور سچے دل سے اپنے رب سے معافی مانگے،اس کام میں بالکل دیر نہ کرے،اللہ تائب کی توبہ قبول کرنے والا ہے البتہ اگر تائب نہ ہوئے اور مالک سے اپنا معاملہ درست نہ کرلیا (یعنی مال لوٹا کر یا معافی کرواکر)تو اللہ بے نیاز ہے اگر بخشش نہ ہوئی تو کیا بنے گاالعیاذ باللہ۔
تفصیل:
جب بندے کو اس بات کی معرفت حاصل ہوجائے کہ گناہ کا نقصان بہت بڑا ہے، گناہ بندے اور اس کے محبوب کے درمیان رکاوٹ ہے تو وہ اس گناہ کے ارتکاب پر ندامت اختیار کرتا ہے اور اس بات کا قصد واِرادہ کرتا ہے میں گناہ کو چھوڑ دوں گا، آئندہ نہ کروں گا اور جو پہلے کیے ان کی وجہ سے میرے اعمال میں جو کمی واقع ہوئی اسے پورا کرنے کی کوشش کروں گا تو بندے کی اس مجموعی کیفیت کو توبہ کہتے ہیں۔
بعض ایسے گناہ ہوتے ہیں جن کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہوتا ہے۔ جیسے چوری، غیبت ،چغلی ،اذیت دینا ، ماں باپ کو ستانا ،امانت میں خیانت کرنا(اور یہی صورت سوال میں موجود ہے)،قرض لے کر دبا لینا وغیرھا۔
بندوں کے حقوق سے متعلق گناہ اگر ان کی عزت وآبرو میں دست اندازی کی وجہ سے سرزد ہوئے ہوں۔ مثلاً کسی کوگالی دی تھی یا تہمت لگائی تھی یا ڈرایا دھمکایا تھا تو توبہ کی تکمیل اللہ عزوجل اور اس مظلوم سے معافی طلب کرنے سے ہوگی۔
اور اگر مالی معاملے میں شریعت کی خلاف ورزی کی وجہ سے گناہ واقع ہوا تھا۔مثلاً امانت میں خیانت کی تھی (جیسا کہ سوال کی صورت ہے)یا قرض لے کر دبا لیا تھا تو اللہ عزوجل اور اس مظلوم سے معافی طلب کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اس کا مال بھی لوٹائے اور اگر وہ شخص انتقال کر گیا ہو تو اس کے ورثاء کو دے دے یا پھر اس شخص سےیااس کے نہ ہونے کی صورت میں اس کے ورثاء سے معاف کروا لے، اگر اس شخص کا علم نہیں، نہ ہی اس کے ورثاء کا، تو اتنا مال اس مظلوم کی طرف سے اس نیت کے ساتھ صدقہ کردے کہ اگر وہ شخص یا اس کے ورثاء بعدمیں مل گئے اور انہوں نے اپنے حق کا مطالبہ کیا تو میں انہیں ان کا حق لوٹا دوں گا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کرتا رہے۔
دلائل و جزئیات:
کامل مسلمان ہمیشہ دوسروں کے حقوق دبانے یا انہیں تلف کرنے سے بچتا ہے،نبی آخر الزماں ﷺکافرمان ہے:"كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ مَالُهُ، وَعِرْضُهُ، وَدَمُهُ حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".ترجمہ:مسلمان کی سب چیزیں (دوسرے) مسلمان پرحرام ہیں، اس کا مال،اس کی آبرو اور اس کا خون۔(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی الغیبۃ،4/270،رقم:4882، المكتبة العصريۃ)
صحیح بخاری کی روایت ہے:" مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ".ترجمہ:جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں ظُلم ہو،ا سے لازم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے ،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے جائیں گے۔(صحیح البخاری،كتاب المظالم والغصب،باب من كانت له مظلمة عند الرجل،3/129،رقم:2449،دار طوق النجاۃ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’سچی توبہ اللہ عزوجل نے وہ نفیس شے بنائی ہے کہ ہر گناہ کے ازالے کو کافی ووافی ہے، کوئی گناہ ایسا نہیں کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں تک کہ شرک وکفر۔ سچی توبہ کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پراس لیے کہ وہ اس کے ربّ عزوجل نافرمانی تھی، نادِم وپریشان ہو کرفوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گُناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دِل سے پُورا عزم کرے، جو چارۂ کار اس کی تلافی کا اپنے ہاتھ میں ہوبجا لائے۔مثلاً نماز روزے کے ترک یا غصب (ناجائز قبضہ)، سرقہ(چوری)، رشوت، ربا(سود)سے توبہ کی تو صرف آئندہ کے لیے ان جرائم کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے جو نماز روزے ناغہ کیے ان کی قضا کرے، جو مال جس جس سے چھینا، چرایا، رشوت، سود میں لیا انہیں اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کردے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو اتنا مال تصدق (یعنی صدقہ)کردے اور دل میں یہ نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگر تصدق پر راضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انہیں پھیر دوں گا‘‘۔(فتاوی رضویہ،21/121،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
علامہ ابو الحسن علی بن سلطان نور الدین الملا ّعلی قاری (المتوفی:1014ھ) فرماتے ہیں:"وان کانت مما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الاموال فتتوقف صحۃ التوبۃ منہا مع ماقدمناہ فی حقوق اﷲ تعالٰی علی الخروج عن عہدۃ الاموال وارجاء الخصم بان یتحلل عنہم ایردھا الیہم اوالی من یقوم مقامہم من وکیل او وارث".ترجمہ:اگر ضائع کردہ حقوق کا تعلق بندوں سے ہو تو صحت تو بہ اس پر موقوف ہے جس کو ہم نے پہلے حقوق اللہ کے ضمن میں بیان کردیا ہے کہ اس کی صورت میں اموال کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا اور مظلوم کو راضی کرنا ضروری ہے جن کا مال غصب کیا گیا، وہ انہیں واپس کیاجائے یا ان سے معاف کرایا جائے اور وہ متعلقہ افراد موجود اوربقید حیات نہ ہوں تو ان کے ورثاء متعلقین اور قائم مقام افراد و وکلاء کے ذریعے اموال کی واپسی او ر معافی عمل میں لائی جائے۔(منح الروض شرح فقہ الاکبر،التوبۃ والشرائطہا،ص:158،مصطفی البابی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد يونس انس القادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 24 محرم الحرام 1445 ھ/31 جولائی 2024ء