سوال
مجھ میں اور میری بیوی میں کچھ عرصہ سے ایسے معاملات ہیں جو کہ کسی بھی شوہر کے لئے ناقابلِ برداشت ہیں ۔ اسی وجہ سے ہماری علیحدگی ہوگئی ہے ۔ لوگوں کے پوچھنے پر کئی بار یہ کہہ چکا ہوں کہ وہ میری طرف سے فارغ ہے۔کیا یہ طلاق واقع ہوچکی ہے یانہیں ؟
سائل:محمد خرم شیخ :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
وہ میری طرف سے فارغ ہے،اور اس جیسے الفاظ بابِ طلاق میں صریح کا درجہ رکھتے ہیں لہذا اگر شوہر یہ الفاظ تین بار کہہ چکا ہے خواہ ایک مجلس میں کہا ہو یا متفرق طور پریعنی الگ الگ کہا ہو۔بہر صورت اسکی بیوی کو تین طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہیں ۔جسکی بعد عورت اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔اور عورت پر عدت لازم ہوچکی ہے ۔لہذا عورت ایامِ عدت شمار کرنا شروع کردے ۔
وہ میری طرف سے فارغ ہے اور اس جیسے الفاظ فی زمانہ صریح ہیں اس سلسلے میں فقیہ العصر ، تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی اپنے مبسوط فتوٰی بنام ''طلاق کےالفاظ صریح وکنایہ پرایک مبسوط فتوى'' میں فرماتے ہیں:ہمارے نزدیک اردو زبان کے الفاظ '' میں نے تمہیں فارغ کیا '' یا ''تم میری طرف سے فارغ ہو'' کی وضع طلاق کے لئے نہیں ہے اس لئے فقہاء کرام نے انہیں کنایہ شمار فرمایا تھا۔لیکن بحکمِ مقدمہ خامسہ پاکستان کے اکثر شہروں میں یہ الفاظ طلاق کے لئے کثیر الاستعمال ہونے اور عرف و عادت کی وجہ سے ملحق بالصریح ہیں ۔کیونکہ آک کل جب بھی کوئی شخص یہ الفاظ بولتا ہے تو بغیر کسی قرینہ خارجیہ کے متبادر الی الفہم طلاق کے معنٰی ہی ہوتے ہیں ۔لہذا بحکمِ مقدمہ اولٰی ان الفاظ سے ہر حال میں بلانیت طلاق واقع ہوجائے گی۔اور ایک سے زائد بار بولنے کی صورت میں پہلے والی دوسری کو لاحق ہو گی۔اور تین بار بولا تو طلاق بائنہ مغلظہ وقوع پذیر ہوگی۔(ماخوذ از وسیم الفتاوٰی، حوالہ نمبر 7382 غیر مطبوعہ)
تین طلاقیں دینے کے بعد عورت حرام ہوجاتی ہے۔فتاوی ہندیہ میں ہے:’’اذاقال لامرأتہ’’ انت طالق وطالق وطالق‘‘ ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا۔ترجمہ:جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا ''تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے''اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ۔[ فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول: 1/355، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت]
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اولاً دو طلاق کا ذکر کرکے فرمایا کہ اب بھی خاوندکو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اب ان کے درمیان حرمت مغلظہ قائم ہوچکی ہے لہذا بغیر حلالہ شرعیہ کے واپسی ناممکن ہے ۔
سورہ البقرہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ۔ترجمہ کنز الایمان :یہ طلاق دو بارتک ہی ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔[البقرۃ :آیت 229]
پھر اسکے بعد مزید فرمایا:فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ۔ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ۔[البقرۃ :آیت:230]
ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالی نے مطلقاً تین طلاق کا حکم بیان فرمایا اور اسکو ایک مجلس یا متعدد مجلس کے ساتھ مقید نہیں کیا یعنی تین طلاقیں ایک مجلس میں دے یا ایک ایک سال کے وقفے سے دے بہرصورت تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔جیسا کہ غیر مقلد اہلحدیث کے امام ابن حزم ظاہری نے اپنی کتاب میں لکھا: فھذا یقع علی الثلاث مجموعۃ ومفرقۃ، ولا یجوز ان یخص بھذہ الآیۃ بعض ذلک دون بعض بغیر نص۔ترجمہ: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ تین طلاق اکٹھی دی جائیں یا الگ الگ بہر حال طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور اس آیت کو بغیر دلیل کے بعض صورتوں کے ساتھ خاص کرنا جائز نہیں ہے ۔[ المحلی بالآثار: 3/394، مطبوعہ: دار الفکر بیروت، لبنان]۔
اسی طرح تقریباً چاروں مذاہب کی فقہی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے سے تین ہی ہوتی ہیں، مثلاً فقہ حنفی کی کتب میں رد المحتار، الدر المختار، تبیین الحقائق، النھر الفائق، بدائع الصنائع، فتح القدیر، الجوہرۃ النیرۃ، شرح الوقایۃ، الہدایۃ، البنایۃ، حاشیۃ الطحطاوی وغیرہم میں تین طلاق کو تین ہی شمار کیا اورنافذ کیا ہے ۔
عدت کے احکام:
طلاق یافتہ کی عدت تین حیض (اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے)اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرہ: 228)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق، 04)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26 شعبان المعظم 1441 ھ/20 اپریل 2020 ء