سوال
کیا فرماتے ہیں علماء اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کی شادی اسکی بہن کے بدلے میں وٹہ سٹہ کے طور پر ہوئی، ایک دن اسکی بہن نے اس شخص سے کہا کہ لڑائی کے دوران میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے لہذا تم بھی اپنی بیوی کو طلاق دے دو، تو اس بات پر اس شخص نے اپنی بیوی سے جھگڑا کیا اور کہا میری بہن کو پرچی (یعنی طلاق) مل گئی ہے اب تم بھی یہاں سے چلی جاؤ ، شوہر نے اشارہ سے کہا یہ لو پرچی اب تم آزاد ہو ۔ (شوہرکا بھی یہی بیان ہے)برائے کرم حکم شرع ارشاد فرمائیں۔
سائل:محمد عمران: لانڈھی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو اس صورت میں مذکورہ شخص کی بیوی کو ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، جس کے فورا بعد عورت کی عدت شروع ہوگئی ہے کہ پیٹ سے ہو تو وضع حمل عدت ہے یعنی جب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے اس وقت تک عدت ہے اور اگر پیٹ سے نہ ہو تو حیض والی ہے تو تین حیض عدت ہے ورنہ تین ماہ عدت ہے۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:(كِنَايَتُهُ مَا لَمْ يُوضَعْ لَهُ) أَيْ الطَّلَاقِ (وَاحْتَمَلَهُ) وَغَيْرَهُ (فَ) الْكِنَايَاتُ (لَا تَطْلُقُ بِهَا إلَّا بِنِيَّةٍ أَوْ دَلَالَةِ الْحَالِ) وَهِيَ حَالَةُ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ:ترجمہ:کنایہ وہ الفاظ ہیں جن کو طلاق دینے کے لیے وضع نہ کیا گیا ہو اور وہ طلاق و غیر طلاق کا احتمال رکھتے ہوں پس کنایات سے طلاق واقع نہیں مگر نیت یا دلالت حال کی وجہ سے اور وہ مذاکرہ طلاق کی حالت ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الطلاق،باب الکنایات جلد 3 ص 297)
مذکورہ صورت بھی مذاکرہ طلاق کی ایک صورت ہے اور یہ الفاظ کہ '' یہ لو پرچی اب تم آزاد ہو'' الفاظ کنایہ ہیں جن سے طلاق بائن واقع ہوگی ،پھر اگر دونوں میاں بیوی عدت کے دوران یا عدت کے بعد ساتھ رہنا چاہیں تو دونوں کو نکاح جدید کرنا ہوگا۔بدائع الصنائع میں ہے :أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخر: ترجمہ:طلاق رجعی(میں عدت گزرنے کے بعد )اور طلاق بائن میں عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )
اور عدت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء :ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔ (البقرۃ: 228)
والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ:ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق:4)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11 شعبان المعظم 1440 ھ/17 اپریل 2019 ء