میاں بیوی کی ناچاقی
    تاریخ: 31 جنوری، 2026
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 713

    سوال

    اگر میاں بیوی کے درمیان کوئی ایسی بات ہوجائے جو میاں کو بیوی کی بدتمیزی لگے اور بیوی اسکو بدتمیزی نہ سمجھے تو اسلام میں اسکا کیا حکم ہے؟اگر میاں بیوی سے ناراض ہوکر اپنا بستر جدا کرلے اسکے ہاتھ کا کھانا بند کردے، اس سے بات چیت بند کردے تو اس صورت میں شوہر اور بیوی کے لیے اسلام کیا حکم دیتا ہے ؟کیا شوہر کا ایسا کوئی تصور ہے کہ بیوی اسکی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوجائے یعنی اسے کھانے کو نہ دے اسکی اشیاء کی دیکھ بھال نہ کرے خواہ مہینوں ہی کیوں نہ گزر جائیں ۔

    سائل: تبسم مشتاق: گلستان جوہر


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شوہر کی نافرمانی گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،خلاق عالم نے بیوی کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ شوہر کی ہر صورت میں تابعدار اور فرمان بردار رہے جب تک کہ شوہر کسی خلاف شرع کام کا حکم نہ کرے ، قرآن مجید میں اللہ کریم نے شوہر کو بیوی کے لیے حاکم یعنی حکمران کہا ہے، اوربتایا ہے کہ نیک بیوی وہ ہے جو شوہر کی فرمانبردار اور ادب کرنے والی ہو، اور شوہروں کو حکم دیا ہے کہ اگر بیوی نافرمان ہوجائے تو پہلے اسکو سمجھاؤاگر نہ سمجھے تو اس سے بستر جدا کر لو پھر بھی نہ سمجھے تو ہلکا پھلکا مار سکتے ہو،قال اللہ تعالیٰ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا(النساء 34) ترجمہ: مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اللّٰہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں،جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللّٰہ بلند بڑا ہے ۔

    یہی نہیں بلکہ شوہر کے حقوق کا اسقدر خیال رکھا کہ ایک حدیث میں ارشاد فرمادیاکہ اگر اللہ تعالی کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ شوہر کو سجدہ کریں۔

    ترمذی شریف باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ جلد 3ص457 میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ المَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا»ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں کسی کو اس بات کا حکم دیتا کہ (اللہ کے سوا ) کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔

    اسی طرح بخاری شریف میں ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا أَکْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَائُ يَکْفُرْنَ قِيلَ أَيَکْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ يَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْکَ خَيْرًا قَطُّ:ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوزخ دکھلائی گئی، تو اس کی رہنے والی زیادہ تر میں نے عورتوں کو پایا، وجہ یہ ہے کہ وہ کفر کرتی ہیں، عرض کیا گیا، کیا اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ تو آپ ﷺنے فرمایا کہ شوہر کا کفر کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی عورت کے ساتھ احسان کرتے رہو، پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے، تو فورا کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔

    اسی طرح ترمذی شریف باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ جلد 3ص459 میں ہے:عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ»ترجمہ:حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کہتی ہیں کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجو عورت اس حال میں اس دنیا سے گئی کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو جنت میں داخل ہوجائے گی۔

    اسی طرح ایک اور حدیث اسی یعنی ترمذی شریف باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ حدیث نمبر 1174میں ہے:عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا، إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الحُورِ العِينِ: لَا تُؤْذِيهِ، قَاتَلَكِ اللَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكَ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا:ترجمہ: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جب کوئی عورت اپنے شوہرکو دنیا میں تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے جو اس کی بیوی ہے وہ کہتی ہے کہ( اری دنیا والی عورت) اسے تکلیف نہ دے، خدا تیرابرا کرے،یہ تو تیر ے پاس چندروزہ مقیم ہے عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس پہنچے گا۔

    لیکن اس کے ساتھ ساتھ یاد رہے کہ جس طرح مرد کے حقوق ہیں اسی طرح عورت کے بھی کچھ حقوق ہیں مرد پر لازم ہے کہ وہ حقوق پورے کرے،جن میں سے چند یہ ہیں ،حسن معاشرت،تفریح و دل بستگی کے جائز مواقع فراہم کرنا،معاشی تحفظ،ازدواجی معاملات میں عدل و توازن کرنا مرد پر لازم ہے کہ یہ سب حقوق ادا کرے۔رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    خیرکم خیرکم لأهله وأنا خیرکم لأهلی:ترجمہ:تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے اچھا ہوں۔

    ترمذی شریف باب ماجاء فی حق المراۃ علی الزوج حدیث نمبر 1162 ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ المُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِنِسَائِهِمْ»

    ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سے سب سے بہتر مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں، اور اور تم میں سے بہترین مرد وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب