haath se mukhtalif tehreeren likh kar paise kamana
سوال
ہینڈ رائیٹنگ(Hand Writing) یعنی ہاتھ سے مختلف تحریریں لکھ کر پیسے کمانا اس کا مکمل طریقہ کار یہ در ذَیل ہے :
کمپنی(Company)نےمختلف(Packages)متعارف کروا رکھے ہیں،کمپنی کا ممبر Member) ) بننے کے لیے ان میں سےایک پیکج Package))لازمی طور پرbuy))یعنی خریدنا پڑتا ہے،اگرپانچ سو500والا پیکج خریدیں گے،تو اس کی بنیاد پہ روزانہ پچاس 50روپے اور اگر ہزار 1000والا خریدیں گے،تو روزانہ سو100روپے کما سکیں گے ۔یونہی پیکج جتنا مہنگا ہوگا ،اس حساب سے آمدن بھی بڑھتی چلی جائے گی اور ایک پیکج کی مدت تیس30 دن ہوتی ہے،یعنی ایک پیکج خریدنے کے بعد اس کی بنیاد پہ تیس30دن تک ارننگ کرسکتے ہیں، اس کے بعد دوبارہ کوئی پیکج خریدنا ہوگا۔بعض کمپنیاں اسے پیکج کی خریداری کا نام دیتی ہیں اور بعض رجسٹریشن فیس کا،لیکن یاد رہے کہ اس طرح پیکج کی خریداری یا رجسٹریشن فیس کے بدلے میں کسٹمر(Customer)کو کمپنی کی جانب سے کچھ بھی نہیں ملتا،بس اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ وہ کمپنی کاMember))بن جاتا ہےاور کمپنی سے کام لے کر اسے کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔
اور کام یہ ہوتا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پہ بذریعہ واٹس ایپ (WhatsApp) کچھ کمپیوٹرائز Computerize)) نوٹس(Notes)سینڈ Send))کیے جاتے ہیں،جنہیں ایک رجسٹرRegister))پر ہاتھ سے لکھنا ہوتا ہے اور ان کی تصاویر بذریعہ واٹس ایپ ہی واپس بھیجنی ہوتی ہیں،جس کی بنیاد پہ اجرت اکاؤنٹAccount))میں آجاتی ہے ۔
پھر ارننگ کے لیے کام اور اس کی اجرت دینے کے حوالےسے مختلف کمپنیوں کا اپنا اپنا طریقہ اور اصول ہیں،مثلاً: بعض کی طرف سے یہ شرط ہوتی ہے کہ پیکج کی خریداری/رجسٹریشن کے باوجودمخصوص تعداد میں لوگوں کو کمپنی جوائن Join))کروانے کے بعد کام ملے گا،اس سے پہلے ارننگ کی کوئی صورت نہیں،بعض کی طرف سے کام تو مل جاتا،لیکن کام کمپلیٹ(Complete) کر لینے کے باجود اجرت تب ملے گی،جب مختلف افراد کو جوائن کروالیں گے ،البتہ بعض کمپنیز کی جانب سے نئے ممبر(Members) بنانے کی شرط نہیں ہوتی،بس کام پورا کر کے اس کی اجرت لے سکتے ہیں۔ سائل :عبداللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
فساد کی ایک وجہ یہ بھی ہےاس میں یہ چیزاضافہ کرنا ہے کہ اجارہ منفعت مقصودہ پر ہوتا ہے ہاتھ سے لکھ کر تصویر کھیچ کر بھیج دینا یہ کوئی منفعت مقصودہ نہیں ہے ۔
صورت مسئلہ کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ بالا طریقہ کار کے مطابق ایسی کمپنیز Companies جوائن کرکے پیسے کمانا ،کمائی کرنا نا جائز و گناہ اور حرام ہے ۔اس کی ناجائز ہونے کی چند وجوہات ذیل میں تفصیل کے ساتھ ذکر کی جاتی ہیں :
1.کمپنی کا ممبر بننے کے لیے پیکیج کی خریداری کے نام پر یا رجسٹریشن فیس کے نام پر جو رقم لی جاتی ہے، اس کے بدلے کسٹمر کو کوئی چیز نہیں دی جاتی، بلکہ اس رقم کو دینے والے کا مقصد صرف اپنا کام بنانا ہوتا ہے، یعنی وہ یہ رقم دے کر خود کو کمپنی کا ممبر بنانا چاہتا ہے۔ شرعی طور پر اپنا کام بنانے کے لیے صاحبِ اختیار کو کچھ دینا "رشوت" کہلاتا ہے، لہٰذا یہ معاملہ بھی رشوت ہے، اور رشوت کا لین دین ناجائز اور حرام ہے۔
رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں پر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و الہ وسلم نے لعنت فرمائی جیسا کہ سنن ابن ماجہ میں ہے :" عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الّله صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم : «لعنة الله على الراشي والمرتشي. ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سےمروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہو ۔( سنن ابن ماجہ، كتاب الأحكام، باب التغليظ في الحيف والرشوة،ج:2،ص:775، دار إحياء الكتب العربية)
رشوت کیا اس بارے اعلحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں :" جو پرایا حق دبانے کے لیے دیا جائے، رشوت ہے،یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لیے حاکم (کسی صاحبِ اختیار)کو دیا جائےرشوت ہے ۔ (فتاوٰرضویہ،ج23،ص597،رضافاؤنڈیشن)
مفتی نظام الدین رضوی صاحب مدّظلہ العالی اسی طرح کی کمپنیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:" اس کے ناجائز ہونے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ فیس کی شرعی حیثیت رشوت کی ہے جو یقینا حرام ہے ، وجہ یہ ہے کہ اپنا یا کسی کا بھی کام بنانے کے لیے ابتداء ً صاحبِ امر کو کچھ روپے وغیرہ دینا رشوت ہے اور یہاں کمپنی کو فیس اس لیے دی جاتی ہے کہ اسے اجرت پر ممبر سازی کا حق دے دیا جائے اورفیس کے مقابل کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ (ماہنامہ اشرفیہ،شمارہ مئی2008ء، ص38)
اجرت کے بدلے کام لینا 'اجارہ' کہلاتا ہے، اور اجارہ کے عقد میں ایسی شرط رکھنا جس کا عقد تقاضہ نہ کرے ، یا وہ شرط عقد کے مناسب نہ ہو، اور عرفاً بھی رائج نہ ہو، اور اس شرط میں فریقین میں سے کسی ایک کا فائدہ ہوتو ایسی شرط فاسد کہلاتی ہے۔
3.کمپنی کو جوائن کرنے والا شخص پیکج کی خریداری یا رجسٹریشن فیس کےنام سے جورقم دیتا ہے اس كے بعد کچھ کمپنیوں کا طریقہ ہوتا کہ پیکج خریدنے یا رجسٹریشن فیس جمع کرانے کے باوجود بھی کام نہیں ملتا جب تک ایک مخصوص تعداد میں لوگو ں کو جوائن نہ کروائے یا کام تو ملتا ہے لیکن اجرت نہیں ملتی اگر لوگوں کو جوائن کروائے پھر کام یا اجرت ملتی ہے ۔
تو ایسی کمپنیوں میں مزید دو خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔
1. اس طریقہ کار کی جوئے اور قِمار سے مشابہت واضح ہے، اور وہ اس طرح کہ 'پیکج' یا 'رجسٹریشن فیس' کے نام پر جو شخص اپنی رقم لگاتا ہے، تو وہ محض ایک موہوم امید پر لگاتا ہے؛اس لیے کہ جو شرائط رکھی گئی ہیں، ان کے مطابق کمپنی کا باقاعدہ ممبر بن جانا یقینی نہیں ہوتا۔
ایسی صورت میں لالچ کے تحت اپنی رقم لگانا قمار (جوا) کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ قمار کی تعریف یہ ہے کہ دو فریق کسی ایسے معاملے میں داخل ہوں جس میں یہ امکان ہو کہ ایک کا مال دوسرے کے پاس چلا جائے، اور یہ بھی امکان ہو کہ وہ دوسرا اس کے مال کا مالک بن جائے؛ یعنی دونوں کے مال میں کمی بیشی کا احتمال ہو۔
اسی طرح اس معاملے میں بھی، اگر پیکج خریدنے کے بعد وہ شخص مطلوبہ تعداد میں افراد کو جوائن نہ کروا سکے، تو اس کی لگائی ہوئی رقم ضائع ہو جاتی ہے۔ یوں اپنا مال بغیر کسی عوض کے ضائع ہو جانا، اور دوسرے فریق کے لیے نفع بن جانایہی حقیقت جُوّا کہلاتی ہے۔
2.اس طریقۂ کار میں نہ صرف انسان اپنے آپ کو نقصان میں ڈالتا ہے، بلکہ دوسروں کو بھی ضرر (نقصان) پہنچاتا ہے؛ کیونکہ وہ دوسروں کو بھی اس نظام میں شامل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب کہ شریعتِ مطہرہ کے اصول کے مطابق، کسی مسلمان کو نقصان پہنچانا یا ضَرَر دینا ممنوع اور ناجائز ہے۔
اللہ پاک ارشادفرماتا ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ .ترجمہ :اور آپس میں ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھاؤ ۔( البقرہ، 188)
اس آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے :"الخطاب بھذہ الایۃ یتضمن جمیع امۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم والمعنی:لا یاکل بعضکم مال اخیہ بغیر حق ،فیدخل فی ھذا :القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق ومالا تطیب بہ نفس مالکہ.ترجمہ:اس آیت میں خطاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت کو شامل ہے اور معنی یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھائے،اس عموم میں جوا ،غصب، حق دینے سے انکار کر کے حق کھا جانا ،جس چیز کے دینے پر مالک راضی نہ ہو ،وہ لینا(وغیرہ سب شامل ہے۔)(تفسیر قرطبی،ج2،ص338، دار الکتب ،القاھرہ)
اسی بارے میں مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:"لا یحل لامرء ان یاخذ مال اخیہ بغیر حقہ وذلک لما حرم اللہ مال المسلم علی المسلم . ترجمہ:کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا ناحق مال کھائے، اس لیے کہ اللہ تعالی نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا(بلا وجہ شرعی ) مال لیناحرام فرمایا ہے۔(مسند امام احمد بن حنبل، ج39،ص19، مؤسسۃ الرسالہ ،بیروت)
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں جب کمپنی (موجر) یہ شرط لگاتی ہے کہ اجرت حاصل کرنے کے لیے مزید افراد کو ممبر بنایا جائے، تو یہ شرط عقدِ اجارہ کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ کمپنی کے لیے فائدہ مند بھی ہے، لہٰذا یہ شرط فاسد ہے۔چونکہ اجارہ فاسد ہو گیا، اس لیے یہ عقد شرعاً ناجائز ہے، اور اس طرح کا معاہدہ کرنے والے دونوں فریق (موجر اور مستأجر) گناہ گار ہوں گے۔
اورعقداجارہ بھی عقدبیع کی قسم سے ہے ۔چنانچہ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:’’ والبيع والاجارة اخوان،لان الاجارة بيع المنافع.ترجمہ:اوربیع اوراجارہ دونوں ایک ہی قسم سے ہیں،کیونکہ اجارہ،منافع کی بیع ہے ۔(العقود الد ریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ، ج 2،ص 140،مطبوعہ دار المعرفہ،بیروت)
اورتبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:"(يفسد الاجارة الشروط)لانها بمنزلة البيع،الا ترى انها تقال وتفسخ، فتفسدها الشروط التي لا يقتضيها العقد كالبيع.ترجمہ:شرطیں ،اجارے کو فاسد کر دیتی ہیں ،کیونکہ وہ بیع کےحکم میں ہے ،کیا تو دیکھتا نہیں کہ اس کااقالہ ہوتاہے اوراسےفسخ کیاجاتاہے ،پس ایسی شرائط جن کا عقد تقاضا نہیں کرتا وہ اجارے کو فاسد کردیتی ہیں ، جیسا کہ بیع کو فاسد کر دیتی ہیں۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، ج5،ص121،مطبوعہ ملتان)
مزید اسی میں ہے:"ان كل شرط لا يقتضيه العقد وهو غير ملائم له ولم يرد الشرع بجوازه ولم يجز التعامل فيه وفيه منفعة لاهل الاستحقاق مفسد.ترجمہ:ہر وہ شرط جس کا نہ تو عقد تقاضا کر رہا ہو اور وہ عقد کے مناسب بھی نہ ہو ،شرع سے اس کا جواز بھی ثابت نہ ہو اور اس پر تعامل بھی نہ ہو اور اس میں اہل استحقاق کی منفعت ہو، تو ایسی شرط بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔(تبیین الحقائق،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج 4،ص 57، مطبوعہ ملتان)
عقدِ فاسد کرنے کی وجہ سے عاقدین گنہگار ہوتے ہیں،لہذا اس کو ختم کرنا ضروری ہے۔العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:"ويجب على كل واحد منهماای من البائع والمشتري فسخه قبل القبض او بعده ما دام فی يد المشتری اعداما للفساد،لانه معصية،فيجب رفعها.ترجمہ:بائع اور مشتری دونوں میں سے ہر ایک کےلیے(مبیع پر)قبضہ کرنے سے پہلے اور قبضہ کے بعد بھی جب تک مبیع باقی ہو ،بیع فاسدکوختم کرنا ضروری ہے،تاکہ فساد ختم ہو جائے،کیونکہ عقد ِ فاسد کرنا گناہ ہے،لہذا اس کو ختم کرنا واجب ہے ۔(العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،ج2،ص120،مطبوعہ دار المعرفہ ،بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13صفر المظفر 1447ھ/08اگست 2024ء