سوال
اگر کوئی شخص آرٹیفشل جیولری "چین، لوکٹ، ہاتھ میں پہننے والے کڑے، کان کی بالیاں" اس آئیٹم کا کاروبار کرتا ہے، آیا یہ کاروبار جائز ہوگا یا ناجائز۔اوریہ آئیٹم صرف مرد حضرات کو فروخت کی جاتی ہیں۔ ناجائز ہونے کی صورت میں اس سے کمائی جانی والی رقم کا کیا کرے براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔نیز اگر وہ نہیں مانتے تو ان کے گھر دعوت میں جانا اور ان سےچیزوں کا لین دین کرنا کیسا؟
سائل:عبداللہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شریعت مطہرہ میں مردکےلیے چاندی کی ایک انگوٹھی،جو ایک نگ والی ہو،وزن میں ساڑھےچار ماشے(یعنی 4 گرام 374 ملی گرام)سےکم ہو، پہننا جائز ہے اور مَرد کے لئےاس کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی یا ایک نگ سے زائد نگ والی انگوٹھی یا بغیر نگ کے انگوٹھی یا چھلّا یا ساڑھے چار ماشے کے برابریا اس سے زیادہ وزن کی انگوٹھی (اگرچہ چاندی ہی کی ہو)پہننا ناجائز و گناہ ہےنیز انگوٹھی کے علاوہ کسی قسم کا زیور پہننا بھی مرد کے لیے ناجائز و گناہ ہے، اگرچہ وہ چاندی ہی کا کیوں نہ ہو۔لہذا مرد کے لیے آرٹیفیشل جیولری مثلاً چین،لوکٹ، ہاتھ میں پہننے والے کڑے، کان کی بالیاںوغیرہ یہ سب پہننا ناجائز ہے۔اورشریعتِ مطہرہ کا ایک بنیادی اصول ہے کہ جن چیزوں کا استعمال جائزنہیں، تو گناہ پر معاونت کی وجہ سے ان چیزوں کو بنانا اورخریدنا بیچنا بھی جائزنہیں ۔
پس صورتِ مستفسرہ میں آرٹیفیشل جیولری جو مردوں کے لیے ہو بیچنا اور خریدنا دونوں ناجائز اور گناہ ہے۔اور ایسی چیزوں کی خریدوفروخت مکروہ تحریمی ہے۔اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی کو صدقہ کیا جائے گا۔
بیع مکروہ اگرچہ بیع باطل یا بیع فاسد نہیں ہے کہ اصل اور وصف کے اعتبار سے درست ہےاور بائع اور مشتری بیع کرنے کے سبب ثمن و مبیع کے مالک بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن امر خارج (گناہ پر اعانت)کے سبب ممانعت کی وجہ سےاس کی کمائی ملک خبیث ہوتی ہے۔اور ملک خبیث کی کمائی کا حکم یہ ہےکہ اسے صدقہ کیاجائے گا۔
لیکن ا س کے باوجود ایسے شخص کے یہاں دعوت میں جانا اور اس سے لین دین کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔اسلیے کہ ملک خبیث والی کمائی سے خریدی گئی اشیاء میں خباثت نہیں آتی۔
البتہ ایسے شخص سے تعلقات نہ رکھنا اور دعوت وغیرہ میں اس نیت سے نہ جانا کہ وہ اس کام سے باز آجائے مستحب عمل ہے کہ یہ بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ایک سبیل ہے۔
درمختار میں ہے: (ولا يتختم) إلا بالفضة لحصول الاستغناء بها فيحرم (بغيرها كحجر) (وذهب وحديد وصفر) ورصاص وزجاج وغيرها لما مر فإذا ثبت كراهة لبسها للتختم ثبت كراهة بيعها وصيغها لما فيه من الإعانة على ما لا يجوز وكل ما أدى إلى ما لا يجوز لا يجوزملخصاً ترجمہ:اور انگوٹھی سوائے چاندی کے جائز نہیں اس لیے اس سے ضرورت پوری ہوگئی پس اس کے علاوہ دھات کی انگوٹھی حرام ہےجیسے کہ پتھر،سونے ،لوہے، پیتل،سیسہ،شیشہ وغیرہ کی انگوٹھی اس کے سبب جو پیچھے گزرا پس جب ان دھاتوں کی انگوٹھی پہننے کی کراہت ثابت ہے تو اس کی خرید وفروخت اور بنانے کی کراہت بھی ثابت ہوگی اس لیے کہ اس میں ناجائز کام پر اعانت ہےاور ہر وہ کام جو ناجائز کام کی ادائیگی کا سبب بنے وہ بھی ناجائز ہوتا ہےملخصا۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:6،ص:360،359دارالفکر بیروت)
اسی طرح امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں:یہ اصل کلی یاد رکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔ جس چیز کا بنانا ، ناجائز ہوگا، اسے خریدنا، کام میں لانا بھی ممنوع ہوگا اور جس کا خریدنا،کام میں لانا منع نہ ہوگا، اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہوگا۔ (فتاویٰ رضویہ ،ج 23 ،ص 464، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بیع مکروہ کے حکم کی بابت درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے: حُكْمُ الْبَيْعِ مَكْرُوهٌ (أَنَّهُ لَا يَفْسُدُ) ؛ لِأَنَّ النَّهْيَ بِاعْتِبَارِ مَعْنًى مُجَاوِرٍ لِلْبَيْعِ لَا فِي صُلْبِهِ وَلَا فِي شَرَائِطِ صِحَّتِهِ وَمِثْلُ هَذَا النَّهْيِ لَا يُوجِبُ الْفَسَادَ بَلْ الْكَرَاهَةَ (وَلَا يَجِبُ فَسْخُهُ)ترجمہ:بیع مکروہ کا حکم یہ ہے کہ یہ فاسد نہیں ہوتی،اس لیے کہ اس بیع کی ممانعت ایسے معنی کے اعتبار سےہے جو بیع سے متصل ہےنہ کہ بیع کی اصلاور اسکی شرائط کی درستگی سے اس کا کوئی تعلق ہے۔اور اس طرح کی ممانعت فساد کو واجب نہیں کرتی بلکہ صرف کراہت کا حکم ہوتا ہے اور اس کو فسخ کرنا بھی واجب نہیں ہے(دررالحکام شرح غرر الاحکام،جلد:2،ص:178،داراحیاء الکتب العربیہ)
اور بیع مکروہ سے حاصل ہونے والے ثمن کی بابت شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے: قال أبو جعفر: (فإن باعه: جاز بيعه، وتصدَّق بثمن ما باعه). ترجمہ:امام جعفر طحاوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں:پس اگراسے(قربانی کے جانور میں سے کوئی چیزجیسے کھال،گوشت وغیرہ)کوئی فروخت کردے اس کی بیع جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی کو صدقہ کیا جائے گا۔
اس کے تحت علامہ جصاص علیہ الرحمۃلکھتےہیں:وإنما جاز بيعه؛ لأنه في ملكه، جائزُ التصرف فيه، ألا ترى أنه يجوز هبته وصدقته، ولأن النهي لم يتناول معنى في نفس العقد، فصار كالبيع عند أذان الجمعة، وكالنهي عن تلقي الجلب، وبيع حاضر لباد، والنهي عن بيع الطعام في دار الحرب، كل ذلك قد ورد فيه نهي، ولم يمنع جواز العقد، إذ لم يتناول النهي معنى في العقد.وإنما أمر بأن يتصدق بثمن ما باع؛ لأنه لما كان منهيًا عن بيعه، وأخذ ثمنه، حصل ذلك له من وجه محظور، فأمر بالصدقة به. ترجمہ: اور اس کی بیع اس لیے جائز ہےکہ وہ اس کی ملکیت میں ہے۔ تصرف کرنا اس میں جائز ہے ،کیا تو نہیں دیکھتا بے شک اس کا ہبہ اور صدقہ کرنا جائز ہے۔اور اس لیے کہ نہی نفس عقد میں کسی معنی کو شامل نہیں ہے ۔تو یہ ایسے ہی ہے جیسے جمعہ کی اذان کے وقت بیع کرنے کی ممانعت،اور تلقی جلب کی ممانعت،شہری کا دیہاتی سے بیع کی کرنے کی ممانعت،اور دارالحرب میں کھانے بیچنے کی ممانعت اور اسی طرح ہر وہ جس میں ممانعت وارد ہوئی ہو ،لیکن عقد کا جائز ہونا ممنوع نہ ہو۔اس لیے کہ نہی عقد میں کسی معنی کو شامل نہیں ہے۔اور بیچنے کے سبب حاصل ہونے والی کمائی کو صدقہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہےکیونکہ جب بیع سے ممانعت ہے اور اسنےاس کا ثمن لیا۔یہ ثمن اسےممانعت کے طورپر حاصل ہواپس اسے صدقہ کرنے کا حکم دیاجائے گا۔(شرح مختصرالطحاوی للجصاص،جلد:7،ص:341،دارالبشائر الاسلامیۃ)
اسی طرح بدائع الصنائع میں ہے: فَإِنْ بَاعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ نَفَذَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ.ويَتَصَدَّقُ بِثَمَنِهِ لِأَنَّهُ اسْتَفَادَهُ بِسَبَبٍ مَحْظُورٍ وَهُوَ الْبَيْعُ فَلَا يَخْلُو عَنْ خُبْثٍ فَكَانَ سَبِيلُهُ التَّصَدُّقَ ملخصاترجمہ:پس اگر کچھ حصہ قربانی کے جانور سےبیچ دیایہ بیع طرفین کے نزدیک نافذ ہے۔اور وہ اس کے ثمن (کمائی)کو صدقہ کردے گا اسلیے کہ اس نےایک ممنوع طریقے سے استفادہ حاصل کیا اور وہ بیع ہے پس وہ خباثت سے خالی نہیں۔ اور اس کی سبیل صرف صدقہ کرنا ہے۔ (بدائع الصنائع،جلد:5،ص:81،دارالکتب العلمیۃ)
درمختار میں ہے: شعر الخنزير) لنجاسة عينه فيبطل بيعه ابن كمال (و) إن (جاز الانتفاع به) لضرورة الخرز؛ حتى لو لم يوجد بلا ثمن جاز الشراء للضرورة وكره البيع فلا يطيب ثمنه. ترجمہ:عین نجس ہونے کی وجہ سے خنزیر کے بالوں کی بیع باطل ہے ۔اگر چہ سلائی کی ضرورت کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے ،یہاں تک کہ بغیر دام کے خنزیر کے بال نہ ملتے ہوں تو ضرورت کی وجہ سے انکی خریداری جائز ہے اور بیع مکروہ ہے پس اس کا ثمن (کمائی)حلال نہ ہوگا۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:5،ص:72،دارالفکر بیروت)
ملک خبیث والی کمائی سے حاصل ہونے والی اشیاء کی بابت فتاوٰی رضویہ میں ہے: یوہیں اگرروپیہ ربا وغیرہ عقود فاسدہ سے حاصل کیاتھا اور اس کے عوض کوئی شے خریدی تو اس خریدی ہوئی شے میں خباثت نہ آئے گی۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:23،ص:552،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایسے شخص کے یہاں دعوت میں نہ جانے کی بابت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتےہیں: ہاں بنظر مصالح شریعہ اس کی زجر وتوبیخ اورنگاہ مسلمانان میں اس کے فعل کی تقبیح کے لئے اس کی دعوت سے احتراز خصوصا مقتداء عالم کو انسب واولٰی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ،جلد:21،ص:634،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:07صفرالمظفر1443 ھ/15ستمبر 2021 ء