گٹگا ماوا وغیرہ کی خرید و فروخت
    تاریخ: 10 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 73
    حوالہ: 375

    سوال

    گٹگا ، ماوا، مین پوری ، اکیس سواور اس جیسی دیگر اشیاءکھانا اور انکی خرید وفروخت کے بارے میں شریعت کاکیا حکم ہے ؟تفصیلی دلائل سے جواب مطلوب ہے۔

    سائل: فراز: گلشن حبیب

    

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ان اشیاء کی خرید و فروخت کے جواز و عدم جواز کا حکم اس بات پر مبنی ہے کہ آیا یہ اشیاءمضرِ صحت ہیں یا نہیں؟ نیز حکومت کی جانب سے ان کی خرید و فروخت پر پابندی ہے یا نہیں؟ تو سب سے پہلے ہم اگر طبی اعتبار سے اسکے نقصانات دیکھیں تو میڈیکل سائنس کےمطابق گٹکا، ماوا، مین پوری اور دیگر تمباکو یا سپاری پر مبنی مصنوعات میں نکوٹین اور متعدد کینسر پیدا کرنے والے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو جسم میں شدید تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ ان اشیاء کے استعمال سے منہ، ہونٹ، زبان، مسوڑھوں اور گلے کے کینسر کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ استعمال کرنے والوں کے منہ کے اندر سفید یا سرمئی دھبے بن جاتے ہیں جنہیں لیوکوپلاکیا کہا جاتا ہے اور یہ بعد میں کینسر میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ تمباکو میں موجود نقصان دہ مادّے مسوڑھوں میں انفیکشن، ہڈیوں کے تیزی سے سکڑنے، دانتوں کے گلنے، ڈھیلے پڑنے اور آخرکار گرنے جیسے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ نکوٹین کی وجہ سے لت پیدا ہو جاتی ہے جس سے صارف بار بار ان اشیاء کا محتاج بن جاتا ہے اور اس لت سے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ طویل استعمال دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور فالج کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے، یعنی نقصان صرف منہ تک محدود نہیں بلکہ پورے جسم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ان مصنوعات میں شامل کیمیکل جسم کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کینسر کے پھیلاؤ کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر تحقیق ثابت کرتی ہے کہ یہ اشیاء کم مقدار میں بھی مسلسل استعمال کی صورت میں انتہائی نقصان دہ ہیں اور کینسر سمیت کئی خطرناک امراض کا باعث بنتی ہیں۔

    ذیل میں ایسی ویب سائٹس کا لنک دیا گیا ہے جہاں سے گٹگےمین پوری وغیرہ کے نقصانات پر تحقیقی آرٹیکلز موجود ہیں۔

    1: https://www.cdc.gov/tobacco/other-tobacco-products/smokeless-tobacco-health-effects.html?utm_

    2: https://www.cancer.org/cancer/risk-prevention/tobacco/smokeless-tobacco.html?utm_

    3: https://www.cancer.gov/about-cancer/causes-prevention/risk/tobacco/smokeless-fact-sheet?utm_

    4:https://www.express.pk/story/2721233/aalmy-sth-pr-mnh-ke-kynsr-aksr-tmbakw-chalyh-ky-wjh-se-hwte-hyn-thqyq-2721233?utm_

    5: https://urdu.nayadaur.tv/08-Feb-2019/782?utm_

    یونہی حکومت کیجانب سے بھی اسکی خرید و فروخت پر سخت پابندی ہے کیونکہ اگست 2023 میں سندھ پرو ہیبیٹیشن آف پریپریشن، مینوفیکچرنگ، اسٹوریج، سیل اینڈ یوز آف گٹکا اینڈ مین پوری(Sindh Prohibition of Preparation, Manufacturing, Storage, Sale and Use of Gutka and Manpuri Act, 2023)(سندھ ایکٹ نمبر 24)،24گست 2023 کو منظور ہواجس کے تحت گٹکا، مین پوری، ماوا وغیرہ کی تیاری، ذخیرہ، فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے،اور اس سلسلے میں چھاپوں کے دوران متعدد افرادکو گرفتار کیا گیا اور کئی گٹگا ماوا فیکٹریاں بند کی گئی ہیں۔یونہی سندھ ہائی کورٹ نے 2025 میں گٹکا اور پان مصالحہ پر پابندی کے نوٹیفکیشن کو برقرار رکھا، ایک رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی میں تقریباً 80 گٹکا اور مین پوری فیکٹریاں سرگرم تھیں ،بعد ازاں عدالت نے اس پابندی کو قانوناً مؤکد کرتے ہوئے فروخت اور تیاری کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا۔

    معلوم ہوا کہ گٹگا اور اس جیسی دیگر اشیاءضرور مضرِ صحت اور قانونا ممنوع ہیں ، لیکن عمومی طور پر اسکے نقصانات اس وقت ظاہر ہوتے جب انسان ان چیزوں کا عادی ہوجائے، کبھی کبھارانکے استعمال سے ایسے طبی نقصانات عموماً ظاہر نہیں ہوتے، لہذا انکے استعمال کا حکم بھی اسی تناظر میں ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص مسلسل استعمال کرے تو اسکے لئے غالبِ ظن کے اعتبار سے ضرور نقصان دہ ہے لہذا اسے ان چیزوں کا استعمال ممنوع ہوگا۔ کیونکہ یہ خود کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے جو کہ شرعاً ممنوع و حرام ہے۔قال اللہ تعالٰی : وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ.ترجمہ کنز الایمان: اوراپنی جانیں قتل نہ کرو۔ (النساء : 29)

    وقال ایضا: وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ۔ ترجمہ کنز الایمان: اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔(البقرہ: 195)

    حدیث پاک میں ہے: عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ضرر ولا ضرار۔ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان اٹھاؤ ۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2341)

    صحت کے لئے باعثِ ضررچیز کے استعمال کے بارے میں سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں : ففی اقتحامہ تعریض النفس للاذی وھولایجوز فیجب التحرز عن مثلہ۔ترجمہ:اس کے استعمال میں جان کو اذیت پر پیش کرنا ہے اور وہ نا جائز ہے لہٰذا اس طرح کی صورتوں سے بچنا واجب ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، کتاب البیع، جلد17 ص 370، بتصرف یسیر )

    اسکی نظیر وہ مسئلہ بھی بن سکتا ہے جس میں فقہاء کرام نے اتنی مقدار میں عام مٹی کھانے سے منع فرمایا جو صحت کے لئے نقصان کا سبب بنے۔ چناچہ قاضی خان میں ہے: ویکرہ اکل الطین لان ذلک یضرہ فیصیر قاتلا نفسہ۔ ترجمہ: مٹی کھانا مکروہ ہے، کیونکہ یہ انسان کے لیے نقصان دہ ہے، اور یوں وہ خود اپنی جان کو ہلاک کرنے والا بن جاتا ہے۔(فتاوٰی قاضی خان علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ، جلد 3 ص 403)

    ہندیہ میں ہے: أکل الطین مکروه ذکر في فتاویٰ أبي اللیث، ذکر شمس الأئمة الحلوائي في شرح صومه: إذا کان یخاف علی نفسه أنه لو أَکَلَه أَوْرَثَه ذلك علة أو آفة لایباح له التناول، وکذلك هذا في کل شيءٍ سوی الطین، وإن کان یتناول منه قلیلاً أو کان یفعل ذلك أحیاناً لا بأ س به، کذا في المحیط. الطین الذي یحمل من مکة ویسمیٰ طین أحمر، هل الکراهیة فیه کالکراهة في أکل الطین علی ما جاء في الحدیث، قال: الکراهیة في الجمیع متحدة،کذا في جواهر الفتاویٰ. وسئل عن بعض الفقهاء عن أکل طین البخاری ونحوه، قال: لا بأس بذلك مالم یضر، و کراهیة أکله لا للحرمة، بل لتهیج الداء۔ترجمہ: مٹی کھانا مکروہ ہے، جیسا کہ فتاویٰ ابواللیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ شمس الائمہ الحلوانی نے اپنی شرحِ صوم میں لکھا ہے: اگر انسان کو اپنی جان کے متعلق یہ خوف ہو کہ مٹی کھانے سے اسے کوئی بیماری یا آفت لاحق ہو سکتی ہے تو اس کے لیے اسے کھانا جائز نہیں، اور یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جو (اسی طرح نقصان دہ ہو) سوائے مٹی کے۔ اور اگر کوئی تھوڑی مقدار میں کھاتا ہو یا کبھی کبھار ایسا کرتا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں؛ اسی طرح محیط میں ہے۔ مکہ سے لائی جانے والی مٹی جسے سرخ مٹی کہتے ہیں—کیا اس کی کراهت بھی اسی طرح ہے جیسے احادیث میں مٹی کھانے کی کراهت آئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تمام صورتوں میں کراهت ایک ہی ہے؛ یہی جواهر الفتاویٰ میں ہے۔ اور بعض فقہاء سے 'طین بخاری' اور اس جیسی دوسری مٹی کھانے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں جب تک نقصان نہ دے، اور اس کی کراهت حرمت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ یہ بیماری بھڑکا سکتی ہے۔( الفتاویٰ الهندية، ج 6ص 226، کتاب الکراهیة، الباب الحادي عشر في الکراهیة في الأکل وما یتصل بها)

    بہارشریعت میں ہے:مٹی بھی حدِ ضرر تک کھانا حرام ہے۔ (بہارشریعت، جلد1، صفحہ418، مکتبۃ المدینہ، کراچی )

    فتاوی رضویہ کے فوائدِ جلیلہ میں ہے:مٹی کھانا حرام ہے یعنی زیادہ کہ مضر ہے ،خاکِ شفاء شریف سے تبرکاً قدرے چکھ لینا جائز ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد4، صفحہ727، رضافاؤنڈیشن،لاہور )

    یونہی ان اشیاء کی خرید و فروخت بھی اسی تناظر میں ناجائز قرار پائے گی، بالخصوص جب حکومت کی جانب سے ان اشیاء کی خرید و فروخت پر پابندی ہو تو اس صورت میں ان اشیاء کی خرید و فروخت کے ممانعت میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ اب ان چیزوں کی خرید و فروختقانونی جرم قرار پائے گی جو بعد ازاں اسکی گرفتاری اور سزا اور ذلت کا سب بنے گی ، اور بندہ مومن کا خود کو ذلت پر پیش کرنا شرعاً جائز نہیں ۔

    حدیث پاک میں ہے:عن حذيفة رضي الله تعالی عنه قال : قال رسول الله صلى الله تعالی علیه وسلم: لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه۔ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرمایا: رسول اللہ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو ذلت پر پیش کرے۔ (ترمذی شریف جلد2، صفحه 498 مطبوعه لاهور)

    مرقاۃ المفاتیح میں اس حدیث کے تحت فرمایا:(لا ينبغي) أي لا يجوز للمؤمن أن يذل نفسه) اي باختياره۔ترجمہ: حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ مومن کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے اختیار سے اپنے آپ کو زلت پر پیش کرے۔ (مرقاة المفاتیح،5/416،مطبوعہ کوئٹه)

    مبسوط للسرخسی میں ہے:اذلال التنفس حرام۔ترجمہ: خود کو ذلت پر پیش کرنا حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی،5/23، مطبوعہ کوئٹه)

    امام اہلسنتامام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) لکھتےہیں:کسی ایسے امر کا ارتکاب جو قانونا ناجائز ہو اور جرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روا نہیں۔ قال تعالٰی لا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ ، وقد جاء الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ینہی المومن ان یذل نفسہ ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو، اور حدیث شریف میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ آپ نے مومن کو اپنا نفس ذلت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے۔ (فتاوی رضویہ،جلد:20،ص:188،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05 رمضان المبارک 1446ھ/ 06 مارچ 2024 ء