گھر میں موجود پھلدار درخت پر عشر؟
Ghar mein maujood phal dar darakht par ushar
تاریخ: 26 جون، 2026
مشاہدات: 39
حوالہ: 1512
سوال
ہمارے گھر میں جامن کا ایک درخت ہے ، کیا اس پر عشر ہو گا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
گھروں میں موجود پھل دار درختوں یا پودوں کی پیداوار پر عشر یا نصف عشر واجب نہیں ہے کیونکہ یہ درخت اور پودے فقہی اصول کے مطابق "تابعِ دار" یعنی مکان کے ملحقات اور اس کے تابع شمار ہوتے ہیں اور شرعی قاعدہ ہے کہ خرید و فروخت کے وقت مکان کے تابع اشیاء الگ سے ذکر کیے بغیر بھی مبیع یعنی فروخت شدہ چیز میں داخل سمجھی جاتی ہیں چونکہ رہائشی مکان بذاتِ خود "حاجتِ اصلیہ" یعنی بنیادی ضرورت میں شامل ہونے کی وجہ سے اموالِ نامیہ یعنی بڑھنے والے تجارتی مال سے خارج ہے اور زکوٰۃ و عشر سے مستثنیٰ ہے لہذا جو اشیاء اس کے تابع ہوں گی ان پر بھی حکماً عشر یا نصف عشر واجب نہیں ہوگا۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب