شوہر کا طلاق نامے پر سائن کرنا
    تاریخ: 16 جنوری، 2026
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 606

    سوال

    میں سلیم ولد سلیمان میری بیگم نے کچھ عرصہ پہلے ایک لڑائی میں الزام لگایا کہ میرے شوہر نے مجھے دو طلاقیں دی ہیں جبکہ میں نے اسکو کوئی طلاق نہیں دی تھی ۔ اب ایک ہفتہ پہلے ایک اسٹامپ پیپر پہ میری بیوی نے میرے نام سے لکھوایا کہ '' میں اپنےبا ہوش و حواس یہ فیصلہ کررہا ہوں کہ پہلے دو مرتبہ دی جانے والی طلاق کے بعدآج مؤرخہ 2018-06-19 کو بروزمنگل تیسری طلاق دے رہا ہوں '' اور اس پیپر پر میں نے دستخط بھی کیے ہیں ۔ برائے مہربانی اسلام کی روسے بتائیں کہ یہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟

    سائل: سلیم سلیمان :نیوکراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جس کے بعددونوں کا ساتھ رہنا ناجائز و حرام ہے ۔ کیونکہ اقرار طلاق بھی طلاق ہی ہے اگرچہ پہلے طلاق نہ دی ہو مگر جبکہ اب اقرار کررہا ہے تو قضاء یہ طلاق واقع ہوجائیگی۔

    شامی میں ہے :وَلَوْ أَقَرَّ بِالطَّلَاقِ كَاذِبًا أَوْ هَازِلًا وَقَعَ قَضَاءً لَا دِيَانَةً. ترجمہ: اور اگر شوہر طلاق کا اقرار کرے خواہ جھوٹ میں کرے یا مذاق میں کرے قضاء طلاق واقع ہوجائے گی دیانۃ واقع نہیں ہوگی۔(ردالمحتار علی الدر المختار کتاب الطلاق ،جلد 3 ص 236)

    مفتی امجد علی اعظمی بہار شریعت حصہ آٹھ ص 117 میں رقمطراز ہیں :عورت کو طلاق نہیں دی ہے مگر لوگوں سے کہتا ہے میں طلاق دے دی تو قضاءً ہوجائے گی اور دیانۃً نہیں، اور اگر ایک طلاق دی ہے اور لوگوں سے کہتا ہے تین دی ہیں تو دیانتہً ایک ہوگی قضاءً تین، اگرچہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا۔(بحوالہ الفتاوی الخیریہ ص 37)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 ربیع الاول 1440 ھ/08دسمبر 2018 ء