سوال
میرا چار سال قبل نکاح ہوا ، اسکے بعد رخصتی ہوئی ،رخصتی کے بعد صرف 15 دن لڑکی ساتھ رہی۔اسکے بعد اپنی والدہ کے گھر چلی گئی اب واپس نہیں آرہی ہر طرح کوشش کرلی، لڑکی والے طلاق مانگنے پر مصر ہیں کیونکہ حق مہر 2 لاکھ روپے ہے۔ہم نے خلع کا بھی کہا ہے لیکن وہ خلع پر راضی نہیں ۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟کیا میں اس لڑکی کو طلاق دیئے بغیر دوسری شادی کرسکتا ہوں یا نہیں ؟کیونکہ میں اتناحق مہر نہیں دے سکتا۔
سائل:آصف:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہاں دو امور ہیں۔
1:لڑکی والوں کا طلاق کا مطالبہ کرنا اور لڑکے کا خلع کے لئے اصرار کرنا۔
2: لڑکے کا پہلی بیوی کو طلاق دیئے بغیر دوسری جگہ شادی کرنا۔
1: پہلے امر کا حکم:
مفتی کا کام پوچھے گئے سوال کا جواب دینا ہے واقعہ کی تحقیق اس کے ذمہ لازم نہیں ہے ،لہذا اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ لڑکی کے مطالبہ کے باوجود لڑکے پر طلاق دینا واجب نہیں ہے، اور طلاق نہ دینے کے سبب شوہر گناہ گاربھی نہ ہوگا۔بلکہ اگر لڑکی کو شوہر سے چھٹکارا ہی چاہیے تو وہ اپنے مہر کے عوض خلع لے لے ۔
یاد رہے بغیر کسی شرعی سبب کے طلاق کا مطالبہ کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ اللہ کریم نے حلال و جائز چیزوں میں طلاق کو سب سے زیادہ ناپسند فرمایا ہے ،چناچہ اگر لڑکی کے لیے شوہر کے گھر میں پردہ شرعی کا انتظام ہے اور شوہر اس کے تمام حقوْق مثلاًنان نفقہ و دیگر حق زوجیت ادا کر رہا ہے،نیز بے جا سختی اور مار پیٹ کا سلسلہ بھی نہیں ، بلکہ اس کی جانب سے طلاق کا مطالبہ محض انانیت ،اضافی سہولیات ، خواہشات یا پسندو نا پسند کی بنیاد پر ہے تو ایسی عورت روز محشر سخت گرفت کا شکار ہوگی ۔جیساکہ بخاری میں حدیث پاک موجود ہے:عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أَضْحًی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلَّی فَمَرَّ عَلَی النِّسَاء ِ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ النِّسَاء ِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِی أُرِیتُکُنَّ أَکْثَرَأَہْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ یَارَسُولَ اللَّہِ قَالَ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ: ترجمہ:روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے کہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقرعید یاعِید الفطرمیں عید گاہ تشریف لے جاتے ہوئےعورتوں کی جماعت پر گزرے تو فرمایا کہ اے بیبیو!خوب خیرات کرو کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ تم زیادہ دوزخ والی ہو ،انہوں نے عرض کیا حضور یہ کیوں؟ فرمایا تم لعن طعن زیادہ کرتی ہواور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔( بخاری ، باب ترک الحائض الصوم، حدیث نمبر304)
سنن ابی داود، سنن ترمذی،اورمصنف ابن ابی شیبہ میں با لفاظ متقاربہ ہےوالفظ للاول:"أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ"ترجمہ:کوئی بھی عورت جو بغیر کسی وجہ کے اپنے زوج سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو(بھی )حرام ہے۔( سنن ابی داود باب الخلع ، رقم:2226،سنن ترمذی،باب ما جاء فی ا لمختلعۃ،رقم:1187،اورمصنف ابن ابی شیبہ ،باب ما کرہ من الکراہیۃ للنساء ان یطلبن، رقم:19258)
اللہ تعالٰی نے نزدیک حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے:حدیث پاک میں ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ :ترجمہ:ابن عمر نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا حلال چیزوں میں سے اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ چیز طلا ق ہے۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر :2178)
2:اسکا جواب ،جواز ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ پہلی بیوی کو طلاق دے تب دوسری شادی کرے بلکہ طلاق اور بغیر طلاق ہر صورت دوسری شادی کی شریعت میں اجازت ہے۔
شریعت مطہرہ نے مرد کو چار شادی کرنے کا حق دیا ہے،قال اللہ تعالٰی :فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً ۔ترجمہ کنز الایمان : تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو،دو اور تین، تین اور چار،چار پھر اگر ڈرو کہ دوبیبیوں کوبرابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو۔(النساء:3)
الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:وللحر أن يتزوج أربعا من الحرائر والإماء وليس له أن يتزوج أكثر من ذلك " لقوله تعالى: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ}ترجمہ:اور آزاد مرد کے لیے چار آزاد عورتوں اور باندیوں سے نکاح کرنا جائز ہے ، اور چار سے زائد سے نکاح جائز نہیں ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے ، تم نکاح کرو جو تمہیں پسند ہیں دودو ، تین تین ،چار چار سے۔(الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب النکاح،فصل فی بیان المحرمات جلد 1ص189)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 17 رجب المرجب 1442 ھ/02 مارچ 2021 ء