خلع کے تقاضے پر طلاق دینے کا حکم
    تاریخ: 16 جنوری، 2026
    مشاہدات: 31
    حوالہ: 605

    سوال

    میری بیٹی سدرہ اور داماد عشر احمد دونوں میاں بیوی میں لڑائی ہوئی ، دورانِ لڑائی لڑکی نے کہامجھے خلع دے دو لڑکے نے کہا طلاق ،طلاق، طلاق ۔نہ یہ کہا کہ تم کو طلاق دیتا ہوں ۔ یہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

    نوٹ: لڑکا اور لڑکی کو بلاکر بیان لیا دونوں نے اس سوال کی تصدیق کی۔

    سائل:شاکر:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں لڑکی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ، جس کے بعد عورت ،مرد پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔عورت پر عدت لازم ہے اور اب رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں مگر یہ کہ حلالہ شرعیہ ہو۔(جسکا طریقہ آگےآرہا ہے۔)

    تفصیل اس کی یہ ہے کہ طلاق کے وقوع کے لئے ایقاع یعنی طلاق کا واقع کرنا ضروری ہے اور ایقاع بغیر وقوع کے ممکن نہیں اور وقوع ِ طلاق کے لیے طلاق کی نسبت لفظوں میں یا نیت میں عورت کی طرف ہونا ضروری و لازم ہے ، وگرنہ محض لفظ طلاق کہنے سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔

    پھر لفظ میں اضافت کے مختلف طریقے ہیں:

    1:شوہر کے کلام میں صراحت پائی جائے جیسے انت طالق او طلقتک

    2:طلاق کے الفاظ ایسے کلام میں بولے جائیں جس کلام میں اضافت موجود تھی ۔کیونکہ سوال میں جواب کا اعادہ ہوتا ہے ۔مثلاً بیوی کہے''طلاق تیرے ہاتھ میں ہے مجھے طلاق دے۔'' تو جواب میں خاوند کہے''میں نے طلاق دی'' تین دفعہ تکرار کیا تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔

    یہاں دوسری صورت متحقق ہے کیونکہ شوہر نے یہ الفاظ (طلاق،طلاق،طلاق) بیوی کے جواب میں کہے ہیں ، لہذا اس سے تین طلاقوں کا واقع ہونا ظاہر ہے۔

    سیدی اعلیٰ حضرت رقمطراز ہیں : والذی تحصل للعبد الضعیف بتوفیق المولی اللطیف جل وعلا، ان الاضافۃ لابد منھا ام فی اللفظ وامافی النیۃ اذلاطلاق الابالایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ، ولیس ذٰلک الابالاضافۃ وھذا ضروری لاشک فیہ اذ لولاہ لزم الطلاق عل کل من تلفظ بلفظ طلاق او طالق ونحوھما وان لم یردعلی ھذاشیئا اولم یرد طلاق امرأتہ وھو باطل قطعًا فاشتراط الاضافۃ حق لامریۃ فیہ۔ ترجمہ: اور عبد ضعیف کو اﷲتعالٰی لطف فرمانے والے جلّ وعلا کی توفیق سے جو حاصل ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کو طلاق دینے دینے میں اضافت ضروری ہے لفظوں میں ہو خواہ وُہ نیت میں ہو، کیونکہ طلاق کا وقوع، ایقاع پر موقوف ہے اور ایقاع کا وجود نہیں ہوتا تاوقتیکہ طلاق کو عورت سے متعلق نہ کی جائے، اور یہ چیز ہے جس میں شک نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اگرطلاق کو عورت کی طرف منسوب کرنا اور اس کی طرف اضافت کرناضروری نہ ہوتو پھر طلاق یا طالق کا تلفظ کرنے والے ہر شخص کی بیوی کو طلاق لازم ہوجائے اگرچہ وُہ اس پر کسی چیز کا ارادہ نہ کرے یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا لہذا طلاق کے وقوع کے لئے نسبت اور اضافت کے شرط ہونے میں کوئی شک نہیں۔(فتاویٰ رضویہ ج 12 ص 344رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    آگے ارشاد فرماتے ہیں:اماوجود الاضافۃ فی اللفظ فاقول علی ثلثۃ انحاء، الاوّل تحققھا صریحا فی کلام الزوج وھذاالذی ذکرالحلبی والطحاوی امثلتہ کقولہ انت طالق او طلقتک۔۔۔۔۔ الثانی تحققھا فیہ لاجل کونہ جوابا کلام تحققت فیہ فتحقق فی الجواب ایضالان السوال معاد فی الجواب وھذامافی الہندیۃ عن الخلاصۃ قالت طلاق بدست تو است، مراطلاق کن فقال الزوج طلاق می کنم وکررثلثا طلقت ثلثا۔ترجمہ:بہرحال لفظ میں اضافت کا وجود تو میں کہتا ہوں کہ اسکی تین اقسام ہیں ، پہلی یہ کہ 1:شوہر کے کلام میں صراحت پائی جائے، یہ وہ ہے جسکو حلبی و طحطاوی نے ذکر کیا ہے اسکی مثالیں جیساکہ شوہر کا قول انت طالق او طلقتک۔۔۔،دوسرا یہ کہ اضافت شوہر کے کلام میں ہی متحقق ہو بایں طور کہ وہ جواب ہو اس کلام کا جس میں اضافت کا تحقق ہوا ہے تو شوہر کے جواب میں بھی اضافت کا تحقق ہوگا کیونکہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے ، اور یہ وہ ہے جو ہندیہ میں خلاصہ سے مذکور ہے کہ عورت نے شوہر سے کہا طلاق تیرے ہاتھ میں ہے مجھے طلاق دو، شوہر نے کہا طلاق دی اور تین بار کہا تو تین واقع ہوجائیں گی۔(فتاویٰ رضویہ ج 12 ص 344رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    خلاصہ یہ ہے کہ تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جسکے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنا حرام ہے۔ اور تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں نہ کہ ایک جیساکہ بعض شر پسند اور شرع کے مزاج نے نا آشنا لوگوں کی جانب سے عوام میں غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے۔تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں اس سلسلہ میں قرآن و حدیث سےدلائل درج ذیل ہیں۔

    تین طلاق کے تین ہونے پر قرآن پاک سے دلیل:

    اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اولاً دو طلاق کا ذکر کرکے فرمایا کہ اب بھی خاوندکو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اب ان کے درمیان حرمت مغلظہ قائم ہوچکی ہے لہذا بغیر حلالہ شرعیہ کے واپسی ناممکن ہے ۔سورہ البقرہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے''الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ'' ترجمہ کنز الایمان :یہ طلاق دو بارتک ہی ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا

    نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔(البقرۃ :آیت 229)

    پھر اسکے بعد مزید فرمایا:'فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ''ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ۔(البقرۃ ،آیت:230)

    ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالی نے مطلقاً تین طلاق کا حکم بیان فرمایا اور اسکو ایک مجلس یا متعدد مجلس کے ساتھ مقید نہیں کیا یعنی تین طلاقیں ایک مجلس میں دے یا ایک ایک سال کے وقفے سے دے بہرصورت تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔جیسا کہ غیر مقلد اہلحدیث کے امام ابن حزم ظاہری نے اپنی کتاب میں لکھا: فھذا یقع علی الثلاث مجموعۃ ومفرقۃ، ولا یجوز ان یخص بھذہ الآیۃ بعض ذلک دون بعض بغیر نص۔ترجمہ: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ تین طلاق اکٹھی دی جائیں یا الگ الگ بہر حال طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور اس آیت کو بغیر دلیل کے

    بعض صورتوں کے ساتھ خاص کرنا جائز نہیں ہے ۔(المحلی بالآثار: 3/394، مطبوعہ: دار الفکر بیروت، لبنان)۔

    تین طلاق کے تین ہونے پراحادیث سے دلائل :

    1:امام نسائی نے محمود بن لبید سے روایت کیا:عن محمود بن لبید قال اخبر رسول اللہ ﷺ عن رجل طلق امراتہ ثلث تطلیقات جمیعا فقام غضبان ثم قال ایلعب بکتاب اللہ عزوجل وانا بین اظہر کم حتی قام رجل فقال یا رسول اللہ الااقتلہ۔ترجمہ:حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کے متعلق خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ ﷺ غضب ناک حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا ’میرے سامنے کتاب اللہ کو کھیل بنایا جارہا ہے ؟ حتی کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ،میں اس کو قتل نہ کردوں۔(سنن النسائی، کتاب الطلاق، حدیث نمبر 3401: 6/142، مطبوعہ: مکتب المطبوعات الاسلامیۃ، حلب)

    اگرتین طلاقوں سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اتنا سخت اظہار ناراضگی کیوں فرمایا؟ یہاں تک کہ ایک صحابی نے اس شخص کے اس جرم کی وجہ سے اسکو قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔

    2:امام المحدثین ابو عبد اللہ امام بخاری کے استادِ محترم عظیم محدث امام عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا: عَنْ دَاوُدَ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: طَلَّقَ جَدِّی امْرَاَۃً لَہُ اَلْفَ تَطْلِیقَۃٍ، فَانْطَلَقَ اَبِی اِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اما اتَّقَی اللَّہَ جَدَُّک، اَمَّا ثَلَاثٌ فَلَہُ، وَاَمَّا تِسْعُ مِاءَۃٍ وَسَبْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَعُدْوَانٌ وَظُلْمٌ، اِنْ شَاءَ اللَّہُ تَعَالَی عَذَّبَہُ، وَاِنْ شَاءَ غَفَرَ لَہُ :ترجمہ: داود کہتے ہیں کہ میرے دادا نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھیں تو میرے والد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان کی خدمت میں سارا معاملہ عرض کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تیرا دادا اللہ سے نہیں ڈرتا؟ تین طلاق کا ان کو حق تھا ( وہ واقع ہوگئیں)اور نو سو ستانوے طلاق انکی طرف سے ظلم وزیادتی ہے ، اللہ تعالی کی مرضی چاہے تو اسے عذاب دے یاچاہے تو اسے بخش دے ۔(مصنف عبد الرزاق، کتاب الطلاق، حدیث نمبر11339: 6/393، مطبوعہ: المکتب الاسلامی، بیروت)

    3:صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے : عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ:’’قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ: حَدِّثِینِی عَنْ طَلَاقِکِ، قَالَتْ: طَلَّقَنِی زَوْجِی ثَلَاثًا وَھُوَ خَارِجٌ اِلَی الْیَمَنِ، فاَجَازَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘‘۔ترجمہ: حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ بنت قیس سے کہا کہ آپ مجھے اپنی طلاق کا واقعہ بیان کیجئے ، انہوں نے جواب دیا مجھے میرے شوہرنے یمن جاتے وقت تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ تینوں طلاقیں نافذ فرما دیں۔ (سنن ابن ماجہ ، کتاب الطلاق، باب من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد، حدیث نمبر 2024: 1/652، مطبوعہ:احیاء الکتب العربیۃ، بیروت)

    حدیث میں یہ بات ظاہر ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک مجلس میں دی گئیں تھیں جبھی تو حضرت فاطمہ نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ طلاقیں نافذ فرمادیں۔ اگر الگ الگ مجلس میں تین طلاقیں واقع ہوتیں تو رسول اللہ ﷺ کا ان طلاقوں کو نافذ کرنے کا کیا معنی ہے ؟ اسی لئے امام ابن ماجہ نے اس حدیث کیلئے جو باب باندھا وہ من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد ہے یعنی جو ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ۔

    4:امام المحدثین ابو عبد اللہ بخاری اپنی صحیح بخاری میں حضرت عویمر عجلانی کا واقعہ لعان ذکر کرنے کے بعد نقل فرماتے ہیں: فلما فرغا قال عویمر کذبت علیھا یارسول اللہ ان ا مسکتھا فطلقھا ثلاثاً۔ترجمہ: جب دونوں میاں بیوی لعان سے فارغ ہو گئے تو حضرت عویمر نے کہا: یارسول اللہ ﷺ اگر میں اسکو روکے رکھوں تو یہ میرا اسٍپر جھوٹ ہوگا۔ چنانچہ حضرت عویمر نے (اسی وقت ) تین طلاقیں دے دیں۔(صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث نمبر5308: 7/53، دار طوق النجاۃ، بیروت)

    5:اسی واقعہ کے بارے میں سنن ابی داود میں یہ الفاظ منقول ہیں: فَطَلَّقَھَا ثَلَاثَ تَطْلِیقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَنْفَذَہُ رَسُولُ اللّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّم‘‘رجمہ: حضرت عویمر عجلانی نے رسول اللہ ﷺ کے روبرو تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے تینوں طلاقوں کو نافذ فرما دیا‘‘۔( سنن ابی داود، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث نمبر 2250: 2/274، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

    6:امام دار الہجرت عظیم مجتہد ومحدث امام مالک نے حدیث کی عظیم الشان کتاب موطا امام مالک میں مفسر شہیر حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا:’’اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ: اِنِّی طَلَّقْتُ امْرَاَتِی مِاءَۃَ تَطْلِیقَۃٍ، فَمَاذَا تَری عَلَیَّ؟ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: طَلُقَتْ مِنْکَ لِثَلاَثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ آیَاتِ اللہِ ھُزُواً‘‘ترجمہ: ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : تیری عورت کو تیری طرف سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور باقی ستانوے کی وجہ سے تونے اللہ تعالی کی آیات کو مذاق بنا لیا۔(مؤطا امام مالک، کتاب الطلاق، حدیث نمبر2021: 4/789، مطبوعہ: مؤسسہ زاید بن سلطان، ابو ظہبی)

    ائمہ اربعہ اور جمیع علماء کی نظر میں تین طلاقوں کا حکم :

    ناصر السنہ محی الدین العلامہ ابو زکریا یحی بن شرف النووی نے شرح النووی میں فرمایا : قال لامرأتہ انت طالق ثلاثاً فقال الشافعی ومالک وابو حنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع ثلاثاً۔ترجمہ: جس شخص نے اپنی بیوی کو کہا تجھے تین طلاقیں ہیں تو اس کے متعلق امام شافعی، امام مالک، امام اعظم ابو حنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف وخلف نے تین طلاق کے واقع ہونے کا فتوی صادر فرمایا۔[ شرح النووی علی المسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث: 1/478: قدیمی کتب خانہ، کراچی]

    محقق علی الاطلاق علامہ کمال الدین ابن ہمام نے فرمایا: ذھب جمھورالصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی ان یقع ثلاثاًترجمہ: جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والے مسلمانوں کے ائمہ کرام کا مسلک ہے کہ ایک لفظ سے تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔[فتح القدیر، کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ: 3/469، مطبوعہ: دارالفکر، بیروت، لبنان]

    عمد ۃالقاری شرح صحیح بخاری میں ہے: مذہب جماھیر العلماء من التابعین ومن بعد ھم منھم الاوزاعی والنخعی والثوری ابوحنیفہ واصحابہ ومالک واصحابہ والشافعی واصحابہ واحمد واصحابہ واسحاق وابو ثوروابو عبید وآخرون کثیرون علی ان من طلق امراتہ ثلاثا وقعن ولکنہ یاثم وقالوا من خالف فیہ فھو شاذمخالف لاھل السنۃ وانما تعلق بہ اھل البدع ۔ترجمہ: جمہور علماء کرام تابعین میں سے اور جو ان کے بعد والے ہیں ان میں امام اوزاعی اور علامہ نخعی اور علامہ ثوری اور امام ابو حنیفہ اور اس کےاصحاب اور امام مالک اور اس کے اصحاب اور امام شافعی اور اس کے اصحاب اور امام احمد اور ان کے اصحاب اور علامہ اسحاق اور علامہ ابو ثور اور علامہ ابو عبید اور بہت سے متاخرین کا مذہب یہ ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو واقع ہو جائیں گی لیکن اس سے گناہ گار ہو گا اور علماء نے فرمایا جو اس کے خلاف مذہب رکھتا ہو شاذاور اہل سنت کا مخالف ہے اور اس کا تعلق اہل بدعت سے ہے ۔[ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث: 20/233، دار احیاء التراث العربی، بیروت]

    فقہاء احناف کی نظر میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کا حکم:

    اسی طرح فتاوی ہندیہ میں ہے:اذاقال لامرأتہ انت طالق وطالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا۔ترجمہ:جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے‘‘ اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ‘‘۔( فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول: 1/355، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت)

    اسی طرح تقریباً چاروں مذاہب کی فقہی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے سے تین ہی ہوتی ہیں، مثلاً فقہ حنفی کی کتب میں رد المحتار، الدر المختار، تبیین الحقائق، النھر الفائق، بدائع الصنائع، فتح القدیر، الجوہرۃ النیرۃ، شرح الوقایۃ، الہدایۃ، البنایۃ، حاشیۃ الطحطاوی وغیرہم میں تین طلاق کو تین ہی شمار کیا اورنافذ کیا ہے ۔

    طلاقیں واقع ہوتے ہی ان پر عدت لازم ہوچکی۔عدت کی تفصیل یہ ہے:طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی،ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)

    دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)

    حلالہ کا طریقہ اور حکم:

    حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك :ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05 ذوالقعدہ 1442 ھ/16 جون 2021 ء