سوال
(1)ریئل اسٹیٹ کا کمیشن جائز ہے یا نہیں؟
(2) مالک مکان ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کہتا ہے 10لاکھ مجھے دو باقی اوپر والا پیسہ جو ہوگا وہ آپ کا ،کیا یہ اوپر والے جو پیسے ہیں یہ رکھنا یا لینا جائز ہیں یا نہیں ؟
(3)اگر کوئی شخص بروکر کے ساتھ ریئل اسٹیٹ کا ایگر مینٹ کرتا ہے اس طرح کہ بروکر اس سے پیسے پہلے لیتا ہے ،پھر ان پیسوں سے اپنے لئے چیز خریدتا ہے اپنے نام پر ،اس کے بعد پہلے شخص سے نئی بیع کرتا ہے اس طرح کہ جتنے میں وہ چیز خریدی تھی اس پر منافع رکھ کر مثلا:خریدی 9لاکھ کی اور اب بیچ رہا ہے 10لاکھ میں۔ کیا اس طرح کرنا جائز ہے ؟
سائل: محمد رافع شہزاد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(1) جائیداد یا مکانات کی خرید و فروخت کا کام (یعنی اسٹیٹ ایجنسی) کرنا شرعاً جائز ہے۔ اسی طرح بروکر یا کمیشن ایجنٹ کے لیے اپنی خدمات کے عوض اجرت (کمیشن) لینا بھی جائز ہے، شرعی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے بروکری کی فیلڈ اختیار کرنا جائز ہے اوراس ذریعے سے روزی کمانا بھی حلال ہے ۔بشرطیکہ درج ذیل شرائط پوری ہوں:
(۱)وہ کام جس پر کمیشن لیا جا رہا ہے، فی نفسہ جائز ہو۔(۲)کام کی نوعیت واضح اور متعین ہو۔(۳)کمیشن ایجنٹ واقعی کوئی قابلِ لحاظ خدمت یا عمل انجام دے۔(۴)کمیشن کی مقدار دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے، بغیر کسی ابہام کے طے کی جائے۔(۵)اگر ایجنٹ خود خریدار یا فروخت کنندہ کے طور پر کسی معاملے میں شریک ہو، تو وہ بروکر نہیں کہلائے گا ،بلکہ بائع یا مشتری ہوگا ۔
دو طرفہ بروکری:
اگر کسی علاقے یا مارکیٹ میں دو طرفہ بروکری (یعنی :خریدار اور فروخت کنندہ دونوں سے کمیشن لینا) عام رواج بن چکا ہو، تو ایسی صورت میں بروکر کا دونوں طرف سے کمیشن لینا جائز ہے۔
تاہم اس کے لیے کچھ شرائط ضروری ہیں:
۱:بروکر دونوں فریقوں کے لیے یکساں کوشش کرے یعنی وہ صرف ایک کی مدد نہ کرے، بلکہ خریدار اور بیچنے والے دونوں کے درمیان معاملہ طے کرانے کے لیے باقاعدہ بھاگ دوڑ اور محنت کرے۔کسی ایک فریق کا نمائندہ (وکیل یا ایجنٹ) بن کر کام نہ کرے ۔
۲: اگر بروکر کسی ایک فریق کی طرف سے نمائندہ یا وکیل بن جاتا ہے، تو اس صورت میں وہ صرف اسی فریق سے بروکری یا کمیشن لینے کا حقدار ہوگا۔دوسری پارٹی سے کمیشن لینا ناجائز ہوگا ۔
لہٰذا، اگر بروکر غیر جانب دار رہ کر دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ معاملہ طے کروائے، اور عرف (عام رواج) میں دونوں طرف سے کمیشن لینا معمول ہو، تو ایسی بروکری شرعاً جائز ہے۔لیکن اگر وہ صرف ایک پارٹی کی نمائندگی کرتا ہے، تو دوسری پارٹی سے کمیشن لینا ناجائز ہے، اور وہ صرف اسی فریق سے معاوضہ لے سکتا ہے جس کی طرف سے وہ کام کر رہا ہے۔
(2) خرید و فروخت کے معاملات میں نفع کی مقدار کا واضح طور پر معلوم ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اجرت کے معاملات میں اجرت مجہول ہوتو یہ جہالت مفضی الیٰ النزاع (جھگڑے کا سبب)ہے ۔لہٰذا اگر نفع کی شرح متعین نہ ہو تو یہ صورت درست نہیں۔البتہ، چونکہ آج کل کے دور میں ایسے معاملات عام ہو چکے ہیں، یعنی عرف و رواج (custom/practice) کے لحاظ سے لوگ اسی طریقے پر خرید و فروخت کرتے ہیں، اور فریقین کو اس کے طریقے کا علم اور رضا ہوتی ہے، اس لیے عرف کی بنیاد پر علماء اکرام نے اس صورت کو جائز قرار دیا ہے ۔
(3)مذکورہ صورت جائز نہیں ۔کمیشن ایجنٹ / بروکر بذاتِ خود ایک ایجنٹ ہے جو ایک طرف کا نمائندہ بھی شمار ہوتا ہے۔ وکیل کی حیثیت سے بروکر پر دیانت داری کے تقاضے لازم ہیں۔ اس میں کوئی گنجائش نہیں کہ معاملے کی اصل قیمت چھپا کر حصہ خود رکھ لی جائے یا مالک کے سامنے جھوٹی معلومات پیش کی جائے یا پھر خریدار نے زیادہ قیمت دی، مگر ایجنٹ مالک کو کم قیمت بتا کر فرق اپنے پاس رکھ لے ،آج کل اس ناپسندیدہ طریقہ کار کو "ٹاپ مارنا" کہا جاتا ہے اور یہ کام حرام ہے اور آنے والی رقم ناجائز ہے ۔
کمیشن ایجنٹ صرف طے شدہ منافع کا ہی مستحق ہوگا، باقی رقم رکھنا جائز نہیں ۔سوال میں جو صورت بیان کی گئی ہے اس میں کمیشن ایجنٹ تو کمیشن ایجنٹ رہا ہی نہیں بلکہ وہ خود بائع (بیچنے والا) بن گیا ،جبکہ ایجنٹ تو بائع اور مشتری (خریدنے )کے درمیاں محض واسطہ ہوتا ہے ۔
دلائل و جزئیات:
نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانۂ اطہر میں کمیشن پر کام کیا جاتا تھااور اس کام کے کرنے والوں کو ” سماسرۃ “کہا جاتاتھا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانۂ اطہر سے پہلےبھی کمیشن کے کام کو لوگوں نے بطور پیشہ اپنایا ہوا تھا ۔ حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : كُنَّا نُسَمَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ، فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ۔ ترجمہ:ہمیں زمانۂ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم میں سودا گر کہا جاتا تھاہم پر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم گزرے تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے ہمیں اس سے بہتر نام سے پکارا اور فرمایا: اے تاجروں کے گروہ !تجارت میں فضول باتیں اور جھوٹی قسمیں آجاتی ہیں لہذا اسے خیرات سے مخلوط کردو۔(سنن ابی داؤد،جلد02،ص :116،مطبوعہ ملتان)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : لَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ بِعْ هَذَا الثَّوْبَ فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا فَهُوَ لَكَ.ترجمۃ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص دوسرے سے کہے: یہ کپڑا میرے لیے اتنے میں بیچ دو، جو اس قیمت سے زیادہ مل جائے، وہ تمہارا ہو۔(صحیح بخاری :باب اجر السمسرۃ حدیث:2154)
کمیشن ایجنٹ/دلال (سِمسار) کی اجرت اصل میں شرعاً درست نہیں تھی، لیکن چونکہ لوگوں میں اس کا عام رواج ہے اور ضرورت بھی ہے، اس لیے اسے جائز قرار دیا گیا جیسے: حمام میں داخلے کی اجرت بھی ضرورت کے تحت جائز سمجھی گئی ہے ۔اس بارے میں فتاوی شامی میں الحاوی کے حوالے سے مذکور ہے: وَفِي الْحَاوِي: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أُجْرَةِ السِّمْسَارِ، فَقَالَ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ فَاسِدًا لِكَثْرَةِ التَّعَامُلِ وَكَثِيرٌ مِنْ هَذَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَجَوَّزُوهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إلَيْهِ كَدُخُولِ الْحَمَّامِ . ترجمہ: "الحاوی" میں ہے:محمد بن سلمہ سے دلال (سِمسار) کی اجرت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ اصل میں یہ فاسد ہے، لیکن چونکہ لوگوں کے درمیان اس کا بہت زیادہ رواج ہے، اور اس طرح کے بہت سے معاملات اصل میں جائز نہیں ہوتے، مگر لوگوں کی ضرورت کی بنا پر ان کو جائز قرار دیا گیا ہے، جیسے حمام (غسل خانے) میں داخل ہونے کے معاملے کو۔(ردالمحتار علی در مختار:کتاب الاجارۃ:باب الاجارۃ الفاسدہ ،جلد:6ص:63 مکتبہ دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان عليہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہيں : اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش کوئی دوا دوش میں اپنا زمانہ صرف کیا،تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے، اس سے زائد نہ پائے گا، اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو، تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکا،خانیہ میں ہے: إن كان الدلال الأول عرض تعنى وذهب في ذلك روزگاره كان له أجر مثله بقدر عنائه وعمله. ترجمہ: اگر پہلے دلال کو اس میں مشقت ہوئی اور اس کا وقت اس کام میں صرف ہوا، تواس کو اس کی محنت اور عمل کے مطابق مثلی اجرت ملے گی ۔(فتاوی رضويہ،ج19، ص 453 رضا فاؤنڈيشن، لاھور)
اشباہ میں ہے: بعہ لی بکذا ولک کذا فباع فلہ اجر المثل ترجمہ: اگر دوسرے کو کہا :تو میرے لیے اتنے میں اس کو فروخت کر ، تمہیں اتنی اجرت دوں گا ، تو اس نے وہ چیز فروخت کردی ،تووہ اجرت مثل کا مستحق ہے ۔(الاشباہ والنظائر: الفن الثانی:جلد:1ص231 ،مکتبہ دارالکتب العلمیہ)
کمیشن ایجنٹ اس وقت کمیشن یا اجرت کا مستحق ہوتا ہے، جب وہ گاہک لانےمیں قابل معاوضہ کام اور محنت و کوشش کرے ۔ اگر اس نے ایسا کام نہ کیا، تو اسے کمیشن لینے کا حق نہیں اگرچہ اس نے دو چار باتیں کر کے کسی کو تیار کر لیا ہو: اس کے بارے میں امام اہلسنت احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت و کوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی، بائع کے لیے کوئی دوا دوش نہ کی، اگرچہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں، مثلا :آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے، خرید لینی چاہیے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے ، اس نے خرید لی جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے ، محنت کرنے کی ہوتی ہے، نہ بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے، مشورہ دینے کی۔ (فتاوی رضویہ ،جلد:19 ص 453، رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد يونس انس القادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 1447 ھ/29 ستمبر 2025ء