نمازمیں ایسی غلطی جس سے آیت کا مفہوم تبدیل ہو جائے
    تاریخ: 15 جنوری، 2026
    مشاہدات: 31
    حوالہ: 600

    سوال

    زید نے نماز میں قرآن کی یہ آیت پڑھی:﴿وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَكَفَى بِاللّٰهِ وَكِيلًا﴾ (48) ور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو اور ان کی ایذا پر درگزر کردو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی کام بنانے والا ہے۔لیکن زید سے قراءت میں یہ غلطی ہوگئی کہ اس نے "دَعْ" کی بجائے "وَاغْلُظْ" پڑھا۔ اس بارے میں حکم یہ ہے کہ:اگر غلطی سے ایسا لفظ پڑھا گیا جس سے معنی میں ایسا فساد پیدا ہو جائے کہ وہ معنی قرآن میں کہیں بھی نہ پایا جاتا ہو، تو ایسی غلطی نماز کو فاسد کر دیتی ہے۔لیکن اگر غلطی کے نتیجے میں جو معنی بنے، وہ قرآن کے کسی اور مقام پر موجود ہو، تو پھر یہ "فسادِ معنی" نہیں کہلائے گا، اور اس صورت میں نماز فاسد نہیں ہوگی۔عمر کی وضاحت بھی یہی ہے کہ فسادِ معنی سے مراد یہ ہے کہ ایسا مفہوم پیدا ہو جائے جو قرآن میں کسی بھی مقام پر نہ ملتا ہو۔ اور اگر ایسا معنی بن گیا جو قرآن کے کسی دوسرے حصے میں پایا جاتا ہے، تو وہ "تبدیلی" تو ہے لیکن "فسادِ معنی" شمار نہیں ہوگا۔ سائل:محبوب علی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں واقعی نماز فاسد ہوگئی تھی ،اگر نماز کا اعادہ نہیں کیا گیا تو اعادہ لازم ہے۔

    تفصیل مسئلہ:

    اگر نماز میں غلطی سے ایک کلمہ کی جگہ دوسرا کلمہ پڑھ لیا جائے اور دونوں کلمات کے معنی ایک دوسرے سے بعید ہوں، مگر دوسرا کلمہ قرآن کریم میں موجود ہو، تو اس بارے میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ایسی صورت میں نماز فاسد نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے نزدیک قرآن میں موجود مثل کلمہ کا پڑھ لینا کافی ہے، اگرچہ معنی میں موافقت نہ ہو۔ لیکن امام اعظم ابو حنیفہ و امام محمد رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک نماز فاسد ہوجائے گی، کیونکہ ان کے نزدیک دونوں کلمات کے معنی و مفہوم میں موافقت ضروری ہے۔ یہی قول زیادہ درست اور احتیاط پر مبنی ہے۔

    لہٰذا پوچھی گئی صورت میں نماز کے فاسد ہونے کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ لفظ "دُع" کی جگہ "واغض" پڑھنے سے آیت کا مفہوم بدل گیا۔ اس تبدیلی سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ "آپ ان پر غضب فرمائیں"یہ حکم اسوقت کے حکم کے خلاف ہے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ کفار سے بدلہ نہ لیں بلکہ درگزر فرمائیں۔ بعد میں یہ حکم منسوخ ہوا، لیکن جو زید نے پڑھا وہ اُس وقت کے حکم کے خلاف ہے اور یوں آیت کے اصل معنی اور مفہوم میں تبدیلی پیدا کر رہا ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    چنانچہ رد المحتار میں طرفین اور امام ابو یوسف کا اختلاف بیان کیا گیا ہے :” والقاعدۃ عند المتقدمین أن ما غیّر المعنی تغییراً یکون اعتقادہ کفراً یفسد فی جمیع ذلک، سواء کان فی القرآن أو لا إلا ما کان من تبدیل الجمل مفصولاً بوقف تامّ وان لم یکن التغییر کذلک، فان لم یکن مثلہ فی القرآن والمعنی بعید متغیر تغیراً فاحشاً یفسد أیضاً کھذا الغبار مکان الغراب، وکذا إذا لم یکن مثلہ فی القرآن ولا معنی لہ کالسرائل باللام مکان السرائر، وان کان مثلہ فی القرآن والمعنی بعید ولم یکن متغیراً فاحشاً تفسد أیضاً عند ابی حنیفۃ و محمد، وھو الاحوط، وقال بعض المشائخ:لا تفسد لعموم البلوی، وھو قول أبی یوسف، وان لم یکن مثلہ فی القرآن ولکن لم یتغیر بہ المعنی نحو قیّامین مکان قوّامین فالخلاف علی العکس فالمعتبر فی عدم الفساد عند عدم تغیر المعنی کثیراً وجود المثل فی القرآن عندہ والموافقۃ فی المعنی عندھما، فھذہ قواعد الائمۃ المتقدمین“ ترجمہ:اور متقدمین کے نزدیک قاعدہ یہ ہے کہ جو معنی کو اتناتبدیل کردے کہ جس کا اعتقاد کفر ہو،تو تمام صورتوں میں نماز فاسد ہوجائے گی،چاہےوہ بدل قرآن میں ہو یا نہ ہو ،اِلَّا یہ کہ وقف تام کے ذریعے جملوں میں فصل کر کے جو تبدیلی ہو، اور اگر تبدیلی ایسی نہ ہو، تو اگر اس بدل لفظ کا مثل قرآن میں نہ ہو اور معنی بعید ہو اور تبدیلی فاحش جیسےغراب کی جگہ غبار تو بھی نماز فاسد ہو جائے گی، اسی طرح (نماز فاسدہوگی) اگر قرآن میں اس کا مثل نہ ہو اور نہ ہی اس کا کوئی معنی ہو جیسے سرائر کی جگہ سرائل،اور اگر اس کی مثل قرآن میں ہو اور معنی بعید ہو اور تغیر فاحش نہ ہو، تو بھی طرفین کے نزدیک فاسد ہوجائے گی،اور یہ احوط ہے، اور بعض مشائخ نے فرمایا: عمومِ بلوی کی وجہ سے فاسد نہیں ہوگی، اور یہ امام یوسف کا قول ہے،اور اگر اس کی مثل قرآن میں نہ ہو لیکن معنی تبدیل نہ ہو جیسے قوامین کی جگہ قیامین تو اختلاف برعکس ہوگا۔تو معنی میں تغیر فاحش نہ ہونے کی صورت میں نماز فاسد نہ ہونے کے لیے امام یوسف کے نزدیک اس کی مثل قرآن میں ہونا معتبر ہے ،جبکہ طرفین کے نزدیک معنی میں موافقتمعتبر ہے، تو یہ ہیں ائمہ متقدمینکے قواعد ۔(ردالمحتار،ج1،صفحہ630، 631، دار الفکر،بیروت)

    اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ”جد الممتار“ میں فرماتے ہیں :”انھما لا یعتبران وجود المثل ،انما المدار عندھما الموافقۃ فی المعنٰی و قد حکما الفساد عند بعد المعنٰی مع عدم فحش التغیر ۔۔اما عند ابی یوسف فلان المدار عندہ وجود المثل ۔۔۔فتحصل ان معنی الضابطۃ من قولہ (و ان لم یکن التغیر کک الخ) عند الامام و محمد :ان کل زلۃ تفسد الا ما وافق فی المعنٰی کقیامین ۔۔و عند ابی یوسف ان کل زلۃ لا مثل لھا فی القرآن تفسد و الا لا ،الا ان یتغیر المعنٰی تغیرا فاحشا ،ملتقطاً “ترجمہ:بلا شبہ طرفین قرآن میں مثل کے پائے جانے کا اعتبار نہیں کرتے ،ان کے نزدیک تو معنیٰ میں موافقت کے ہونے ہی پر دار و مدار ہے اور بلا شبہ طرفین نے معنٰی کے بعید ہونے کے وقت بھی نماز کے فاسد ہوجانے کا حکم ارشاد فرمایا ہے، اگرچہ بہت زیادہ معنیٰ میں تغیر واقع نہ ہوا ہو ،رہا امامابو یوسف علیہ الرحمۃ کا معاملہ، توان کے نزدیک قرآن میں مثلکے پائے جانے پر دار ومدار ہے ،تو حاصل کلام یہ نکلا کہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ کے قول ” و ان لم یکن التغیر الخ“ سےطرفین کے ضابطہ کا معنیٰ یہ ہے کہ قراءت کی ہر غلطی نماز کو فاسد کردے گی،مگر جو معنیٰ میں موافق ہو (وہ فاسد نہیں کرے گی)جیسے قوامین کی جگہ قیامین پڑھنا ۔اور امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک ہر وہ غلطی جس کا مثل قرآن میں موجود نہ ہو ،نماز کو فاسد کردے گی ورنہ نہیں الا یہ کہ معنیٰ میں بہت زیادہ تغیر آجائے۔(جد الممتار علیٰ رد المحتار،ج03،حاشیۃ1353،ص 370،371، دار الکتب العلمیہ،بیروت)

    قولِ امام کے مختار ہونے کی تصریح کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ”فتاوٰی رضویہ“ میں فرماتے ہیں :”بحالتِ فسادِ معنی فسادِ نماز کا حکم مذکور ہمارے امام صاحب اور ان کے اتباع ائمہ متقدمین رضی اللہ عنھم اجمعین کا مذہب تھا اور وہی احوط و مختار ہے۔ اجلہ محققین نے اسی کی تصریح فرمائی ’’ومعلوم ان الفتوی متی اختلف وجب الرجوع الی القول الامام‘‘ (ترجمہ:اور یہ بات معلوم ہے کہ جب اختلاف ہو، تو امام اعظم علیہ الرحمۃ کے قول کی طرف رجوع کرنا واجب ہے)۔“(فتاوٰی رضویہ،ج06، ص 431،432،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)

    آیت کا شان نزول اس طرح ہے :(وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ وَالْمُنافِقِينَ) أَيْ لَا تُطِعْهُمْ فِيمَا يُشِيرُونَ عَلَيْكَ مِنَ الْمُدَاهَنَةِ فِي الدِّينِ وَلَا تُمَالِئْهُمْ.» الْكافِرِينَ«: أبي سفيان وعكرمة وأبي الْأَعْوَرِ السُّلَمِيَّ، قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، لَا تَذْكُرْ آلهتنا بسوء نتبعك. و» الْمُنافِقِينَ«: عبد الله بن أبي وعبد الله ابن سَعْدٍ وَطُعْمَةَ بْنَ أُبَيْرِقٍ، حَثُّوا النَّبِيَّ ﷺ عَلَى إِجَابَتِهِمْ بِتَعِلَّةِ الْمَصْلَحَةِ. و(دَعْ أَذاهُمْ) أَيْ دَعْ أَنْ تُؤْذِيَهُمْ مُجَازَاةً عَلَى إذا يتهم «٢» إِيَّاكَ. فَأَمَرَهُ بِتَرْكِ مُعَاقَبَتِهِمْ، وَالصَّفْحِ عَنْ زَلَلِهِمْ، فَالْمَصْدَرُ عَلَى هَذَا مُضَافٌ إِلَى الْمَفْعُولِ. وَنُسِخَ مِنَ الْآيَةِ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ مَا يَخُصُّ الْكَافِرِينَ، وَنَاسِخُهُ آيَةُ السَّيْفِ ترجمہ:اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانیے، یعنی دین میں نرمی کرنے کے بارے میں جو وہ آپ کو مشورہ دیتے ہیں، اس میں ان کی اطاعت نہ کیجیے اور نہ ان کا ساتھ دیجیے۔کافروں سے مراد ابو سفیان، عکرمۃ بن أبي جهل اور أبو الأعور السلمي ہیں۔ انہوں نے کہا: اے محمد! ہمارے معبودوں کو برا مت کہیے، ہم آپ کی پیروی کریں گے۔اور منافقوں سے مراد عبد الله بن أُبي، عبد الله بن سعد اور طعمة بن أبيرق ہیں۔ انہوں نے نبی ﷺ کو اس بات پر ابھارا کہ مشرکین کی بات مان لی جائے بہانے کے طور پر مصلحت کے نام پر۔اور ﴿وَدَعْ أذاهُمْ﴾ کا مطلب ہے: ان کی ایذاؤں کا بدلہ دینے کے لیے ان کو ایذا دینا چھوڑ دیجیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کو سزا نہ دیں، ان کی لغزشوں سے درگزر کریں۔یہاں 'أذاهم' مصدر مفعول کی طرف مضاف ہے۔اور اس آیت کا وہ حصہ جو کافروں کے بارے میں ہے، آیتِ سیف (قتال کی آیت) کے ذریعے منسوخ ہو گیا۔(تفسیر القرطبی:مکتبہ درالکتب المصریہ القاھرہ) واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 1447 ھ/25اگسٹ 2025ء