بیوی کا شوہر سے لاتعلقی کرنا
    تاریخ: 16 جنوری، 2026
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 604

    سوال

    گھریلو ناراضگیوں کے سبب بیوی شوہر کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے نہ بات چیت کرے اور نہ ہی ازدواجی تعلق قائم کرے تو اس بارے میں کیا حکم ہے کہ کتنے دن تک تعلق قائم نہ کرنے کی چھوٹ ہے اور کتنے دن میں تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔

    سائل:فواد احمد شمسی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    عورت کا مرد سے تعلق قائم کرنے سے انکار کرنا انتہائی قبیح عمل ہے ، اگر چہ مرد سے نارااضگی ہو، اگرچہ کسی بھی طرح کے معاملات ہوں پھر بھی تعلق سے انکار کرنا ہرگز جائز نہیں ، ہاں اگر پہلی رات حق مہر کے ادائیگی کے مطالبے تک انکار کرے تو حرج نہیں ۔احادیث مبارکہ میں بکثرت ایسی عورت کو ملعونہ قرار دیا گیا ہے چناچہ بخاری میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِح۔ترجمہ: جب کسی شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتہ اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔(بخاری،حدیث نمبر:3237)

    بخاری میں ایک اور مقام پر ہے:وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِع۔ترجمہ: جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔(بخاری،حدیث نمبر:5194)

    اسی طرح مسلم میں ہے: وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا".ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، وہ انکار کردے تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔(مسلم : حدیث نمبر 1463)

    پھر ترمذی میں ہے:عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ:ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ ضرور اس کے پاس آئے، اگر چہ تنور پر روٹی بنارہی ہو( تب بھی چلی آئے)۔(ترمذی: حدیث نمبر1160)

    پھر اگر ناراضگی کسی معقول بناء پر نہیں ہے تو عورت کو چاہئے کہ فورا مرد سے معافی مانگ کر اسے راضی کرلے۔ کیونکہ شوہر کی نافرمانی گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،خلاق عالم نے بیوی کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ شوہر کی ہر صورت میں تابعدار اور فرمان بردار رہے جب تک کہ شوہر کسی خلاف شرع کام کا حکم نہ کرے ، قرآن مجید میں اللہ کریم نے شوہر کو بیوی کے لیے حاکم یعنی حکمران کہا ہے، اوربتایا ہے کہ نیک بیوی وہ ہے جو شوہر کی فرمانبردار اور ادب کرنے والی ہو، اور شوہروں کو حکم دیا ہے کہ اگر بیوی نافرمان ہوجائے تو پہلے اسکو سمجھاؤاگر نہ سمجھے تو اس سے بستر جدا کر لو پھر بھی نہ سمجھے تو ہلکا پھلکا مار سکتے ہو،قال اللہ تعالیٰ :الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا۔ ترجمہ: مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اللّٰہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں،جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللّٰہ بلند بڑا ہے ۔ (النساء 34)

    یہی نہیں بلکہ شوہر کے حقوق کا اسقدر خیال رکھا کہ ایک حدیث میں ارشاد فرمادیاکہ اگر اللہ تعالی کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ شوہر کو سجدہ کریں۔ترمذی میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ المَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا»ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں کسی کو اس بات کا حکم دیتا کہ (اللہ کے سوا ) کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔( ترمذی شریف باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ جلد 3ص457)

    اسی طرح بخاری شریف میں ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا أَکْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَائُ يَکْفُرْنَ قِيلَ أَيَکْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ يَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْکَ خَيْرًا قَطُّ۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوزخ دکھلائی گئی، تو اس کی رہنے والی زیادہ تر میں نے عورتوں کو پایا، وجہ یہ ہے کہ وہ کفر کرتی ہیں، عرض کیا گیا، کیا اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ تو آپ ﷺنے فرمایا کہ شوہر کا کفر کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی عورت کے ساتھ احسان کرتے رہو، پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے، تو فورا کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔(صحیح البخاری، باب کفران العشیر حدیث نمبر 29)

    اسی طرح ترمذی میں ہے:عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ»ترجمہ:حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کہتی ہیں کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجو عورت اس حال میں اس دنیا سے گئی کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو جنت میں داخل ہوجائے گی۔(ترمذی شریف باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ جلد 3ص459)

    خلاصہ یہ ہے کہ عورت کو چاہیے کہ جماع سے منع نہ کرے ، لیکن ان تمام کے باوجود دونوں کے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔بلکہ وہ بدستور میاں بیوی ہی رہیں گے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 ذیعقدہ 1441 ھ/26 جون 2020 ء