frozen mukhtalif aqsam ke samose waghera ki tashheer aur online order le kar bechna
سوال
ایک آن لائن کام ہے جس میں واٹس ایپ اور فیس بُک وغیرہ کے ذریعے مختلف اقسام کی Frozen یعنی بغیر فرائی شدہ مختلف اقسام کے سموسے، رول ،نگٹس، پیٹس، قیمہ، دہی بھلے وغیرہ کی تشہیر کی جاتی ہے اور آن لائن آرڈر آنے پر انھیں گھر پر تیار کر کے بیچا جاتا ہے جبکہ آرڈر آنے کے وقت بعض اوقات تیار نہیں ہوتا ۔اس بارے شرعی رہنائی فرمائیں ۔
سائل :عبداللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئلہ کا جواب یہ ہے فروزن (یعنی بغیر فرائی شدہ) مختلف اقسام کے سموسے، رول، نگٹس، پیٹس وغیرہ کی تشہیر کرنا اور آن لائن آرڈر موصول ہونے پر انہیں تیار کر کے فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، اگرچہ آرڈر کے وقت وہ مال فروخت کنندہ کی ملکیت اور قبضے میں موجود نہ ہو۔ فقہی اصطلاح میں ایسے معاملے کو "بیعِ استصناع" کہا جاتا ہے، جو اگرچہ اصولی طور پر قیاس کے خلاف ہے، کیونکہ بیع کے درست ہونے کے لیے شرط ہے کہ مبیع (فروخت کی جانے والی چیز) عقد کے وقت موجود ہو، جب کہ بیعِ استصناع میں چیز بعد میں تیار کی جاتی ہے؛ تاہم عرفِ عام اور تعامل کی بنیاد پر فقہائے کرام نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ اس بیع کے جواز کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کا آرڈر دیا جا رہا ہو، اس پر عرف جاری ہو چکا ہو، اور معاہدے کے وقت قیمت، نوع، جنس، مقدار، ڈلیوری کا مقام اور ڈلیوری چارجز (یعنی فری ہوگی یا خریدار ادا کرے گا) سب کچھ واضح اور متعین ہو، تاکہ بعد میں کسی قسم کا جھگڑا، نزاع پیدا نہ ہو۔ اگر ان تمام شرائط کا لحاظ رکھا جائے تو اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز اور درست ہے۔
بیع استصناع جائز ہے اس کے متعلق ''المبسوط للسرخسی'' میں ہے :"وإنما جوزنا الاستصناع فیما فیہ تعامل ففیما لا تعامل نأخذ بأصل القیاس. ترجمہ :ہم نے استصناع کو جائز کیا ان میں جن میں تعامل ہو پس ان چیزوں میں جن میں تعامل نہیں تو ہم قیاس کو لیں گے ۔
اسی طرح فتاوی ہندیہ میں ہے :" ثم إنما جاز الاستصناع فیما للناس فیہ تعامل إذا بین وصفا علی وجہ یحصل التعریف، أما فیما لا تعامل فیہ … لم یجز. پھر ہم استصناع کو جائز کیا ان چیزوں میں جن میں لوگوں کا تعامل ہے باقی رہی وہ چیزیں جن میں لوگوں کا تعامل نہیں تو استصناع ان میں جائز نہیں ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۳؍۲۰۷، تبیین الحقائق ۴؍۵۲۶-۵۲۷ زکریا)
بیع استصناع کے جائز ہونے کی شرائط کے بارے بدائع الصنائع میں ہے :" وَأَمَّا شَرَائِطُ جَوَازِهِ (فَمِنْهَا): بَيَانُ جِنْسِ الْمَصْنُوعِ، وَنَوْعِهِ وَقَدْرِهِ وَصِفَتِهِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَصِيرُ مَعْلُومًا بِدُونِهِ. ترجمہ : بیع استصناع کے جائز ہونے کی شرائط میں سے ہے جس کا آرڈر دیا گیا ہو اس کی جنس ،نوع ،مقدار ،صفت معلوم ہو کیونکہ جس چیز کا آرڈر دیا جائے وہ ان چیزوں کے کے بغیر معلوم ہوتی ۔(البدائع الصنائع، كتاب الاستصناع،فصل في شرائط جواز الاستصناع،ج:5،ص:3،دار الکتب العلمیۃ)
بیع استصناع ان چیزوں میں جائز ہے جن میں لوگوں کا تعامل جاری ہو چکا ہو اس بارے بھی البدائع الصنائع میں ہے:" (وَمِنْهَا): أَنْ يَكُونَ مِمَّا يَجْرِي فِيهِ التَّعَامُلُ بَيْنَ النَّاسِ - مِنْ أَوَانِي الْحَدِيدِ وَالرَّصَاصِ، وَالنُّحَاسِ وَالزُّجَاجِ، وَالْخِفَافِ وَالنِّعَالِ، وَلُجُمِ الْحَدِيدِ لِلدَّوَابِّ، وَنُصُولِ السُّيُوفِ، وَالسَّكَاكِينِ وَالْقِسِيِّ، وَالنَّبْلِ وَالسِّلَاحِ كُلِّهِ، وَالطَّشْتِ وَالْقُمْقُمَةِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ وَلَا يَجُوزُ فِي الثِّيَابِ؛ لِأَنَّ الْقِيَاسَ يَأْبَى جَوَازَهُ، وَإِنَّمَا جَوَازُهُ - اسْتِحْسَانًا - لِتَعَامُلِ النَّاسِ، وَلَا تَعَامُلَ فِي الثِّيَابِ. ترجمہ : ان شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ (مصنوع ) یعنی جس چیز کا آرڈر دیا جارہا ہےوہ ان چیزوں میں سے ہو جن میں لوگوں کے مابین تعامل جاری ہو جائے ۔ یعنی لوہے ،سیسے ،تانبے ،شیشے کے برتن ،کھال سے بنے ہوئے موزے ،جانوروں کے لیے لوہے کی لگامیں ،تلواروں کی نوکیں، چھریاں، کمانیں، تیر، اور تمام قسم کا اسلحہ؛ طشت اور قمقمہ (چھوٹا برتن) اور اسی طرح کی دیگر چیزیں ،اور کپڑوں میں یہ جائز نہیں ہے؛ کیونکہ قیاس اس کے جواز کو قبول نہیں کرتا۔اور اس کا جواز فقط استحسان کی بنیاد پر ہے، لوگوں کے تعامل (عام عرف) کی وجہ سے، اور کپڑوں میں ایسا کوئی تعامل نہیں ۔(البدائع الصنائع، كتاب الاستصناع،فصل في شرائط جواز الاستصناع،ج:5،ص:3،دار الکتب العلمیۃ)
بیع استصناع کے متعلق اعلیٰ حضرت عظیم البر کت الشاہ اما م احمد رضا خاں علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں :" وجہ یہ ہے کہ کسی سے کوئی چیز اس طرح بنوانا کہ وہ اپنے پاس سے اتنی قیمت کو بنادے یہ صورت 'استصناع 'کہلاتی ہے کہ اگر اس چیز کے یوں بنوانے کا عرف جاری ہے اوراس کی قسم وصفت وحال وپیمانہ وقیمت وغیرہا کی ایسی صاف تصریح ہوگئی ہے کہ کوئی جہالت آئندہ منازعت کے قابل نہ رہے اوراس میں کوئی میعاد مہلت دینے کے لئے ذکر نہ کی گئی تو یہ عقد شرعا جائز ہوتا ہے اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلا روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دے دینا یا اس کا بازار میں موجودرہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا مگر جب اس میں میعاد ایک مہینہ یا زائد کی لگادی جائے تو وہ عقد بیعنہٖ بیع سلم ہوجاتاہے اور اس وقت تمام شرائط بیع سلم کا متحقق ہونا ضروری ہوتاہے۔ اگرا یک بھی رہ گئی عقد فاسد ہوگیا۔ (فتاوی رضویہ ،ج:17،ص:597،رضا فاؤنڈیشن)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13صفر المظفر 1447ھ/08اگست 2024ء